اِسلامی نظامِ سیاست کے خط وخال عصری تناظر میں

چوتھی و آخری قسط:
اس کے لیے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا محنت کی ہے؟ ذرا وہ اس میں شامل کر لیں۔ انصارِ مدینہ دو سال حج پر گئے ہیں ۔ بیعت عقبہ اولیٰ، بیعت عقبہ ثانیہ۔ بیعت عقبہ اولیٰ میں بارہ آدمی تھے۔ بیعت عقبہ ثانیہ میں سترہ آدمی تھے۔ ان میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ نقیب مقرر کیے ۔ یہ نقیب اور یہ نمائندے دو سال کیا کرتے رہے ہیں؟ اس کی سیاسی تعبیر یہ ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی دعوت پر آنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور ہوم ورک کے لیے یہ بارہ آدمی منتخب کیے تھے جنہوں نے پورے علاقے کے لوگوں کو اعتماد میں لیا تھا۔ دو سال ہوم ورک ہوا ہے۔ نقباء نے کیا ہے۔ ان میں عبادہ بن صامت بھی ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ دیگر بھی ہیں۔ دو سال کی محنت۔ ورنہ یہ ممکن نہیں ہے کہ ستر اَسی مہاجر آئے ہیں، آ کر حکومت بنا لی۔ کیسے بن گئی؟ جب پوری تسلی کی رپورٹ ملی ہے تو پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آمد کا فیصلہ کیا ہے۔اس پر ایک اور روایت شامل کر لیں، بخاری ہی کی ہے۔ آخری بیعت ہوئی ہے منیٰ کے غار میں، سعد بن معاذ بھی ہیں، سعد بن عبادہ بھی ہیں، سردار سارے بیعت کر رہے ہیں، فائنل ہو رہا ہے کہ حضور اب تشریف لائیں گے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ، جناب ابو طالب کی طرح، اُنہوں نے تو کلمہ نہیں پڑھا، لیکن اِنہوں نے بہت آخر میں پڑھا ہے، فتح مکہ کے قریب انہوں نے کلمہ پڑھا ہے ، لیکن اُس میں بھی بھتیجے کے ساتھ تھے۔ حضرت عباس اُس زمانے میں بھی حضور کے ساتھ تھے۔ کئی واقعات، ان میں ایک یہ بھی ہے۔ غار میں خفیہ مذاکرات ہیں انصارِ مدینہ کے نمائندوں کے ساتھ۔ خفیہ مذاکرات ہیں، جس میں یہ طے ہو رہا ہے کہ کب جانا ہے ، کہاں جانا ہے، اُس میں عباس حضور کے ساتھ تھے۔ سعد بن معاذ نے حضور سے کہا ، یا رسول اللہ، ٹھیک ہے فیصلہ ہے، تشریف لائیے آپ۔ عباس نے سعد بن معاذ کو ٹوکا۔ سعد! کیا کہہ رہے ہو؟ تم میرے بھتیجے کو یثرب آنے کی دعوت دے رہے ہو، تمہیں پتہ ہے اِس کا مطلب کیا ہے؟ پاؤں میں وزن ہے؟ یہ عباس نے سوال کیا سعد بن معاذ سے بیعت عقبہ ثانیہ میں۔ غار میں بیٹھ کر کہ سوچ کے بات کرو کیا کر رہے ہو، پورے جزیرة العرب سے لڑنا پڑے گا تمہیں۔ میرے بھتیجے کو دعوت دینا ایسے آسان نہیں ہے۔ سوچ کے بات کرو۔ اگر سنبھال سکتے ہو تو بات کرو، ورنہ ان کے دفاع کے لیے ہم ہاشمی کافی ہیں۔ وہ حضور کے ساتھ کس بنیاد پر تھے؟ ہاشمیت کی بنیاد پر۔ ابو طالب بھی ساتھ تھے، عباس بھی ساتھ تھے۔ سعد بن معاذ نے کہا، عباس! میں سوچ سمجھ کے بات کر رہا ہوں، مجھے پتہ ہے کیا ہو گا۔ ہم تیار ہیں اور ہم نے فیصلہ کر لیا ہے۔ سارے نتائج میرے سامنے ہیں، کیا ہوگا ، کیا کرنا ہے، کیا نہیں ہونا۔

