نیتن یاہو کو فون ہیک ہونے کا خوف، کیمروں پر ٹیپ لگادی گئی

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حال ہی میں ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں ان کے موبائل فون کے کیمروں پر ٹیپ لگی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
العربیہ ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ بحث کی جا رہی ہے کہ موبائل فون پر ٹیپ لگانے کا مقصد کیا ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کے اندر سے سامنے آنے والی تصاویر میں بنیامین نیتن یاہو ایک آئی فون تھامے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس کے کیمرے ٹیپ سے ڈھکے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک اور تصویر میں بھی کال کے دوران ان کے فون کے کیمرے پر ٹیپ لگی نظر آئی۔
اسرائیلی اخبارمعاریف کے مطابق نیتن یاہو نے متعدد بار یہ بتایا ہے کہ وہ موبائل فون اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ فون ان کے عملے کے پاس ہوتے ہیں اور ضرورت کے وقت انھیں فون دیا جاتا ہے۔
سکیورٹی کی وجہ سے ان موبائل فونز کو باقاعدگی سے تبدیل کیا جاتا ہے۔
اسرائیل میں عام طور پر حساس عہدوں پر فائز اعلی حکام ایپل کمپنی کے فونز استعمال کرتے ہیں جبکہ معلومات کے لیک ہونے کے ڈر سے چینی فونز کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔
اخبار معاریف نے وضاحت کی کہ تمام ملازمین اور حساس فوجی یا سکیورٹی تنصیبات پر آنے والے افراد کے لیے داخلی راستوں پر یہ لازمی ہوتا ہے کہ وہ اپنے کیمروں پر ٹیپ لگائیں تاکہ ان کا استعمال نہ ہو سکے۔
ٹیپ ہٹانے کی صورت میں اس پر واضح نشانات رہ جاتے ہیں، جس سے سکیورٹی اہلکاروں کو یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ آیا کیمرہ استعمال تو نہیں کیا گیا۔
اخبار کے مطابق نیتن یاہو کے معاملے میں ٹیپ لگانے کا مقصد حساس مقامات میں تصویر کشی کا خوف نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد فون کے ہیک ہونے اور دور بیٹھے کسی ہیکر کی جانب سے کیمرے کو استعمال کرنے کے امکان سے بچنا اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