وزارت خارجہ کی بریفنگ، ایران اور امریکا میں مذاکرات کی پاکستانی کوششوں کا انکشاف

اسلام آباد: وزارت خارجہ حکام نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ” اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری” بدستور مضبوط ہے اور چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو بریفنگ کے دوران کیا ۔
قائمہ کمیٹی خارجہ امور کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں پاکستان اور چین کے تعلقات، بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور ملک کی اقتصادی سفارتکاری کا تفصیلی جائزہ لیا۔ چیئرمین کمیٹی نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ سے چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کی نوعیت اور اہمیت پر بریفنگ دینے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان حالات کو معمول پر لانے، مکالمے کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل میں ایک مؤثر اور نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں تاکہ علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
کمیٹی کو چین کے علاقائی سفارتی کردار پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں پاکستانـچینـبنگلہ دیش سہ فریقی نظام، پاکستانـچینـافغانستان فریم ورک کی بحالی اور چینـایرانـپاکستان انسداد دہشت گردی مشاورت شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ سال 2026 پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی علامت ہوگاجس کے موقع پر مشترکہ تقریبات اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ کے پروگرام ترتیب دیے جا رہے ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی اقتصادی سفارتکاری پر بھی بریفنگ دی جس میں بین الاقوامی سرمایہ کاری فورمز، بزنس ٹو بزنس کانفرنسز، اعلیٰ سطحی دورے اور طویل عرصے سے التوا کا شکار تجارتی تنازعات کے حل کی کوششیں شامل تھیںجن کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ اور تجارت میں اضافہ ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے اہم تجارتی شراکت دار ممالک، آزاد تجارتی معاہدوں اور کاروباری سہولت کاری کے طریقہ کار پر تفصیلات طلب کیں اور منصوبہ بندی ڈویژن کے ساتھ مشترکہ اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے چین میں پاکستانی تاجروں کو درپیش لسانی اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے وہاں پاکستانی بزنس چیمبر کے قیام کی تجویز بھی دی۔