یہ پس منظر ہے ریاستِ مدینہ کا۔ ریاستِ مدینہ کا پس منظر ذہن میں آیا کہ ریاستِ مدینہ قائم کیسے ہو گئی اور پھر بڑھتے بڑھتے بڑھتے آٹھ نو سال میں پورے عرب کو گھیرے میں کیسے لے لیا۔
پھر خلافت کیسے قائم ہوئی تھی؟ حضرت صدیقِ اکبر نے قبضہ کیا تھا؟ انہوں نے تو دعویٰ بھی نہیں کیا۔ دونوں حضرات ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں اِس کی بیعت کرو، وہ کہتے ہیں اِس کی بیعت کرو۔ حضرت صدیق اکبر نے خلافت کے قیام کے لیے قبضہ کیا تھا، لڑائی لڑی تھی؟ اس وقت مدینہ منورہ میں جو طبقات موجود تھے اُن طبقوں کے درمیان تین دن مذاکرات ہوتے رہے۔ انصار کے الگ، مہاجرین کے الگ، پھر سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار اور مہاجرین کے مابین مذاکرات ہوئے۔ اور سب سے آخر میں تین دن کے بعد اہلِ بیت کو اعتماد میں لیا گیا۔تیسرے دن حضرت علی نے بیعت کی تھی۔ کیا شِکوہ کر کے کی تھی؟۔ بخاری سب کچھ بیان کرتا ہے، ہم پڑھیں تو سہی۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں بیعت ہوگئی۔ انصار نے بھی کر لی، مہاجرین نے بھی کر لی۔ اہل ِبیت میں سے کوئی نہیں تھا وہاں۔ باتیں چلیں، بھئی اصل فیملی تو وہ ہے، پیچھے کیوں رہ گئے؟ ان کی گفتگو ہوئی آپس میں۔ مسجد نبوی میں تیسرے دن ظہر کے بعد اجتماع میں حضرت علی نے اٹھ کے بات کی، حضرت علی کے الفاظ ہیں کہ ہم نے بھی امام اسی کو بنانا تھا جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہماری نماز کا امام بنایا تھا لیکن ہمیں اعتماد میں تو لو۔ ہمارا شِکوہ یہ نہیں ہے کہ ہمیں خلافت نہیں دے رہے، ہم بھی یہیں رہتے ہیں یار، ہم سے پوچھو تو سہی۔ اہلِ بیت کے پورے نظام کو، پورے طبقے کو، میرا شِکوہ یہ ہے کہ آپ نے ہمیں اس قابل نہیں سمجھا کہ ہم سے پوچھیں۔ حضرت صدیق اکبر نے وہاں خطاب فرمایا، بھئی! میت گھر میں ہو تو گھر والوں کو کسی اور کام میں نہیں لگایا جاتا۔ جس گھر میں میت ہو، اس گھر والوں کو کسی اور کام میں مصروف نہیں کیا جاتا۔ اس لیے ہم نے تمہیں نہیں چھیڑا، اب جو کہتے ہو کر لیتے ہیں۔ ہاتھ پکڑائیں، بیعت کرتے ہیں۔یہ بات میں نے کہی ہے کہ تین دن تک مسلسل مذاکرات ہوتے رہے، مختلف طبقات کے درمیان ، شکوے شکایتیں، دعوے۔ سعد بن عبادہ کو تو بنا لیا تھا انصار نے۔ وہ تو یہ پہنچ گئے۔ تو میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت قبضہ کر کے ہوئی تھی، دعویٰ کر کے ہوئی تھی، یا مفاہمت کے نتیجے میں ہوئی تھی؟ ریاستِ مدینہ بھی مفاہمت پہ بنی ہے۔ خلافتِ صدیق اکبر کس پہ بنی ہے؟ باہمی اعتماد اور مفاہمت پر۔

اب آج کی گفتگو کی آخری بات عرض کرتا ہوں۔ فقہاء کی طرف چلتے ہیں۔ انعقادِ خلافت کی کتنی صورتیں بیان کی ہیں انہوں نے۔ آج کے دور کو سامنے رکھ کر۔ پانچ صورتیں بیان کی ہیں۔ ہماری اصطلاح ہے، انعقادِ خلافت کی کیا شکل ہو گی، یعنی حکومت کی تشکیل کیسے ہوگی؟ فقہاء نے، تقریباً سب فقہاء نے، شامی نے بھی یہی لکھا ہے، شاہ ولی اللہ نے بھی یہی لکھا ہے، باقی فقہاء بھی۔ پانچ صورتیں ہیں: پہلی بیعتِ عامہ، یعنی معاشرے میں موجود تمام طبقوں کو اعتماد میں لے کر۔ اور مثال حضرت صدیق اکبر۔ سب سے پہلی صورت خلافت کے انعقاد کی ہے کہ لوگوں کے تمام طبقات کے اعتماد کے ساتھ کسی کو منتخب کیا جائے۔ دوسری صورت، وصیت۔ حضرت صدیق اکبر نے وصیت کی تھی کس کو؟ حضرت عمر کو۔ تیسری صورت انعقادِ خلافت کی فقہاء کیا بیان فرماتے ہیں؟ ایک کمیٹی بنا دی جائے۔ حضرت عمر نے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لیے کیا کیا تھا؟ کتنے ممبر تھے؟ چھ تھے یا ساڑھے چھ تھے؟ ساڑھے چھ تھے۔ چھ آدمی مقرر کیے تھے کہ ان میں سے خلیفہ منتخب کرنا ہے۔ عبد اللہ بن عمر کو کہ یہ تمہارے ساتھ مشورے میں شریک ہوگا، خلیفہ نہیں بنے گا۔ یہ آبزرور ہوگا۔ اس کا ووٹ نہیں ہے۔ یہ کہا، عبد اللہ بن عمر کو کہ یہ ساتھ مشاورت میں شریک ہوگا لیکن خلیفہ نہیں بنے گا یہ۔ یہ تیسری صورت۔ حضرت عثمان اس سے بنے تھے۔حضرت علی کیسے بنے تھے؟ چوتھے خلیفہ بنے تھے، ساری امت مانتی ہے، ہم بھی مانتے ہیں۔ خلیفہ بنے کیسے تھے؟ جب ان کی خلافت کی بیعت کرنے سے کچھ حضرات نے انکار کیا تو حضرت علی نے اپنی خلافت کے انعقاد کا جواز کیا پیش کیا تھا؟ کچھ یاد ہے؟ فرمایا تھا کہ اصحابِ شوریٰ جو مدینہ میں موجود تھے اُنہوں نے میری بیعت کی تھی۔ مجھے شوریٰ نے منتخب کیا ہے۔ اور مدینہ منورہ میں حضرت عثمان کی شہادت کے بعد جو اصحابِ شوریٰ موجود تھے، انہوں نے ہی منتخب کیا تھا۔ چوتھا طریقہ کیا ہے؟ اصحابِ شوریٰ کسی کو منتخب کر لیں۔

