پچھلے دو تین ہفتوں کے دوران بھارت کے پانچ اہم صوبوں (ریاستوں) میں الیکشن ہوئے۔ ان کی خاص حیثیت تھی، اس لیے کہ دو صوبے (تامل ناڈو، کیرالہ) ساؤتھ انڈیا کے تھے جہاں طویل عرصے سے بی جے پی اپنا اثر جمانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ایک (ویسٹ بنگال)مشرقی انڈیا میں ہے، مگر یہاں پندرہ سال سے سخت ترین اینٹی بی جے پی حکومت ممتابنرجی کی قیادت میں چل رہی تھی۔ اسام اگرچہ قدرے سائیڈ (نارتھ ایسٹ انڈیا) پر ہے مگر اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ وہاں مسلمانوں کی خاصی بڑی تعداد آباد ہے اور کشمیر کے بعد مسلم آبادی کے حساب سے دوسرا بڑا صوبہ بنتا ہے۔ پانچویں پانڈیچری کی البتہ زیادہ اہمیت نہیں تھی ویسے بھی وہ مرکز کنٹرولڈ صوبہ ہے۔ ویسٹ بنگال میں بہت بڑا اپ سیٹ ہوا۔ ممتابنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کو بہت بری شکست ہوئی۔ بی جے پی نے دوتہائی اکثریت حاصل کرلی۔ یوں آبادی کے اعتبار سے بھارت کے چوتھے بڑے صوبے میں اب ایک مسلم دشمن شدت پسند ہندوتوا سوچ رکھنے والی پارٹی کی حکومت ہوگی۔ بھارت میں مسلمانوں کے لیے سپیس مزید کم ہوگی، ہندوتوا کی وسعت اور اثرپذیری میں اضافہ ہوگا۔
ویسٹ بنگال کے الیکشن خاصے متنازع ہیں۔ ممتا بنرجی نے کھل کر دھاندلی کا الزام لگایا ہے اور یہ کہا ہے کہ ہمارا اصل مقابلہ بی جے پی سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے تھا۔ یہ بہت سنگین الزام ہے کیونکہ عمومی طور پر بھارت میں الیکشن خاصے شفاف ہوتے رہے ہیں اور الیکشن کمیشن کی کریڈیبلٹی طویل عرصے سے قائم رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اتنا کھل کر کسی اپوزیشن جماعت نے الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا اور الیکشن کمیشن بھی پوری طرح ایکسپوز ہوا ہے۔ معروف بھارتی ویب سائٹ دی وائر اُردو نے اپنی رپورٹ میں کھل کر لکھا:
”بی جے پی کے معاون کے طور پر الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل چھوٹ دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ ووٹر لسٹ کی صفائی کے نام پر تقریباً 27لاکھ سے زائد زندہ ووٹروں سے حق رائے دہی چھین کر الیکشن کمیشن نے یہ ظاہر کر دیا تھا کہ اس کی دلچسپی صرف انتخابات کروانے میں نہیں بلکہ ایسے ووٹروں کو الگ کرنے میں ہے جو بی جے پی کے لیے مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ پولنگ افسران کے نام بھی ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے تھے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے لیے یہ بھی کوئی خاص بات نہیں تھی۔ سب نے دیکھا کہ جن ناموں کو ہٹایا گیا اُن میں مسلمانوں کے نام آبادی کے تناسب سے غیرمتناسب طور پر زیادہ تھے۔ ایسی نشستوں پر جہاں وہ فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے تھے، بڑی تعداد میں ان کے نام حذف کر دیے گئے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران مسلسل ترنمول کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف تادیبی کارروائیاں کی جاتی رہیں۔ اس قدر بے شرمی کا مظاہرہ کیا گیا کہ دو بار کلکتہ ہائی کورٹ کو الیکشن کمیشن کو سرزنش کرنی پڑی۔ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود الیکشن کمیشن ترنمول کانگریس کے لوگوں کو گرفتار کرتا رہا۔ ”
