آئی ٹی ٹیز کا سحر، معیشت کا نیا جنم

روزنامہ اسلام میں شائع ہونے والی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی 6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں اضافہ اور سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر بیرونی ادائیگی کے دباو کو کم کر رہی ہیں۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں روپے کی قدر مستحکم رہی ہے اور یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم تجارتی خسارہ اور درآمدات میں حد سے زیادہ اضافہ ایک چیلنج کے طور پر اب بھی موجود ہے، جسے مستقل بنیادوں پر برآمدات بڑھا کر ہی حل کیا جا سکتا ہے اور درآمدی بل کو کم سے کم کرنا اور اسے قابو میں رکھنا معیشت کے استحکام اور ترقی کیلئے بے حد ضروری ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف مالیاتی پالیسیوں پر توجہ دے بلکہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بڑھاوا دے تاکہ برآمدات میں اضافہ مستقل بنیادوں پر ممکن ہو۔

پاکستان کی معیشت، جو طویل عرصے سے غیر یقینی حالات اور تیز و تند مالیاتی لہروں کے اثر میں تھی، اب ایک ایسے ساحلِ مراد کی جانب گامزن ہے جہاں استحکام اور ٹھہراؤ کی دستک بہرحال سنائی دے رہی ہے۔ اس دستک کی آواز، جسے ہم ‘آئی ٹی کی برآمدات’ کہتے ہیں، مستقبل کے حوالے سے بڑی امید جگا رہی ہے۔ یہ برآمدات ایک ایسی لہر بن چکی ہیں جو سرحدوں کے پار سے قیمتی زرمبادلہ سمیٹ کر لا رہی ہیں۔ اب نوجوانوں کے لیپ ٹاپس صرف مشینیں نہیں بلکہ قلم ہیں جو پاکستان کی نئی تقدیر لکھ رہے ہیں۔ یہ نوجوان نہ صرف اپنے خاندان کی زندگی بدل رہے ہیں بلکہ ملک کے لیے زرمبادلہ بھی پیدا کر رہے ہیں، جس سے معیشت میں استحکام آ رہا ہے۔ ان نوجوانوں کی جدوجہد ایک ایسی تحریک کی مانند ہے جو ملک میں کاروباری مواقع بڑھا رہی ہے، روزگار کے نئے دروازے کھول رہی ہے اور معاشرتی ترقی کے لئے بھی راہیں ہموار کر رہی ہے۔

تاریخ کے کڑے حالات نے ہمیشہ پسماندہ معیشتوں کو چیلنج کیا، مگر بعض اوقات وقت کی بساط پر مہریں اس ترتیب میں آتی ہیں کہ خوفِ شکست، امیدِ فتح میں بدل جاتا ہے۔ پاکستانی معیشت کے خاکے میں رنگ بھرنے والی کہانی محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ یہ اسٹریٹیجک جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے، جس میں آئی ٹی برآمدکنندگان، فری لانسرز اور پالیسی ساز کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے آئی ٹی کے شہسوار گھر بیٹھے عالمی منڈی کی سرحدی رکاوٹیں عبور کرکے زرمبادلہ کے خزانے سے خوشحالی سمیٹ رہے ہیں۔ ایک فری لانسر جو کسی دور دراز گاوں کے کسی گوشے میں بیٹھ کر عالمی منڈی سے ڈالر کشید کرتا ہے، وہ کرنٹ اکاونٹ خسارے کے اس زخم پر مرہم رکھتا ہے جو دہائیوں سے کھلا رہا تھا۔ یہ نوجوان نہ صرف محنت کر رہے ہیں بلکہ اپنے ہنر کو عالمی سطح پر منوا کر ملک کا وقار بھی بڑھا رہے ہیں۔

