خالد باتونی

ہمارے دوست عاقل خان کو تو آپ جانتے ہی ہیں، آج ہم اپنے جس دوست کا آپ سے تعارف کرانا چاہتے ہیں اس کا نام والدین نے صرف خالد رکھا تھا مگر اس کے والدین کے ہم خیال گاؤں میں اور لوگ بھی تھے لہٰذا ہماری کلاس میں مزید تین لڑکوں کا نام بھی خالد ہی تھا۔ روزانہ صبح جب استاد جی حاضری لگانے کیلئے بچوں کے نام پکارتے تو خالد چار بار کہنا پڑتا لہٰذا استاد جی نے ایک روز چاروں خالدوں کو کھڑا ہونے کا حکم دیا، ایک کا قد کافی لمبا تھا، اسے لمبا کا نام دے کر بٹھا دیا، دوسرے کو چھوٹا قرار دے کر بٹھا دیا، تیسرا گول مٹول ہونے کے ناتے موٹا ٹھہرا، چوتھے کی رنگت دیکھتے ہوئے استاد جی کے منہ سے صرف کا ہی نکلا تھا کہ فوراً رک گئے اور مسکرا کر بولے چلو تم اکیلے ہی خالد ٹھہرے، چنانچہ اس کے بعد سے حاضری لگاتے وقت چھوٹا موٹا اور لمبا کے بعد خالد پکارا جانے لگا۔ استاد جی کی عدم موجودی میں لڑکوں کو شور کرنے سے باز رہنے کی ہدایت ہوا کرتی تھی، اتفاق ایسا ہوا کہ دو دن لگاتار استاد جی کی آمد پر خالد شور کرتے پکڑا گیا، استاد جی نے سرزنش کرنے کے ساتھ دوسرا کام یہ کیا کہ حاضری لگاتے ہوئے چھوٹا موٹا اور لمبا کے بعد باتونی پکارا، بس تب سے اس کا نام ہی خالد باتونی پڑ گیا اور وہ اس قدر ”سعادت مند” نکلا کہ استاد جی کے دیے نام کی ہمیشہ لاج رکھی۔ کئی مرتبہ بطورِ سزا استاد جی سے ڈنڈے بھی کھائے مگر اپنی ”وجہ تسمیہ” پر کبھی حرف نہ آنے دیا۔

خالد باتونی کلاس فیلو ہونے کے علاوہ ہمارا پڑوسی بھی تھا۔ ساتویں کلاس تک ہم اس کے ساتھ پڑھتے رہے۔ اصولاً تو ہمیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ ساتویں کلاس تک ہم دونوں اکٹھے پڑھتے رہے مگر اپنی ”اصول پسندی” کے باعث ایسا کہنا مناسب نہ سمجھا کیونکہ اپنے ”پڑھنے” کے تو ہم گواہ ہیں، خالد باتونی کوپڑھتے کم از کم ہم نے کبھی نہیں دیکھا، ہاں یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ اسکول بڑی ہی باقاعدگی سے آتا تھا۔ کلاس میں جب کبھی استاد جی نے اسے کھڑا کر کے کوئی سوال پوچھا وہ باتونی ہونے کے باوجود بالکل خاموش رہا، شاید اس نے یہ بات پلے سے باندھ رکھی تھی کہ بڑوں کا احترام کرتے ہیں، کبھی انہیں جواب نہیں دیتے۔

