لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے جانشین سمجھے جانے والے بیٹے سیف الاسلام قذافی کوئی سرکاری عہدہ نہ رکھنے کے باوجود ایک وقت میں اپنے والد کے بعد ملک کی سب سے طاقتور شخصیت سمجھے جاتے تھے۔
سزائے موت پانے والے سیف الاسلام قذافی کی زندگی قید و گمنامی سے لے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے تک نشیب و فراز پر محیط ہے۔ آئیے ایک نظر ان کی زندگی اور سیاسی سفر پر ڈالتے ہیں۔
انہوں نے پالیسی سازی میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا اور حساس و اعلیٰ سطحی سفارتی مشنوں میں ثالث کا کردار ادا کیا۔
سیف الاسلام قذافی نے لیبیا کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو ترک کرنے سے متعلق مذاکرات کی قیادت کی اور 1988ء میں اسکاٹ لینڈ کے شہر لاکربی پر پین ایم فلائٹ 103 کی بمباری میں مرنے والوں کے اہلِ خانہ کے لیے معاوضے پر بات چیت کی۔
لیبیا کو عالمی تنہائی سے نکالنے کے عزم کے تحت سیف الاسلام نے مغرب کے ساتھ روابط استوار کیے اور خود کو ایک اصلاح پسند کے طور پر پیش کیا، آئین اور انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا۔
لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ اور روانی سے انگریزی بولنے والے سیف الاسلام کو ایک وقت میں کئی حکومتیں لیبیا کا مغرب نواز اور قابلِ قبول چہرہ سمجھتی تھیں۔
2011ء میں معمر قذافی کی طویل حکومت کے خلاف بغاوت کے آغاز پر سیف الاسلام نے اپنے مغربی دوستوں کے بجائے خاندانی اور قبائلی وفاداری کو ترجیح دی اور باغیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے روحِ رواں بن گئے۔
اس دوران غیرملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ہم یہاں لیبیا میں لڑتے ہیں اور یہیں لیبیا میں مریں گے۔
طرابلس پر باغیوں کے قبضے کے بعد سیف الاسلام نے بدوی قبائلی لباس میں پڑوسی ملک نائجر فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم ابوبکر صدیق بریگیڈ ملیشیا نے انہیں صحرا کی ایک سڑک پر گرفتار کر کے مغربی شہر زنتان منتقل کردیا۔
یہ واقعہ ان کے والد لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کی شہادت کے تقریباً 1 ماہ بعد پیش آیا۔
انہوں نے اگلے 6 برس زنتان میں قید گزارے، جو قذافی دور کی شاہانہ زندگی سے بالکل مختلف تھے، جہاں وہ پالتو شیروں، بازوں کے ساتھ شکار اور لندن کے دوروں کے دوران برطانوی اشرافیہ سے میل جول کے لیے جانے جاتے تھے۔
ہیومن رائٹس واچ نے زنتان میں ان سے ملاقات کی تھی، اس وقت ان کا ایک دانت ٹوٹا ہوا تھا، انہوں نے بتایا تھا کہ میں دنیا سے کٹا ہوا ہوں اور مجھے کسی سے ملنے کی اجازت نہیں ملتی۔
2015ء میں طرابلس کی ایک عدالت نے انہیں جنگی جرائم کے الزام میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت سنائی۔
2017ء میں ایک عام معافی کے قانون کے تحت رہائی کے بعد وہ برسوں تک قتل کے خدشے کے باعث زنتان میں روپوش رہے۔
2021ء میں روایتی لیبیائی لباس اور پگڑی پہنے سیف الاسلام لیبیا کے جنوبی شہر سبھا میں صدارتی انتخابات کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے لیے منظرِ عام پر آئے۔
ان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ 2011ء سے پہلے کے نسبتاً مستحکم دور کی یادوں کو انتخابی مہم میں استعمال کریں گے، تاہم ان کی امیدواری متنازع ثابت ہوئی اور قذافی دور میں مظالم کا سامنا کرنے والوں کی جانب سے اس کی سخت مخالفت کی گئی۔
2011ء میں ابھرنے والے باغی دھڑوں سے وجود میں آنے والے طاقتور مسلح گروہوں نے ان کی نامزدگی کو یکسر مسترد کر دیا۔
2021ء کے اواخر میں انتخابی عمل قواعد پر اتفاق نہ ہونے کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا۔ سیف الاسلام کی امیدواری تنازع کے اہم نکات میں شامل تھی، 2015ء کی سزا کے باعث انہیں نااہل قرار دیا گیا اور جب انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی کوشش کی تو مسلح افراد نے عدالت کا راستہ بند کر دیا۔
اس کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات نے انتخابی عمل کے خاتمے اور لیبیا کے دوبارہ سیاسی جمود کی طرف لوٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
2021ء میں نیویارک ٹائمز میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے سیف الاسلام قذافی نے اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ میں 10 سال سے لیبیا کے لوگوں سے دور رہا ہوں، اب مجھے بہت دھیرے دھیرے واپس آنے کی ضرورت ہے۔

