گزشتہ سال حج سے محروم ہزاروں پاکستانیوں کے ساتھ کیا ہوا؟ اندرونی کہانی منظر عام پر

اسلام آباد— حج 2025 میں نجی شعبے کے ہزاروں پاکستانی حجاج کے سفر سے محروم رہ جانے، غیر متوقع انتظامی رکاوٹوں اور شدید عوامی تشویش کے پس منظر میں حج 2026 کے انتظامات پارلیمانی جانچ کے دائرے میں آ گئے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے واضح کیا کہ گزشتہ سال کے بحران کے بعد اس بار حج کو کسی صورت کاروبار نہیں بننے دیا جائے گا اور ہر فیصلہ شفافیت، میرٹ اور حاجیوں کے تحفظ کو سامنے رکھ کر کیا جا رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطا الرحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سینیٹرز دنیش کمار، حافظ عبد الکریم، حسنہ بانو، بشریٰ انجم بٹ، ثمینہ ممتاز زہری، سرمد علی اور عطا الحق درویش نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں سرکاری حج اسکیم برائے حج 2026 کے تحت کوٹہ الاٹمنٹ، ٹینڈرنگ کے عمل اور اشیاء و خدمات کی خریداری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزارتِ مذہبی امور نے تمام متعلقہ ریکارڈ کمیٹی کے سامنے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ خریداری کا پورا عمل شفافیت اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے کیونکہ یہ براہِ راست ایک مقدس فریضے سے وابستہ ہے۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ حج 2026 کے انتظامات کی نگرانی کے لیے 7 رکنی ہائرنگ اینڈ پروکیورمنٹ کمیٹی قائم کی گئی جس میں وزارت، او پی اے پی اور قونصل جنرل آف پاکستان کے سینئر افسران شامل تھے۔ کمیٹی میں ایک بی ایس-21، دو بی ایس-20، ایک بی ایس-19 اور تین بی ایس-18 کے افسران شامل ہیں۔ پی پی آر اے قواعد کے مطابق ریکویسٹ فار پروپوزل جاری کی گئی جس میں تکنیکی جانچ، مارکنگ اور انتخاب کے طریقہ کار کی مکمل وضاحت کی گئی۔

پہلا روزہ کب ہوگا؟ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی سامنے آگئی

تکنیکی جانچ اور مالی بولیوں کے کھلنے کے بعد سب سے زیادہ فائدہ مند بولی دہندگان کو کام دینے کی سفارش کی گئی اور تمام فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے، جن کی بنیاد دہائیوں پر محیط سرکاری تجربہ اور سابقہ حج آپریشنز رہا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی پالیسی کے تحت ہر ملک کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ دو سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے خدمات حاصل کر سکتا ہے۔ جامع جانچ کے بعد 80 فیصد سروس کوٹہ الراجحی اور 20 فیصد رواف منیا کو فی حاجی 2,635 سعودی ریال کے نرخ پر دیا گیا۔ الراجحی کو بڑا حصہ اس کے مضبوط سابقہ ریکارڈ اور سب سے بلند تکنیکی و مالی درجہ بندی کی بنیاد پر دیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطا الرحمان نے کہا کہ حج کو اس کی اصل روحانی حیثیت میں برقرار رکھا جانا چاہیے اور اسے محض تجارتی سرگرمی نہیں بننے دیا جائے گا۔ وزارت نے وضاحت کی کہ شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام موجود ہے اور ایک کمپنی کی جانب سے دائر اعتراضات کا باقاعدہ جائزہ لیا گیا، جبکہ بالآخر الراجحی نے زیادہ مسابقتی اور کفایتی نرخ پیش کیے۔

سینیٹر دنیش کمار نے سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی شارٹ لسٹنگ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ اگرچہ سعودی حکام کی جانب سے 34 کمپنیاں منظور شدہ تھیں تاہم صرف 6 کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔ وزارت نے جواب دیا کہ پاکستان کی آبادی اور آپریشنل ضروریات کے مطابق 19 کمپنیوں نے درخواست دی، جن میں سے صرف 6 معیار پر پورا اتریں اور الراجحی میرٹ پر منتخب ہوئی۔

سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ الراجحی 80 ہزار حجاج کو سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور سعودی حکام سے باقاعدہ طور پر منظور شدہ ہے، تاہم دیگر ممالک میں کمپنی کی کارکردگی سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکیں۔ اراکین کمیٹی نے واضح کیا کہ حج 2026 کے دوران عملی کارکردگی ہی انتخاب کے میرٹ کی حتمی توثیق ہو گی۔

کمیٹی کو حج 2026 کے لیے خدام الحجاج اور ناظمین کے انتخاب پر بھی جامع بریفنگ دی گئی۔ بی ایس-20 افسر کی سربراہی میں قائم دستاویز جانچ کمیٹی اشتہار میں دیے گئے معیار کے مطابق درخواستوں کی سخت جانچ کر رہی ہے۔ بتایا گیا کہ جانچ آخری مراحل میں ہے اور کسی بھی تضاد کی صورت میں امیدوار کی نامزدگی منسوخ کر کے میرٹ کے مطابق اگلے امیدوار کو منتخب کیا جائے گا۔

ناظم اسکیم کے تحت ہر 188 حجاج کے گروپ کے لیے ایک ناظم تعینات کیا جائے گا۔ مجموعی طور پر 635 فلاحی عملہ ناظمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے گا جبکہ دیگر اہلکار جدہ اور مدینہ منورہ کے حج ٹرمینلز، ٹرانسپورٹ، رہائش، خوراک، شکایتی مراکز، گمشدہ اشیاء یونٹس اور حرم رہنمائی جیسے اہم شعبوں میں تعینات ہوں گے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ مارچ 2026 میں دو ہفتوں پر مشتمل جامع تربیتی پروگرام بھی منعقد کیا جائے گا جس میں آپریشنل ذمہ داریوں، حجاج کی سہولت اور صحت کی معاونت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ وزارت نے مہمانانِ خدا کی خدمت میں شفافیت، میرٹ اور جوابدہی کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس میں حج 2025 کے تناظر میں نجی حج شعبے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ایچ او اے پی نے بتایا کہ 2025 وہ واحد سال تھا جب غیر متوقع رکاوٹ کے باعث نجی شعبے کے حجاج سفر نہ کر سکے، تاہم اس صورتحال کو پیشہ ورانہ انداز میں سنبھالا گیا اور تمام متاثرہ حجاج کو یا تو حج 2026 میں ایڈجسٹ کیا گیا یا بغیر کسی کٹوتی کے مکمل رقم واپس کی گئی۔ نمایاں مالی نقصانات کے باوجود کوئی بڑا تنازع سامنے نہیں آیا۔

دنیا کا سب سے بڑا قرآنی نسخہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل

کمیٹی کو نجی حج معاہدوں سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے جن کے مطابق ٹور آپریٹرز کے ساتھ 24 مکمل اور ایک جزوی معاہدہ کیا گیا جبکہ کل 60 ہزار کے کوٹہ میں سے 16,193 حجاج تاحال معاہدوں کے تحت شامل ہونا باقی ہیں۔ مدینہ منورہ میں رہائشی معاہدوں سے متعلق پیش رفت بھی اجلاس میں زیر بحث آئی۔

کمیٹی کو پاکستانی حجاج کے نظم و ضبط اور دیگر ممالک سے موازنہ پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزارت نے بتایا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت اصلاحات مرحلہ وار نافذ کی جا رہی ہیں جن میں ملک مخصوص انتظامات، صوبائی نمائندگی کی جھلک اور پاکستان کے لیے مخصوص تھیم کلر بھی شامل ہے۔

قائمہ کمیٹی نے قانون سازی سے متعلق امور پر بھی غور کیا۔ سینیٹر سید علی ظفر کی جانب سے پیش کیا گیا مسلم فیملی لاز (ترمیمی) بل، 2024 محرک کی عدم موجودگی کے باعث نمٹا دیا گیا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کے نجی رکن کے بل پر مزید بحث مؤخر کر دی گئی جبکہ سینیٹر سرمد علی کی جانب سے پیش کردہ مسلم فیملی لاز (ترمیمی) بل، 2026 کو اسلامی نظریاتی کونسل کی آرا موصول ہونے تک مؤخر کر دیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حج کی حرمت کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا، شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور مہمانانِ خدا کی خدمت کو امانت سمجھتے ہوئے تمام فیصلے اسی اصول کے تحت کیے جائیں گے۔