دا وائر اُردو بھارت کی ممتاز نیوز ویب سائٹ ہے، اس کی وجہ شہرت بھی بے باک اور بے لاگ رپورٹنگ ہے۔ اس رپورٹ سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھارتی ریاستی اداروں نے بی جے پی کے ساتھ مل کر ویسٹ بنگال کا الیکشن ممتا بنرجی کو ہرایا اور وہاں پر بی جے پی کا تسلط قائم کردیا۔ ویسٹ بنگال پر ہر جگہ بات ہو رہی ہے مگر کیرالہ اور آسام میں بھی خاصا کچھ ہوا۔ کیرالہ میں بائیں بازو کی آخری مضبوط حکومت ختم ہوگئی، دوسری طرف آسام میں بی جے پی نے اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی۔
٭ کیرالہ میں ایک عہد کا خاتمہ: کیرالہ میں لیفٹ کی شکست محض ایک انتخابی ہار نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی عہد کے خاتمے کی علامت ہے۔ کبھی یہی ریاست بھارتی بائیں بازو کی سب سے بڑی امید سمجھی جاتی تھی۔ مغربی بنگال میں لیفٹ پہلے ہی ختم ہو چکا تھا، تری پورہ ہاتھ سے نکل چکا تھا، اب کیرالہ بھی چلا گیا۔ اس وقت پورے بھارت میں کہیں بھی لیفٹ کی حکومت باقی نہیں رہی۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ پنارائی وجین کی حکومت ابتدا میں کافی مضبوط سمجھی جاتی تھی۔ کورونا کے دنوں میں ان کی کارکردگی کی تعریف ہوئی، فلاحی منصوبے بھی کامیاب رہے مگر وقت کے ساتھ حکومت پر تھکن طاری ہونے لگی۔ دس برس مسلسل اقتدار کے بعد عوام کے اندر تبدیلی کی خواہش پیدا ہونا فطری تھا۔ پھر کچھ تنازعات نے بھی لیفٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ سونے کی اسمگلنگ جیسے معاملات نے اس جماعت کے اس امیج کو دھچکا پہنچایا جو ہمیشہ خود کو دوسری جماعتوں سے زیادہ صاف اور نظریاتی قرار دیتی تھی۔ ایک اور اہم مسئلہ یہ تھا کہ لیفٹ کا بیانیہ وقت کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ نہ رہ سکا۔ آج کا نوجوان ووٹر نظریاتی نعروں سے زیادہ روزگار، معاشی مواقع اور بہتر طرز حکمرانی کی بات سنتا ہے مگر لیفٹ ابھی تک پرانی طبقاتی سیاست کے دائرے میں گھومتا رہا۔
٭اقلیتی ووٹ کا کردار: کیرالہ کے نتائج میں مسلمان اور عیسائی ووٹ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ دونوں اقلیتی کمیونٹیاں ریاست میں بڑی سیاسی قوت رکھتی ہیں۔ اس بار ان کا جھکاؤ واضح طور پر کانگریس اتحاد کی طرف دکھائی دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیرالہ میں مسلمان ووٹر دفاعی انداز میں نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئے۔ ویسٹ بنگال اور آسام میں مسلمان ووٹر اپنے وجود اور شناخت کے تحفظ کے احساس کے ساتھ ووٹ ڈالتے محسوس ہوئے جبکہ کیرالہ میں ان کے ووٹ نے اقتدار کا توازن بدلنے میں عملی کردار ادا کیا۔ مسلم لیگ کی نئی نسل کی قیادت بھی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ نوجوان اور تعلیم یافتہ چہرے سامنے آئے۔ اس سے یہ تاثر کمزور ہوا کہ مسلم سیاست صرف روایتی یا جذباتی انداز میں ہی زندہ رہ سکتی ہے۔ ایک خاص بات یہ بھی ہوئی کہ بعض مسلم خواتین بھی کامیاب ہوئیں، خاص کر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان خاتون وکیل فاطمہ کی کامیابی نے بہت سوں کو حیران کر دیا۔ وہ کیرالہ کی پہلی مسلم خاتون رکن اسمبلی بنی ہیں۔