بہرحال باتونی کے علاوہ خالد کے نام کے ساتھ ایک اور لاحقہ بھی مشہور ہوا مگر حق دوستی ادا کرتے ہوئے ہم نے اس کے تعارف کو باتونی تک ہی محدود رکھا ہے۔ برسبیل تذکرہ بیان کیے دیتے ہیں کہ ہمارا اسکول گاؤں سے باہر کافی فاصلے پر واقع تھا۔ اس زمانے میں ٹرانسپورٹ تو ہوتی نہیں تھی، سارے بچے پیدل ہی اسکول جاتے، سوائے خالد کے۔ وہ اسکول کا واحد طالب علم تھا جو اپنی ذاتی ”ٹرانسپورٹ” پر سوار ہو کر اسکول آتا۔ ہم دو پہیوں والی سائیکل نہیں بلکہ فور وہیل ٹرانسپورٹ کی بات کر رہے ہیں، جسے عوامی زبان میںکھوتا کہا جاتا تھا۔ لڑکے جب دیکھتے کہ خالد کھوتے پر سوار آ رہا ہے تو شرارتی انداز میں آواز لگاتے ارے او کھوتے ! کہاں جا رہے ہو تم؟ جواب ہمیشہ خالد کی طرف سے آتا نظر نہیں آ رہا اسکول جا رہا ہوں۔ خالد کی اس تصریح کو لڑکوں نے اعتراف قرار دے ڈالا اور دور سے آتے دیکھ کر آوازے کسنے لگے کہ وہ دیکھو کھوتا اسکول جا رہا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ شرارتی لڑکوں کی اس ناروا بات کو ہم ذاتی طور پر محض تہمت ہی خیال کرتے ہیں کیونکہ ہم نے کبھی بھی اسے ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے نہیں دیکھا۔ کھوتے کو اپنا کلاس فیلو نہ ماننے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ خالدفرق برقرار رکھنے کیلئے اپنے کھوتے کو کلاس روم کے باہر ہی باندھ دیا کرتا تھا جو کھڑکی سے نظر آتا رہتا۔ شرارتی لڑکوں کا معاملہ تو رہا ایک طرف، خود استاد جی نے بھی زبان سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے ہمیں اشتباہ میں ڈال دیا۔ وہ یوں کہ حاضری لگاتے وقت جب خالد کا نام آتا تو وہ پکارنے کی بجائے گردن موڑ کر کھڑکی سے باہر بندھے کھوتے پر نظر ڈالتے اور مسکرا کر فرماتے خالد حاضر ہے۔ ایک دن شاید استاد جی کسی اور دھیان میں تھے، حاضری لگاتے ہوئے اپنا معمول بھول گئے اور رجسٹر پر دیکھ کر خالد کا نام پکار ڈالا، حسن اتفاق سمجھیں کہ خالد کے یس سر بولنے سے پہلے ہی کھڑکی کے باہر سے آواز گونجی ”ڈھینچوں ڈھینچوں۔” استاد جی نے سٹپٹا کر سر اٹھایا اور صورتحال سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہنس کر بولے کھوتے کو بھی ”عرفانِ ذات” حاصل ہے یا پھر وہ اپنے آپ کو نعم البدل سمجھتا ہے۔

خالد کا معمول تھا کہ اسکول پہنچ کر گدھے کو کلاس روم کی کھڑکی کے باہر باندھ دیتا۔ اس حوالے سے دوسرا دلچسپ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک دفعہ کلاس کے اندر اور باہر دونوں جگہ ہی خالد دکھائی نہیں دے رہا تھا، حاضری لگاتے وقت استاد جی نے کلاس کو بتایا کہ خالد نے چھٹی کی درخواست کے ساتھ باقاعدہ بیماری کا سرٹیفکیٹ بھی بھیجا ہے اور پھر معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا ڈنگر ڈاکٹر نے اپنی اسٹیمب لگا کر تصدیق کی ہے کہ گدھا بیمار ہے اور چلنے پھرنے سے معذور ہے، چنانچہ دو دن اسکول نہیں آ سکے گا۔ سارے لڑکے ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ دو دن کے بعد جب خالد اسکول آیا تو پوری کلاس اندر کی بجائے باہر بندھے کھوتے کی تیمارداری کرنے پہنچ گئی۔ یہ بات واقعتا درست ہے کہ خالد کی بجائے اس کا کھوتا اسکول آنے کا عادی ہو گیا تھا اور پورا گاؤں اس کی اس خوبی کا معترف بھی تھا، چنانچہ جب کبھی کسی گھر میں صبح کوئی بچہ رو رو کر اسکول نہ جانے کی ضد کر رہا ہوتا تو اس کی ماں ڈانٹتے ہوئے اسے یہ کہتی ”کھوتا بن کھوتا! کبھی اسے بھی اسکول سے چھٹی کرتے دیکھا ہے؟”

ایک بار تو عجیب لطیفہ ہوا، گاؤں والوں نے ایک چور کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ بطورِ سزا اس کا منہ کالا کر کے کھوتے پر بٹھانے کا مرحلہ آیا تو نظر انتخاب خالد پر، اوہ معاف کیجئے گا ہمارا مطلب ہے خالد کے کھوتے پر پڑی۔ اس پر جیسے ہی چور کو بٹھایا گیا وہ ازخود ہی اسکول کی جانب چل پڑا اور سیدھا اسکول پہنچ کر ہماری کلاس کے باہر دم لیا۔