پانچویں صورت، فقہاء نے جو لکھی ہے۔ استیلاء یعنی کوئی اہل آدمی مخصوص حالات میں اقتدار پہ قبضہ کر لے۔ حضرت معاویہ کی خلافت اس کی مثال ہے۔ حضرت معاویہ، حضرت علی کے زمانے میں مقابل امیر کے طور پر ان کا شمار کیا جاتا ہے، اور ان کو خطا پر کہا جاتا ہے۔ حضرت معاویہ امیر المومنین متفقہ بنے ہیں حضرت حسن کی بیعت کے بعد۔ حضرت حسن کی بیعت کو ہمارے فقہاء کیا شمار کرتے ہیں؟ امت کا قبول کرنا۔ اب کوئی مدِ مقابل رہا نہیں تھا۔ ساڑھے انیس سال حکومت کی ہے۔ تو یہ کونسی ہے کہ استیلاء یعنی قبضہ کر کے حکومت قائم کرنا۔ لیکن دو شرطیں ہیں۔ پہلی شرط کیا ہے؟ خود خلافت کا اہل ہو۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ اس کے قبضے کو امت تسلیم کر لے، جس صورت میں بھی کر لے۔

یہ پانچ صورتیں فقہاء نے لکھی ہیں۔ ان میں سے آج کے دور میں قابلِ عمل کون کون سی ہے؟ وصیت والی تو گئی کہ خلیفہ ہو گا تو وصیت کرے گا نا۔ خلیفہ ہے جو کسی کو مقرر کرے؟ شوریٰ کس نے بنانی ہے؟ کمیٹی کس نے بنانی ہے؟ یہ درمیان والے تین تو گئے۔ اس کے لیے خلافت کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اس لیے آج کے دور میں پہلا یا آخری۔ کسی مسلمان ملک کی پارلیمنٹ، منتخب لوگ، پوری قوم کے اعتماد کے ساتھ خلافت کا اعلان کریں اور منتخب کریں، ایک راستہ یہ ہے۔ اور دوسرا، کوئی قبضہ کرے، ہو اَہل، اور امت قبول کر لے۔

بہرحال آج دنیا میں کشمکش یہی ہے۔ ہم اپنے درمیان کے راستے پہ کھڑے ہیں، قراردادِ مقاصد پر۔ حکومت کا ایک نظام سیاسی ہے، ووٹ ہوتے ہیں لوگوں کے۔ ایک نظام جماعتی بھی ہے، جن میں پبلک الیکشن نہیں ہوتے، کمیونسٹ پارٹی حکومت کرتی ہے۔ روس میں پبلک الیکشن نہیں ہوتے، پارٹی حکومت کرتی ہے۔ یا بادشاہت ہے۔جمہوری حکومت۔ بادشاہت۔ پارٹی گورنمنٹ۔ کمیونسٹ ملکوں میں پارٹی گورنمنٹ ہے۔ چین میں، روس میں پارٹی حکومت کرتی ہے، جو پارٹی ہے وہی کرے گی۔یا پھر ہمارا، اگر عملاً ہو جائے تو ایک اسلامی ریاست بن جائے گی۔ اللہ کرے۔ لیکن دستوری طور پر یہ اسلامی ریاست ہے۔ عملاً اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائے۔