اگر کیرالہ میں لیفٹ کی شکست کو مختصر انداز میں سمجھنا ہو تو چند بنیادی عوامل سامنے آتے ہیں۔ طویل اقتدار کے بعد پیدا ہونے والی عوامی تھکن، بعض تنازعات سے امیج کو نقصان، اپوزیشن اتحاد کی بہتر حکمت عملی، اقلیتی ووٹ کا زیادہ واضح جھکاؤ، بیانیے کی کمزوری اور قیادت کا حد سے زیادہ مرکزیت اختیار کر لینا۔ یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا ماحول بناتے گئے جس میں شکست تقریباً ناگزیر ہو گئی۔ آسام میں بی جے پی کی تقسیم کی سیاست اور روایتی حربے حاوی رہے۔ اگر کیرالہ نظریاتی زوال کی کہانی ہے تو آسام منظم انتخابی حکمت عملی کی مثال ہے۔ ہمنتا بسوا سرما کی قیادت میں بی جے پی نے نہ صرف حکومت برقرار رکھی بلکہ اپنی سیاسی گرفت مزید مضبوط کر لی۔ آسام میں مسلمان تقریباً ایک تہائی آبادی ہیں۔ بعض اضلاع میں وہ واضح اکثریت رکھتے ہیں مگر سیاسی طور پر ان کا ووٹ متحد نہ رہ سکا۔ ایک حصہ کانگریس کے ساتھ گیا، دوسرا اے آئی یو ڈی ایف کے ساتھ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کئی حلقوں میں بی جے پی نسبتاً کم ووٹ لے کر بھی کامیاب ہو گئی۔ یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے، جن علاقوں میں مسلمان ساٹھ یا ستر فیصد تھے وہاں نمائندگی برقرار رہی، مگر جہاں وہ فیصلہ کن طاقت بن سکتے تھے وہاں تقسیم نے ان کی سیاسی قوت کو کمزور کر دیا۔ البتہ ایک اور فیکٹر بھی ہے کہ آسام میں بی جے پی نے پہلے ہی الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر بعض مسلمان اکثریتی حلقوں کی حد بندی ایسی کرائی کہ وہاں مسلمان ووٹ اقلیت میں چلا گیا۔ یوں کئی حلقوں سے ان کا اثر کم ہوگیا تھا۔
کیرالہ اور آسام بظاہر دو مختلف دنیائیں لگتی ہیں مگر دونوں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہیں۔ کیرالہ میں لیفٹ کا خاتمہ صرف ایک جماعت کی شکست نہیں بلکہ اس سوال کی علامت ہے کہ کیا بھارت میں نظریاتی سیاست کے لیے جگہ سکڑتی جارہی ہے؟ آسام یہ دکھاتا ہے کہ اگر اپوزیشن تقسیم رہے تو بڑی آبادی بھی فیصلہ کن سیاسی طاقت میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔ بعض انڈین تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ ویسٹ بنگال میں بھی پہلے لیفٹ ناکام ہوا، پھر ممتابنرجی آئی، مگر بی جے پی نے آخر شگاف ڈال دیا اور فتح یاب ٹھہری۔ کیرالہ میں لیفٹ ہار گیا، اس بار کانگریس اور مسلم لیگ کا اتحاد آیا مگر کیا خبر اگلی بار ویسٹ بنگال جیسی چالوں سے بی جے پی وہاں بھی آ جائے۔ یہ بہت تشویشناک امر ہوسکتا ہے۔ یہ صرف چند ریاستوں کے انتخابی نتائج نہیں بلکہ بدلتے ہوئے بھارت کی جھلک ہیں۔ آنے والے برسوں میں شاید یہی رجحانات پورے ملک کی سیاست کو مزید واضح انداز میں تشکیل دیں گے۔