اٹکھیلیاں کالم کے بیچ اگر آپ کو کہیں تفنن برطرف لکھا مل جائے تو سمجھ لیجیے گا کہ ضرور بالضرور کمپوزر ہی کی غلطی ہے، ہم نے یقینا ”تفنن ہر طرف” لکھا ہوگا۔ غیر سنجیدہ تحریر میں تفنن کو برطرف کرنے کا کیا موقع! سو از راہِ تفنن مزید عرض ہے کہ خالد کے باقاعدگی سے اسکول آنے جانے کی روٹین دیکھ کربظاہر یہ گمان ہوتا تھا جیسے دوسرے لڑکوں کی طرح وہ بھی ایک طالب علم ہی ہو گا (یہاں خالد سے ہماری مراد وہ شخص ہے جو کھوتے کے اوپر بیٹھا ہوتا تھا) بریکٹ کے اندر والی وضاحت کی ضرورت اس لئے پڑی کہ باقاعدگی سے اسکول تو کھوتا بھی آتا ہی تھا اور ہر سال رزلٹ کے بعد کلاس اس کی بھی بدل جایا کرتی تھی کیونکہ وہ ہمارے نئے کلاس روم کی کھڑکی کے ساتھ بندھا ملتا تھا۔ بات مگر خالد کی ہو رہی ہے جس پر طالب علم ہونے کا گمان ہوتا تھا اور اس گمان کو تقویت اس عجیب بات سے بھی ملتی کہ ہر سالانہ امتحان میں وہ امتیازی نمبروں سے پاس ہو کر دوسرے طالب علموں کی طرح اگلی جماعت میں بھی چلا جاتا مگر اس کی پڑھائی کا کوئی اثر اس کی شخصیت پر ہمیں کبھی نظر نہ آیا اور یہ معاملہ ہمارے لئے ہمیشہ ایک پراسرار معما بنا رہا کہ آخر وہ امتحان میں پاس ہوتا کیسے ہے۔ (جاری ہے)

دوسری قسط:
ہمسایہ ہونے کے باعث ہم جانتے تھے کہ اسکول سے گھر جانے کے بعد اس نے بندھے ہوئے بستے کی گٹھان کبھی نہیں کھولی تھی۔ ہمارے بچپن میں بستے کی نوعیت یہ ہوا کرتی تھی کہ ایک کپڑا بچھا کر پہلے اس کے اوپر سلیٹ رکھی جاتی اور پھر ترتیب سے تہہ در تہہ کتابیں اور کاپیاں، آخر میں سب سے اوپر دوات رکھنے کے بعد کپڑے کے چاروں کونے پکڑ کر اوپر گٹھان لگا لی جاتی۔ یوں ہمارا بستہ تیار ہو جاتا، تختی ہم دوسرے ہاتھ میں اٹھا کر چلتے۔ خالد نے کئی بار ہمیں یہ بات البتہ ضرور بتائی تھی کہ وہ ساتویں کلاس تک اسکول کی تعلیم جاری رکھے گا اور ہوا بھی یہی۔ ہر سال وہ امتحان دیتا اور اسے اپنے پاس ہونے کا یقین بھی ہوتا جس کا مظاہرہ ہم یوں دیکھتے کہ رزلٹ والے روز خالد اپنے کھوتے کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالے سکول آتا جس کی وجہ شاید یہ ہو کہ اس کی نظر میں سارا کریڈٹ اس کے کھوتے ہی کو جاتا تھا۔ بہرحال توقع کے عین مطابق خالد ہمیشہ امتیازی نمبروں سے پاس قرار پاتا۔ ساتویں کلاس کا امتحان پاس کر لینے کے بعد جب اس نے اسکول چھوڑنے کا باضابطہ اعلان کیا تو شام کے وقت اس کے گھر جا کر ہم نے اس معما کو حل کرنے کی گزارش کی۔ خالد کھلکھلا کر ہنسا اور بولا کیا واقعی تمہیں اندر کی بات معلوم نہیں ہے ؟ ہم نے جھینپ کر اپنی لاعلمی کا اعتراف کیا تو کہنے لگا میرے ماموں امتیاز صاحب کو جانتے ہو؟ ہم نے فوراً کہا کیوں نہیں، امتیاز صاحب تو ہمارے اسکول میں پڑھاتے ہیں۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا ماموں جان نے زبردستی مجھے اسکول میں داخل کرایا تھا، ان کا کہنا تھا کہ آٹھویں کلاس کا امتحان بورڈ لیتا ہے، اس کا میں کچھ نہیں کر سکتا، البتہ اس سے پہلے اسکول کے کسی امتحان میں تمہیں فیل نہیں ہونے دوں گا۔ ہمارا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور خالد نے ہماری کیفیت سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا: تم بالکل صحیح کہا کرتے تھے، میں ہرسال واقعی ”امتیازی” نمبروں ہی سے پاس ہوتا چلا آیا ہوں۔

