رپورٹس کے مطابق دنیا میں کل سگریٹ پینے والے افراد کی تعداد 1,15 بلین سے زائد ہے۔ ان میں مسلمانوں کی تعداد 400ملین کے لگ بھگ ہے۔ سگریٹ بنانے والی سب سے بڑی کمپنی فلپ مارس کی ہے۔ مسلمان روزانہ سگریٹ پھونک کر تقریباً 800ملین ڈالر فلپ مارس کی جھولی میں ڈالتے ہیں۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سے 60لاکھ سے زائد افراد منشیات کا زہر اپنی رگوں میں گھول رہے ہیں جبکہ 1997ء میں ان کی تعداد 22سے 28لاکھ تھی۔ یہ تعداد چند سالوں میں کس خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ دیہات میں 22فیصد جبکہ شہری آبادی میں 38فیصد نشہ کیا جاتا ہے۔ ان نشیئوں میں سے ایک لاکھ تیس ہزار افراد سرنج کے ذریعے نشے کے عادی ہیں اور 80فیصد افراد مشترکہ سرنج استعمال کرتے ہیں جس سے بعدازاں مہلک ترین بیماریاں ایڈز، کینسر وغیرہ جنم لیتی ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر 14سے 18سال کے نوجوان ہیں۔ حالانکہ عمر کا یہی وہ حساس حصہ ہوتا ہے جس میں نوجوان دوراہے اور چوراہے پر پریشان کھڑے کسی ایک سمت مڑنا چاہتے ہیں۔ وہ راہِ راست پر بھی آسکتے ہیں اور اس سے یوٹرن بھی لے سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نشہ آور اور سکون آور گولیاں استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 9لاکھ کے قریب ہے اور اس کا گراف بتدریج بڑھ رہا ہے۔ ان گولیوں کا استعمال چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورتیں، جوان اور بوڑھے سب ہی کرتے ہیں۔ ہر سال 45ہزار افراد صرف نشہ آور جعلی ادویہ کا شکار ہورہے ہیں۔ 60ہزار افراد رگوں میں انجکشن لگاکر نشہ کرتے ہیں۔ 50ہزار افراد ہیروئن اور افیون کے عادی ہیں۔ پوری پوری رات انٹرنیٹ پر جدید معلومات کے حصول کی آڑ میں چیٹنگ کرنے والے لڑکے اور لڑکیاں اپنی صحت اور ذہن کا کباڑہ کردیتے ہیں اور پھر نشے کا یہ ”عشق” ان کی حالت بری کردیتا ہے تو پھر یہ بھی نشہ آور ادویہ کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے بعد جب ان میں یہ عادت پختہ ہوجاتی ہے تو یہ قوم کے ہونہار اور مستقبل کی اُمیدوں کے چراغ، صحت مند اور طاقت ور نوجوان ”نہ گھر کے رہتے ہیں اور نہ گھاٹ کے”۔ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ راتوں رات دولت کمانے کے چکر میں جعلی ادویات بنانے والی کمپنیاں پاوڈر سے لے کر ”شیشہ” تک نہ معلوم کون کون سے ”ذائقے” ایجاد کر کے نوجوانوں کو تباہی کے گھاٹ اُتار رہی ہیں۔ یہی منشیات فروش مافیا بعض معصوم بچوں کو نشے کی لت میں مبتلا کرکے ان کو گھنائونے مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔
دیسی نقلی شراب کی بوتل صرف 50روپے میں ملتی ہے۔ اس سے نشہ کرنے والے بعدازاں ہیپاٹائٹس جیسی موذی بیماری میں مبتلا ہوکر موت کے گھاٹ اُترتے ہیں تو وہ منظر بڑا المناک ہوتا ہے جب غریب والدین کے اکلوتے بیٹے کا جنازہ بوڑھے والدین کے ناتواں کاندھواں پر ہوتا ہے اور آنسوئوں کی لڑی ان کے چہرے پر جاری ہوتی ہے اور زبان سے وہ موت کے ان سوداگروں کے لیے بددُعا کررہے ہوتے ہیں۔ جن کی وجہ سے ان کا بیٹا اس انجام تک پہنچا۔ صرف نشہ آور جعلی ادویہ کی وجہ سے اوسطاً40افراد مررہے ہیں۔ 10افراد ان کی وجہ سے ناکارہ بن رہے ہیں۔ اوسطاً 6افراد نفسیاتی مریض ہورہے ہیں اور نجانے کتنے نشے کی حالت میں گمنام موت کی وادیوں میں بھٹک رہے ہیں اور اب تو بچوں نے بھی نشے شروع کر دیے ہیں اور یہ کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مرجھا رہی ہیں۔
اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جعلی ادویات بنانے والی کمپنیاں یا ان کی سرپرستی کرنے والے ادارے یا سماج؟ ایک وقت تھا جب لوگ مغرب کی نقالی میں سگریٹ نوشی کو اسٹیٹس سمبل قرار دیتے تھے اور ”روشن خیال” لوگ سرعام اسموکنگ کو باعثِ فخر تصور کرتے تھے۔ بلکہ نوجوانوں میں ”بڑا” ہونے کا ثبوت ہی اسے کہا جاتا تھا لیکن گزرتے زمانے کے ساتھ ساتھ اس کے انتہائی نقصانات سامنے آئے یہاں تک کہ اس کی وجہ سے کینسر اور پھیپھڑوں کے امراض پھیل گئے۔ پھر والدین اور سرپرست اپنے بچوں اور نوجوانوں کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کرنے لگے۔ اب کچھ عرصے سے پاکستان کے بڑے شہروں لاہور، اسلام آباد، کراچی میں جو ”شیشہ” کے نام سے نشہ مشہور اور مقبول ہو رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق یہ نشہ کرنے والوں کی تعداد اب ہزاروں میں ہے لیکن اندیشہ ہے کہ عنقریب لاکھوں تک جا پہنچے گی۔ اس نشے میں مالدار نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں۔
ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس میں سگریٹ والے نشے سے کئی گنا زیادہ نشہ ہے۔ دور اندیشوں کا کہنا ہے کہ اگر ابھی سے اس کے آگے بند نہ باندھا گیا تو یہ شیشہ باصلاحیت نوجوان نسل کو اپنے عکس میں اُتار لے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ منشیات کی روک تھام کے لیے ہر سطح پر کوششیں کی جائیں۔ گھریلو سطح پر والدین اپنی اولاد کو نشہ آور چیزوں کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں۔ اسلام نشہ سے بچائو کی تعلیم دیتا ہے۔ اس میں نشہ بنانے، فروخت کرنے اور پینے والوں کے لیے برے اور خوفناک انجام کی خبر ہے۔ علمائے کرام اپنے وعظوں اور خطبات میں منشیات کی قرآن وسنت کی روشنی میں ممانعت بیان کر کے اس کے انسداد کے لیے راہ ہموار کر دیں۔
سیکنڈری اسکولوں میں منشیات کے مضامین نصاب میں باقاعدہ شامل کیے جائیں تاکہ اس کی خرابیوں اور ہولناکیوں سے وہ آشنا ہو سکیں۔ اساتذہ اس موضوع پر لیکچر دے کر طلبہ وطالبات میں نشے کی نفرت بٹھائیں۔ کچے ذہنوں کو اس سے آگاہ کریں تاکہ وہ اپنی زندگی میں اس سے دور رہیں۔ کیپسول اور پائوڈر سے لے کر شیشہ تک کا کاروبار کرنے والے لوگ جو نئی نسل کو تباہی وبربادی کے گھڑے کی طرف دھکیل رہے ہیں اور غیرحسی طورپر مستقبل کے معماروں کے قاتل بن رہے ہیں اُن کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ ان کو عبرت سزا دی جائے تاکہ آنے والی نسل محفوط ہو سکے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ایکشن کون لے گا؟ ان کو پھانسی پر کون لٹکائے گا؟ کیا وہ حکومتیں جنہوں نے ”شراب” کے پرمٹ اور لائسنس تک جاری کر رکھے ہیں اور پائوڈر سے لے کر شیشہ تک سب کے لیے قانون میں چور سوراخ چھوڑ رکھے ہیں۔ ان ہی ناسوروں کی وجہ سے خوبصورت، گھبرو اور تعلیم یافتہ نوجوان مختلف نشوں کی لت میں پڑ کر اپنے آپ کو برباد کر رہے ہیں اور اپنی معصوم جانوں کو دنیا میں ہی اذیت ناک وعبرت ناک بنا رہے ہیں۔ اگر ہم نے یہ کام نہ کیے تو منشیات کے اڈوں کی وجہ سے اس کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ منشیات کا گندا کاروبار کرنے والے قوم کے مستقبل کے معماروں کو اندھے غار کی طرف دھکیلتے رہیں گے۔
موت کے سوداگر نوجوان نسل کو نشے کی مختلف لتوں میں مبتلا کر کے موت کے گھاٹ اتارتے رہیں گے۔ نشے میں دُھت نوجوان اپنے منطقی انجام کو پہنچتے رہیں گے۔ جدید معلومات کی آڑ میں جوانیاں تباہ ہوتی رہیں گی۔ ”شیشہ” میں راحت وآرام تلاش کرنے والے نجانے کتنے نوجوان بے راہ روی کی طرف جاتے رہیں گے۔