یہ محض تجارت نہیں، بلکہ ہنر کی وہ ہجرت ہے جو ملک میں رہتے ہوئے بھی وطن کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ دسمبر 2025ء کے دوران 437ملین ڈالر کی آئی ٹی برآمدات ایک تاریخی ریکارڈ ہیں، جو نومبر 2025ء کے مقابلے میں 23فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں جو انتہائی خوش آئند معاملہ ہے۔ پہلی ششماہی میں آئی ٹی برآمدات 2ارب 24کروڑ ڈالر تک پہنچیں، جس میں نوجوانوں کی محنت اور ان کی تخلیقی صلاحیتیں شامل ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان نوجوانوں کی بھرپور معاونت کرے اور شعبہ آئی ٹی میں سہولیات فراہم کرے تاکہ نوجوان اپنی قابلیت کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، مقامی حکومتیں بھی چاہیے کہ آئی ٹی کے نئے اسٹارٹ اپس، فری لانسنگ سینٹرز اور آن لائن تعلیم کے پروگرامز میں سرمایہ کاری کریں تاکہ نوجوانوں کی مہارتوں کا بھرپور فائدہ حاصل ہو۔ اس سے نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ ملک میں تکنیکی جدت اور سروسز کی برآمدات کو بھی نئی قوت ملے گی۔

آئی ٹی کی یہ برآمدات اب خاموش طاقت بن گئی ہیں، جنہیں بندرگاہوں یا بڑے کارخانوں کی ضرورت نہیں، ان کا ایندھن صرف ذہانت اور تیز رفتار انٹرنیٹ ہے۔ جب آئی ٹی برآمدات کے گراف بلندیوں کو چھوتے ہیں، تو یہ محض سروسز کی فروخت نہیں بلکہ ایک ‘ڈیجیٹل انقلاب’ کی تصویر ہے جس نے روایتی معیشت کی سست روی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اگر ریاست نوجوانوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے، تو وہ زرمبادلہ کے ذخائر کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے بھر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی مضبوط ہوتی ہے، جس سے مزید سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع کھل سکتے ہیں۔

بڑی صنعتوں کی نمو میں بہتری، پالیسیوں کے تسلسل اور اصلاحات کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ سمندر پار پاکستانی اپنی مٹی سے وفاداری کا وہ خراج پیش کر رہے ہیں جس نے کرنٹ اکاونٹ خسارے کے بوجھ کو کم کیا۔ اسٹیٹ بینک کے پاس 16.1ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، جن کے جون 2026ء تک 18ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ مہنگائی 6فیصد کی زنجیر میں قابو پانے میں کامیابی خوش آئند ہے، مگر یہ تبھی برقرار رہے گی جب درآمدات اور برآمدات کا توازن برقرار رکھا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ آئی ٹی تعلیم و تربیت کے پروگرامز کو ہر طبقے کے نوجوانوں تک پہنچائے، جس میں کالج، یونیورسٹی، اور مدرسوں کے فارغ التحصیل طلبہ وطالبات شامل ہوں۔ اس طرح پورے ملک میں نوجوانوں کی ٹیم مضبوط ہو گی جو ڈالر کی آمد بڑھا کر تجارتی خسارہ کم کرے گی، روپے پر دباؤ کم کرے گی، مہنگائی میں کمی لائے گی اور معیشت کو نیا جنم دے گی۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے لیے آن لائن مارکیٹنگ، بین الاقوامی فری لانسنگ پلیٹ فارمز اور کاروباری تربیت پر بھی توجہ دے تاکہ برآمدات میں اضافہ مستقل بنیادوں پر جاری رہ سکے اور ملکی معیشت مضبوط ہو۔ اس کے علاوہ خصوصی منصوبوں کے ذریعے دیہی اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو بھی اس مواقع تک رسائی دی جائے تاکہ معیشت میں ہر طبقے کی شمولیت ممکن ہو۔ آئی ٹی ہنر ہی اب معیشت میں نئی بلندیوں کا ذریعہ بن سکتا ہے، جو پاکستان کو عالمی سطح پر مسابقتی اور مستحکم معیشت کے طور پر متعارف کرائے گا۔