خالد باتونی کے حوالے سے بچپن کی کچھ یادیں ہم نے پچھلے کالم میں بیان کیں، آج اس کی جوانی اور مابعد کا تذکرہ رہے گا۔ ہم نے خالد کو خالد باتونی لکھا تو ضرور ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اتنا زیادہ بولتا ہے کہ لفظ باتونی بھی اس کے لیے چھوٹا محسوس ہوتا ہے، ہم نے آج تک جتنے باتونی دیکھے ہیں (معاف کیجئے گا سنے ہیں) وہ سب بھی اگر خالد باتونی کے مقابل اکٹھے لا کھڑے کیے جائیں تو یقینا وہ گونگے شمار ہوں گے۔ خالد اگر کبھی آپ کو چپ نظر آئے تو سمجھ جائیں کہ دو میں سے ایک بات ضرور ہے، پہلی یہ کہ وہ سو رہا ہے اور دوسری یہ کہ وہ اپنی بیگم کے سامنے بیٹھا ہوا ہے۔ اپنی بیگم کے سامنے اس کی حالت دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے اسے سپنی سونگھ گئی ہے۔ (محاورہ تو سانپ سونگھنے کا ہے مگر بیگم کی نسبت سے ہم نے سپنی لکھنا مناسب جانا) موصوفہ کی موجودی میں بھی ہم نے ایک بار اسے نان اسٹاپ بولتے دیکھا ہے لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ خالد کے نکاح کی تقریب جاری تھی اور ابھی ایجاب و قبول نہیں ہوا تھا بلکہ نکاح خوان بیچارہ ہکا بکا بیٹھا خالد باتونی کے چپ ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ وہاں کی صورتحال اس بنا پر کچھ زیادہ ہی مضحکہ خیز بن گئی تھی کہ خالد کی بجائے نکاح خوان دولہا معلوم ہو رہا تھا کیونکہ اول تو وہ عام رواج کے مطابق دولہے کی مانند بالکل خاموش بیٹھا تھا اور دوسرے یہ کہ اپنی ہنسی چھپانے کیلئے اسے بعض اوقات اپنے منہ پر دولھے کی طرح رومال بھی رکھنا پڑ جاتا تھا۔ اگر اس دولہا نما نکاح خوان کو کسی دوسری شادی کی تقریب میں نکاح پڑھانے کیلئے جانا نہ ہوتا تو شاید خالد باتونی کا نکاح وقوع پذیر ہونے میں کئی گھنٹوں کی مزید تاخیر ہو جاتی مگر اپنی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے بیچارے نکاح خوان نے تقریباً پون گھنٹہ خالد کا خطاب سننے کے بعد آخرکار صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا اور بڑی ہی لجاجت کے ساتھ خالد سے فقط دو تین منٹ کے وقفے کی گزارش کر دی۔ خالد کو بھی شاید سانس لینے کیلئے ویسے بھی رکنا تھا، اس نے بڑی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو دو تین منٹ عنایت کر دیے اور وقتی طور پر اپنی زبان کو لگام دے دی۔ نکاح خوان نے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کمال چابک دستی سے جلدی جلدی ایجاب و قبول کروا دیا۔ ہمیں تو یوں لگا کہ خالد باتونی نے اپنی زبان کو جو لگام دی تھی، نکاح خوان نے ان دو بولوں کے ذریعے وہ لگام اس کی بیگم کے حوالے کر دی ہے، کیونکہ قبول ہے کہنے کے بعد گویا خالد کی زبان پر تالا ہی لگ گیا اور پھر اس تقریب میں اس کی تقریر کے آخری الفاظ یہی ثابت ہوئے۔ ویسے آپس کی بات ہے، ایک خالد پر ہی کیا موقوف ہر شریف آدمی اپنی بیگم کے سامنے ایسے مؤدب ہو کر بیٹھا ہوتا ہے کہ آپ اسے ہمہ تن گوش کا صحیح مصداق قرار دے سکتے ہیں۔

