(تیسری قسط)
(٢) دوسرا مسئلہ ہمیں درپیش ہوا تھا قادیانیت پر۔ بڑا سنگین مسئلہ تھا۔ ایک اسلامی ریاست میں، منکرینِ ختمِ نبوت، مرتد ہیں، ان کو رہنے کا حق ہے؟ اگر نہیں ہے تو اِن سب کو قتل کریں گے؟ ہم یہاں پھنس گئے تھے آ کر۔ منکرینِ ختم نبوت کو حضرت صدیق اکبر نے تو حق نہیں دیا تھا۔ ہمارا اصل روایتی فیصلہ کیا ہے؟ توبہ کرو، ورنہ ہم ”توبہ” کرا دیں گے۔ لیکن یہاں یہ ممکن نہیں تھا۔ تو یہاں ہم نے اقبال کی تجویز قبول کی کہ غیرمسلم اقلیت قرار دے کر غیر مسلم کے ٹائٹل کے ساتھ ملک کا شہری رہ سکتے ہیں۔ بطور غیر مسلم، مسلمان کے ٹائٹل کے ساتھ نہیں، غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ بطور غیر مسلم کے ملک کے شہری ہوں گے، اور جو شہریوں کے حقوق ہیں اِن کے ہوں گے۔ وہ اس کو تسلیم نہیں کر رہے، جھگڑا جاری ہے۔ تو یہ ہمارا دوسرا بڑا اجتماعی اجتہادی فیصلہ تھا اور اللہ کی قدرت، اس میں بھی سب شریک تھے۔
ایک لطیفہ اور عرض کر دیتا ہوں۔ ہمارے ہاں تو حاکمیت ِاعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اسلام کے ٹائٹل کے ساتھ، مذہبی عنوان کے ساتھ ایران نے بھی دستور بنایا ہے۔ وہاں حاکمیتِ اعلیٰ کس کی ہے؟ نہ جمہور کی، نہ اللہ کی۔ میں نے پورا سٹڈی کیا ہے، وہاں جا کے کیا ہے۔ ایران کے دستور پر بہت لکھا ہے میں نے۔ وہاں حاکمیتِ اعلیٰ امامِ غائب کی ہے۔ ایران کے دستور میں سب سے پہلی بنیاد یہ ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ امامِ غائب کی ہے۔ اب امام تو غائب ہے، تو حکومت کون کرے گا؟ آپ نے ایک اصطلاح سنی ہوگی ”ولایتِ فقیہ”۔ ملک کے منتخب فقہاء جس کو لیڈر بنا لیں وہ امامِ غائب کا نمائندہ ہے۔ اس کا ٹائٹل ہے ولایتِ فقیہ۔ اس کو امامِ غائب کے تمام اختیارات حاصل ہیں۔ ”ولایتِ فقیہ” کیا ہے؟ اسے شوریٰ نگہبان کہتے ہیں ۔ اس میں چھ چوٹی کے علماء ہیں اور میرا خیال ہے پانچ یا چھ چوٹی کے قانون دان ہیں۔ نگران شوریٰ، سب سے اوپر ہے اور وہ جس کو رہبر منتخب کر لے۔ پہلے خمینی صاحب تھے۔ اب کون ہیں؟ خامنہ ای صاحب۔ اب وہ زیادہ ضعیف ہو گئے، اب نئے کی تلاش ہو رہی ہے۔ شوریٰ نگہبان کے ساتھ ہماری ایک مستقل، دو گھنٹے کی میٹنگ رہی ہے۔1987ء میں ہم گئے تھے۔ خیر! یہ لمبی بات نہ ہو جائے۔ لیکن میں نے ایک فرق بتایا ہے کہ بنیاد ہوتی ہے دستور کی کہ حاکمیت ِاعلیٰ کس کی ہے، فائنل اتھارٹی کون سی ہے، کس کے فیصلے کو آگے اپیل نہیں کیا جا سکتا؟ جمہوریت میں پارلیمنٹ ہے۔ ہمارے دستور کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ ہیں اور اس کا اظہار قرآن و سنت کی شکل میں ہے۔ اور ایران کے دستور میں کون ہیں؟ امامِ غائب۔
