آبنائے ہرمز کی بندش پر اقوام متحدہ ایران پر پابندیاں بھی لگا سکتا ہے، روئٹرز

خبر رساں ادارے روئٹرز نے تین مغربی سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ارکان گزشتہ دنوں امریکا اور بحرین کی حمایت یافتہ ایک قرارداد کے مسودے پر مذاکرات شروع کریں گے۔ اس قرارداد کا مقصد ایران پر ممکنہ پابندیاں عائد کرنا ہے  اور اگر تہران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حملے اور دھمکیاں بند نہ کیں تو طاقت کے استعمال کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں ہونے والی تازہ جھڑپوں نے اس اہم آبی گزرگاہ میں صورت حال کی سنگینی کو واضح کر دیا ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان کنٹرول کی جنگ جاری ہے۔ اس کشیدگی سے چار ہفتے قبل شروع ہونے والی نازک جنگ بندی اور باہمی بحری محاصرے کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 

6 ہزار کلومیٹر رینج، ترکیہ کا نیا ”یلدرم خان“ میزائل کیا ہے؟

حالیہ تصادم میں امریکا نے چھ ایرانی چھوٹی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایرانی میزائلوں نے متحدہ عرب امارات میں ایک تیل کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ واشنگٹن کی جانب سے “پرجیکٹ فریڈم” نامی آپریشن کے آغاز کے اعلان کے بعد پیش آیا ہے جس کا مقصد پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو راستہ فراہم کرنا ہے۔ سفارت کاروں کے مطابق یہ قرارداد ایران پر سفارتی دباؤ ڈالنے اور جنگ کے بعد کے حالات کی منصوبہ بندی کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: 

ملک بھر کے بجلی صارفین کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان

واضح رہے کہ واشنگٹن نے اتحادیوں کو “بحری جہاز رانی کی آزادی کے اتحاد” کے نام سے ایک نئے کثیر القومی بحری اتحاد کی تجویز بھی دی ہے، تاکہ مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کا ڈھانچہ قائم کیا جا سکے۔قرارداد کے مسودے میں ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکیوں اور بارودی سرنگیں بچھانے جیسے اقدامات کی مذمت کی گئی ہے۔
متن میں ان کارروائیوں کو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حملے فوری بند کرے اور انسانی ہمدردی کے تحت امدادی سامان کی ترسیل کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرے۔