شادی کے کافی عرصہ بعد بھی ایک دفعہ ہمیں خالد باتونی کو خلافِ معمول چپ بیٹھے دیکھنے کا اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ اس کی خاموشی کے دونوں اسباب میں سے کوئی سبب بھی موجود نہ تھا، یعنی نہ تو اس کی بیگم اس کے سامنے بیٹھی تھی اور نہ ہی وہ سو رہا تھا۔ اس کے جاگنے کا ثبوت ہمارے پاس یہ ہے کہ وقفے وقفے سے وہ کبھی ہوں اور کبھی ہاں بول رہا تھا۔ موقع چونکہ نادر الوقوع تھا لہٰذا قابلِ دید جان کر ہم خاموشی سے کھڑے دیکھنے لگے، آخر پندرہ بیس منٹ تک محض ہوں ہاں کرتے رہنے کے بعد جب اس نے موبائل فون کا بٹن دبا کر جیب میں ڈالا تو ہمیں پتا چلا کہ وہ بلیو ٹوتھ ائیر بڈز کے ذریعے کسی شخص کی کال ریسیو کر رہا تھا۔ جب اس نے ہمیں تاڑتے پایا تو ذرا جھینپ کر بولا یار میری بیگم کی کال تھی، اس سے ”باتیں” کر رہا تھا۔ ہم نے مسکراتے ہوئے کہا وضاحت دینے کی کوئی ضرورت نہیں، ہوں اور ہاں کو باتیں کہنے کی بھلا کیا ضرورت ہے! تمہارے بتائے بغیر بھی ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ کال تمہارا ناطقہ بند کرنے والی ہی کی تھی۔ اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس کے بعد ہمیں کتنی دیر تک خالد باتونی کی باتیں سننا پڑیں۔ (جاری ہے)

تیسری قسط:
ایک اور بات خالد باتونی کے حوالے سے یہ بھی آپ کو بتاتے چلیں کہ جس طرح عموماً دو دوست آپس میں باہمی دلچسپی کے کسی موضوع پر باتیں کیا کرتے ہیں، خالد کے ساتھ کوئی دوست بھی تبادلہ خیالات نہیں کر پایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ تبادلہ خیالات کیلئے ضروری ہے کہ ایک فریق پہلے اپنا خیال بیان کر کے چپ بھی ہو تاکہ دوسرے کو بھی اپنا خیال بتانے کا موقع مل سکے۔ یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ پہلے خیال کا اظہار ہمیشہ خالد ہی کرتا ہے اور دوسرا بیچارہ اپنی باری کا انتظار ہی کرتا رہ جاتا ہے، چنانچہ دوستوں کا معمول ہے کہ اگر کبھی کسی سنجیدہ موضوع پر باہم گفتگو کرنی ہو تو اس بات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں کہ خالد کو میٹنگ کے وقت اور مقام کا علم نہ ہونے پائے۔ اگر یہ احتیاط نہ کی جائے اور خبر لیک ہونے پر خالد باتونی بھی میٹنگ میں آ دھمکے تو تمام دوست محض سامعین بن کے رہ جاتے ہیں۔

