گولان پر اسرائیلی قبضہ غیرقانونی ہوگا، شامی صدر

شامی صدر احمد الشرع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ملک اس وقت اسرائیل کے ساتھ ایک نئے سکیورٹی معاہدے پر مشاورت کر رہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد سنہ 1974ء کی حدود تک اسرائیلی واپسی کو یقینی بنانا اور نئے قواعد و ضوابط وضع کرنا ہے، تاکہ یا تو افواج کی علیحدگی کے معاہدے کو بحال کیا جائے یا ایک ایسا نیا معاہدہ طے پائے جو دونوں فریقین کی سکیورٹی کا ضامن ہو۔
عرب میڈیا کے مطابق احمد الشرع نے مزید کہا کہ “اگر کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہو گئی، تو ہم مقبوضہ گولان کے مسئلے کے حل کے لیے طویل المدتی مذاکرات میں شامل ہو سکتے ہیں”۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے گولان کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کو تسلیم کرنا باطل اور غیرقانونی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا 3 روزہ سرکاری دورہ مکمل
احمد الشرع نے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ شام نے تنازع کی شدت سے بچنے کے لیے سفارت کاری کا راستہ منتخب کیا ہے، باوجود اس کے کہ شامی زمین پر اسرائیلی موجودگی کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی “انادولو” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ “گذشتہ 14 سال کے دوران سابقہ نظام کے ساتھ جنگ کا سامنا کرنے کے بعد اب شام کی پالیسی تعمیر و ترقی پر مرکوز ہے اور اس مقصد کے لیے استحکام کی ضرورت ہے۔”
احمد الشرع نے مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ نے شام کو تنازع کی حالت سے نکال کر ایک محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کیا ہے جو سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بعض علاقائی ممالک کے اثر و رسوخ کو پھیلنے سے روک کر اور اپنی زمین کو حملوں یا خطے کے استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہونے سے بچا کر پورے علاقے کو بچایا ہے۔