(تحریر: اقصیٰ مریم)
زندگی کا ایک بڑا حصہ اسکول اور کالج کی مصروف راہوں میں گزرا مگر گھر کے ماحول میں دین کی ایک خوشبو ہمیشہ بسی رہی۔ دل میں کتابوں سے ایک خاموش سی وابستگی تھی اور اپنے پختون پس منظر کے باعث علمائے کرام کے بیانات سننے کا بھی موقع ملتا رہا۔
انہی مبارک ہستیوں میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب رحمہ اللہ کا نام ایک خاص وقار کے ساتھ دل میں جگہ بناتا گیا۔ اُن کے بیانات کئی بار سنے، کبھی سمجھ آتے کبھی نہیں بھی، مگر ایک عجیب سی تاثیر ہر بار دل پر نقش چھوڑ جاتی تھی۔ وہ ایک علمی خانوادے کے چشم و چراغ تھے، اس لیے اُن کی گفتگو میں فکر کی گہرائی اور علم کی سنجیدگی جھلکتی تھی۔ ابتدا میں اُن کی باتیں جیسے ذہن کی سطح سے ٹکرا کر گزر جاتیں مگر دل پھر بھی اُن کی طرف کھنچتا رہتا۔ پھر جب خود دینی تعلیم کی طرف قدم بڑھایا اور ’دراسات‘ میں داخلہ لیا تو یوں محسوس ہوا جیسے وہی پرانی باتیں اب معنی کے ساتھ نئے دریچے کھول رہی ہوں۔ آج اچانک ایک سہیلی کے اسٹیٹس سے اُن کی شہادت کی خبر ملی تو وقت جیسے لمحہ بھر کو ٹھہر گیا۔ آنکھیں بے اختیار نم ہوگئیں اور دل ایک گہرے دکھ میں ڈوب گیا۔ یقین کرنا دشوار ہورہا تھا کہ وہ سراپا علم و حلم شخصیت اب ہمارے درمیان نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیں: سلام کہنے اور اجازت لینے کی تعلیم
سوچتی ہوں، کیسا سنگ دل ہوگا وہ شخص جس نے اس خاموش طبع، شیریں گفتار اور نورانی وجود کو خون میں نہلانے کی جسارت کی۔ حضرت ؒ کی زندگی سراپا دین تھی، آپ تقویٰ، سادگی و اخلاص کا پیکر تھے۔ انہوں نے عمر بھر دین سیکھنے، سکھانے اور پھیلانے میں گزار دی اور بالآخر اسی عظیم راہ میں اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ سچ میں یہ ایک عظیم سعادت ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں لکھی جاتی۔ آپ ؒپاکستان اور اسلام سے بے حد محبت رکھتے تھے۔ شاید یہی محبت اُن کی زندگی کا حاصل بنی اور آزمائش بھی۔ دل افسردہ ہے کہ اپنے ہی وطن کی مٹی نے ایک ایسا چراغ بجھا دیا جس کی روشنی نہ جانے کتنے دلوں کو منور کررہی تھی۔
اللہ تعالیٰ اپنے فضلِ خاص سے اُن کی شہادت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ اللہ اس اُمت کے علماء کی حفاظت فرمائے اور ہم جیسے نوآموزوں کو اہلِ دل کی صحبت نصیب کرے، تاکہ ہم دین کو سمجھ کر اُس پر عمل کرسکیں۔ آمین یارب العالمین!