ہمارے دوستوں کو ایک ایسی سہولت حاصل ہے جو ہمیں حاصل نہیں، وہ یہ کہ ان سے آتے جاتے خالد باتونی کی مڈبھیڑ اگر ہو جائے اور وہ انہیں روک کر ذرا سی گپ شپ شروع کرے تو وہ حسبِ استطاعت سماعت کے بعد وہ بڑی شائستگی سے کسی ضروری کام کے بہانے اس سے جان چھڑا لیتے ہیں مگر ہمارا معاملہ مختلف ہے، ہمیں تو مقررہ وقت تک روزانہ اپنے کلینک پر بیٹھنا ہی پڑتا ہے، اس دوران خالد باتونی جب چاہے وارد ہو سکتا ہے اور ہم اس سے جان چھڑانے کیلئے یہ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے کہ ہمیں کسی ضروری کام سے جانا ہے۔ ہمارا دورانیہ سماعت سراسر خالد کی اپنی صوابدید پر منحصر ہوا کرتا ہے۔ ایک روز جب خالد باتونی ڈیڑھ گھنٹے ہماری سمع خراشی کرنے کے بعد خود اپنے کسی ضروری کام کی بنا پر کلینک سے رخصت ہوا تو ہمارا ڈسپنسر ذرا جھجکتے ہوئے کہنے لگا، ڈاکٹر صاحب میں آپ کو ایک تجویز دینا چاہتا ہوں، اگر مناسب لگے تو مان لیجیے گا۔ ہم نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا کیسی تجویز؟ کہنے لگا ایک نوٹس لکھوا کر کلینک کے اندر لگا دیتے ہیں۔ ہم نے گھبرا کر کہا یہ کیسی عجیب اور اخلاق سے گری ہوئی بات کر رہے ہو تم! خود سوچو ہم اس طرح کا نوٹس کلینک میں کیسے لگا سکتے ہیں کہ کلینک میں خالد کا داخلہ داخلہ منع ہے…
ہماری بات سن کر ڈسپنسر کی ہنسی نکل گئی، فوراً بولا نہیں سر میں بھلا ایسی غلط بات کیسے کر سکتا ہوں، یہ تو سراسر آپ کی اپنی سوچ ہے۔ میں جس نوٹس کی تجویز دے رہا ہوں، اس پر تو یہ جملہ لکھا ہو گا: خاموش رہنا بھی عبادت ہے…
ہمیں اپنی سوچ پر ڈسپنسر کے تبصرے نے کچھ شرمندہ تو کیا مگر شرمندگی چھپاتے ہوئے کہا ہاں تمہاری اس تجویز پر عمل کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی، ایسا کر کے دیکھو مگر ہمیں بہرحال اس کے کار آمد ہونے کا امکان معدوم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اگلی صبح ہمارے کلینک پہنچے سے پہلے ہی ڈسپنسر مذکورہ نوٹس چسپاں کر چکا تھا، ہم دیکھ کر مسکرائے اور اندر جا کے اپنی چیئر پر ”محو عبادت” ہو گئے، مطلب یہ کہ خاموش بیٹھ گئے۔

ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ خالد باتونی ہمیں کلینک کے باہر اپنی بائیک پارک کرتا دکھائی دیا۔ ذہن میں آیا کہ جل تو جلال تو، آئی بلا ٹال تو پڑھنا شروع کر دیں مگر دو وجہ سے یہ خیال جھٹک دیا۔ پہلی یہ کہ شاید نوٹس پڑھ کر بلا آج کلینک کے اندر خاموش رہے اور دوسری یہ کہ اس سے قبل بھی ایسے مواقع پر ہم یہ وظیفہ بڑی عقیدت کے ساتھ پڑھتے آئے ہیں مگر ایک بار بھی یہ مؤثر ثابت نہیں ہوا، سو آج پڑھنے کا بھی کوئی فائدہ یقینا نہیں ہونا۔ خالد باتونی نے حسبِ معمول مسکراتے ہوئے کلینک میں داخل ہوا اور ٹھٹک کر سامنے لگا نوٹس پڑھنے لگا۔ ہم ذرا سی دیر کیلئے اس خوش فہمی میں مبتلا ہوئے کہ شاید اپنے آپ کو اس نوٹس کا ٹارگٹ سمجھ کر اس کی مسکراہٹ غائب ہو جائے گی مگر یہ ہماری غلط فہمی تھی، وہ بدستور مسکراتا رہا بلکہ یوں لگا جیسے اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ پہلے اس نے بہ آواز بلند یہ جملہ پڑھا اور پھر ہمارے سینے پر مونگ دلتے ہوئے بولا: واہ ڈاکٹر صاحب، واہ کیا بات ہے! آج توگفتگو کیلئے آپ نے بہت ہی خوبصورت موضوع تجویز کر رکھا ہے۔ یہ سنتے ہی ہم دم بخود اس کا منہ تکنے لگے اور اس نے بلاتوقف خاموشی کے فضائل پر اپنے لیکچر کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اگر کلینک پر ہم اکیلے بیٹھے ہوتے تو اور بات تھی مگر حسن اتفاق سے اس روزخلافِ معمول مریضوں کی تعداد کچھ زیادہ ہی تھی، جن میں سے کوئی ایک بھی کلینک پر تقریر سننے کی نیت سے قطعاً نہیں آیا تھا۔ خالد باتونی کے خطاب کو پہلے دو منٹ تو انہوں نے اس امید پر دلچسپی سے سنا کہ شاید ابھی اختتام پذیر ہونے والا ہے مگر اس کے بعد خالد کی رفتارِ گفتار دیکھتے ہوئے ان کی ساری امیدیں دم توڑتی دکھائی دیں۔ ہمیں بے چارے مریضوں کی بے چینی واضح نظر آ رہی تھی۔ ظاہر ہے خالد اگر دوست تھا تو ہمارا تھا، ان بے چاروں کا کیا قصور! ہم خاموشی سے اس کی تقریر سنیں تو اسے حق دوستی ادا کرنا کہا جا سکتا ہے لیکن وہ بیچارے بھلا کیوں ناکردہ گناہ کا خمیازہ بھگتیں!

جب معاملہ بگڑتا نظر آیا اور مریضوں کو ہم نے آپس میں کھسر پھسر کرتے دیکھا تو لا محالہ فکر لاحق ہوئی کیونکہ ایک جانب اگر دوستی تھی تو دوسری جانب معاملہ روزی روٹی کا تھا، لہٰذا ہم اصلاح احوال کی کی کوئی ایسی مناسب تدبیر سوچنے لگے جس سے فریقین میں سے کسی کی بھی دل آزاری نہ ہو۔ فریقین سے ہماری مراد ہے ایک طرف خالد باتونی اور دوسری جانب ہمارے مریض۔ آخر قسمت نے یاور ی کی اور ہمیں ایک ترکیب سوجھ ہی گئی، ہم نے خالد باتونی کی نظر بچا کر مریضوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اپنی انگلی سر کے پاس لے جا کر گول چکر میں گھمائی، یہ اشارہ عقلمندوں کیلئے کافی ثابت ہوا اور توقع کے عین مطابق مریض موصوف کے ذہنی توازن کی خرابی کا جان کر اطمینان کا سانس لیا اور باقاعدہ محظوظ ہونے لگے۔ ہمیں اس صورتحال سے ایک کاروباری فائدہ بھی مفت میں حاصل ہو گیا، وہ یوں کہ کئی مریضوں نے اپنی باری پر ہم سے کہا ڈاکٹر صاحب ہمیں تو علم ہی نہیں تھا کہ آپ ذہنی امراض کا بھی علاج کرتے ہیں اور دو خواتین نے تو اپنے اس ارادے کا اظہار بھی کر دیا کہ وہ اپنی ساس کو کسی بہانے سے ہمارے پاس لائیں گی کیونکہ وہ بھی اس شخص کی طرح بہت باتونی واقع ہوئی ہیں۔ ہم نے ان خواتین کی بات سن کر صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا، اور کرتے بھی تو کیا! ان سے یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہر بہو کو اپنی ساس میں یہی بیماری نظر آتی ہے۔ (جاری ہے)

چوتھی و آخری قسط:
بہرحال کلینک پر لگا نوٹس ہمارے خدشات کے عین مطابق خالد باتونی کو چپ کرانے میں نہ صرف یہ کہ ناکام رہا بلکہ الٹا اس کی بدولت خالد کو تقریر کا ایک موضوع مل گیا۔
ایک روز کا ذکر ہے خالد کلینک میں آیا تو خلاف معمول کچھ جلدی میں نظر آ رہا تھا، بیٹھتے ہی کہنے لگا آج آپ کو زیادہ کمپنی نہیں دے سکوں گا۔ ہم نے اپنی خوشی چھپاتے ہوئے پوچھا: کیوں، خیریت تو ہے؟ ذرا کراہتے ہوئے بولا رات کھانے کے بعد سے مروڑ کے ساتھ لوز موشن ہو رہے ہیں، گھر میں ایک میڈیسن پڑی تھی، وہ لی تو ہے مگر افاقہ نہیں ہو رہا۔ خالد کی ایسی مفید بیماری پر دل ہی دل میں ہم نے خدا کا شکر ادا کیا کیونکہ مروڑ اور لوزموشن کے باعث اس کا زیادہ دیر رکنے کا امکان نہیں تھا۔

چیک کرتے ہوئے ہم نے پوچھا رات کو کیا کھایا تھا ؟ یہ سنتے ہی وہ فوراً سنبھل کر بیٹھ گیا، اس کا سنبھل کر بیٹھنا ہمیں بہت ناگوار گزرا، ہمیں اس نامعلوم میڈیسن پر بہت غصہ آیا جو گھر میں خالد لے چکا تھا، اس کا ایفیکٹ خالد کیلئے مفید مگر ہمارے لئے سائیڈ ایفیکٹ ثابت ہوا۔ خالد نے پہلے تو یہ بتایا کہ رات کو بیگم نے بڑے پائے بنائے تھے اور پھر اپنی فارم میں آتے ہوئے اس ہوٹل کا ذکر لے بیٹھا، جس کے پائے ہمیں بھی بہت پسند ہیں اور ہم عموماً دورانِ سفر وہیں رکنا پسند کرتے ہیں… جب ایک دفعہ زبان رواں ہو گئی تو پھر خالد باتونی کو روکنا ہمارے لئے ناممکن ہو گیا۔ اس نے اپنی موجودہ بیماری کی نزاکت کو بھلا کر مختلف کھانوں کی لذتوں کا اس قدراشتہا انگیز ذکر شروع کر دیا کہ خود ہمارے منہ میں بھی پانی آ گیا۔ ہم اس کی بات منقطع کرنے کے لئے جب بھی منہ کھولتے، وہ ہمارے منہ میں کوئی لذیذ لقمہ ڈال دیتا، سو ہمیشہ کی طرح اس روز بھی اپنی کوشش میں ناکام رہے۔

یہ تو بھلا ہو اس کی بیماری کا کہ اچانک پیٹ میں درد عود کر آیا اور بہ امر مجبوری وہ کراہنے کے لئے ذرا سا چپ ہوا۔ ہم نے اس کی تقریر کے اس ”پاز” کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوراًنسخہ لکھ کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ وہ ایک ہاتھ پیٹ پر رکھے اور دوسرے میں نسخہ اٹھائے جانے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا۔ ہم بلا ٹلنے پر ابھی پوری طرح خدا کا شکر بھی ادا نہ کر پائے تھے کہ وہ دوبارہ بیٹھتے ہوئے بولا یہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں کہ کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا۔ ہمارا ماتھا ٹھنکا، سوچا اگر کھانوں کے نام لینے شروع کیے تو خواہ مخوا اسے تفصیلات میں پڑنے کا موقع مل جائے گا، لہٰذا جان چھڑانے کی نیت سے کہا، بس ثقیل چیزوں کا پرہیز کرنا۔ کہنے لگا بالکل صحیح فرمایا آپ نے۔ رات والے پائے اچھی طرح گلے ہوئے نہیں تھے۔ثقیل ہونے کے باعث میرا پیٹ خراب ہوا، ابھی جاکر بیگم سے کہوں گا کہ جو رات بچ رہے تھے، انہیں دوبارہ سے چولہے پر چڑھا دو… خالد کو اس حرکت سے منع کرنا آ بیل مجھے مار کے مترادف تھا، لہٰذا ہم نے خاموشی کے ساتھ اسے گھر جانے دیا۔

چلیں کالم کے آخر میں آپ کو آج کا تازہ واقعہ بھی سنائے دیتے ہیں۔ خالد باتونی کلینک پر پہنچا تو ہم اکیلے بیٹھے تھے، غالب گمان یہی تھا کہ ہمیں اکیلے پا کر تو وہ ایسے موضوعات پر بھی ”زبان درازی” کرے گا جن پر مریضوں کے سامنے بولنے سے اجتناب کرتا ہے مگر خدا کی شان دیکھیں کہ حیرت انگیز طور پر وہ بالکل خاموش بیٹھ گیا۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا خیریت؟ ڈرتے ڈرتے ہم نے اس لیے کہا ہے کہ عموماً ہمارا یہی ایک جملہ ہی پٹرول پر تیلی کا کام کرتا ہے اور اس کے بعد کم از کم ایک گھنٹہ مسلسل خالد باتونی کی ”شعلہ بیانی” کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن آج ایسا بالکل نہ ہوا۔ ہمارے پوچھنے پر بھی وہ خاموش ہی رہا۔ بس جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک پرچہ نکالا اور ہمیں تھما دیا۔ ہم نے گھبرا کے اس پر نظر ڈالی، تو اس میں لکھا تھا:
”ڈاکٹر صاحب کل سے میری زبان پر چھالے بنے ہوئے ہیں، زبان اس قدر پک گئی ہے کہ ایک لفظ تک نہیں بول سکتا۔”
یہ پڑھتے ہی ہمارے منہ سے بے اختیار نکلا … الحمدللہ!