اچھا، اب تیسری بات، حقِ حکمرانی۔ حکومت کی تشکیل کیسے ہوگی؟ اس کا ایک تو، فقہاء نے جو خلافت کے انتخاب کی صورتیں بیان کی ہیں، خلیفہ کیسے منتخب ہوگا۔ لیکن ایک سوال میرا ہوتا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو حکومت تھی، اس کو ہم ریاستِ مدینہ کہتے ہیں۔ خلافت تو حضورۖ کے بعد شروع ہوئی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حضورۖ کی حکومت قائم ہوئی تھی، آٹھ سال، نو سال، وصال تک رہی ہے، اس کو ہم ریاستِ مدینہ کہتے ہیں۔ وہ پھر منتقل ہوئی تھی حضرت صدیق اکبر کو، اس کو ہم خلافت کہتے ہیں۔ یعنی دو دور ہوئے ۔ یہاں میں ایک بات پوچھا کرتا ہوں کہ ریاستِ مدینہ حضورۖ نے قائم کی تھی، ابتدا میں یثرب اور اس کے گرد و نواح پر، حضورۖ نے قبضہ کر کے قائم کی تھی؟ ریاستِ مدینہ کی تشکیل قبضہ کر کے ہوئی تھی؟ لڑائی کر کے ہوئی تھی؟ کیسے ہوئی تھی؟ یہ تو مہاجر تھے، چھپتے چھپاتے آئے تھے، آتے ہی حکومت کیسے بن گئی؟ یہ بڑا بنیادی سوال ہے۔ چھپتے چھپاتے، چار اُدھر سے، پانچ ادھر سے، رات کو سفر کرتے ہیں، دن کو نہیں کرتے، ڈرتے ڈراتے، چھپتے چھپاتے آئے ہیں۔ اور آ کے پہنچے، حکومت بن گئی، یہ کیسے بن گئی؟
اس پر ایک لطیفہ نما واقعہ بھی ہے۔ امام بخاری نے بڑے مزے سے یہ قصہ بیان کیا ہے۔ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ہجرت کے بعد کا اور بدر سے پہلے کا۔ سعد بن عبادہ، یہ سردار تھے خزرج کے۔ بنو اوس کے سردار سعد بن معاذ تھے۔ دونوں سعد تھے اور واقعتاً سعد تھے۔ یہ پہاڑی علاقے پہ رہتے تھے، حضورۖ ان کی بیمار پرسی کے لیے گئے تو وہاں راستے میں ایک اجتماع تھا۔ کوئی غمی خوشی کا، علاقے کا محلے کا کوئی اجتماع تھا۔ مسلمان بھی اس میں بیٹھے ہوئے تھے، اس میں یہودی بھی تھے، دوسرے بھی تھے۔ عبد اللہ بن اُبی بھی بیٹھا ہوا تھا۔ عبد اللہ بن اُبی نے ابھی کلمہ نہیں پڑھا تھا۔ پڑھا بعد میں بھی نہیں تھا۔ لیکن ابھی رسماً بھی کلمہ نہیں پڑھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے ہیں سعد بن عبادہ کی بیمار پرسی کے لیے۔ حضورۖ کا معمول تھا ، جہاں کوئی اجتماع دیکھتے تھے تو فائدہ اٹھاتے تھے۔ جہاں کسی حوالے سے بھی لوگ جمع ہوتے تھے، حضورۖ وہاں کچھ نہ کچھ ”بزرگو، دوستو” کرتے تھے۔ حضورۖ کھڑے ہو گئے۔ خشک موسم تھا، خچر پر سوار تھے، دھول اڑ رہی تھی۔ یہ پاس سے گزرے تو دھول اڑی اور لوگوں کی ناک تک گئی تو عبد اللہ بن اُبی نے نفرت سے ناک پہ رومال رکھا: ”وہ ادھر چل کے، ہمارے ناک میں کیوں غبار گھسیڑ رہے ہو، اُدھر ہو کے چلو”۔ پھر حضورۖ کھڑے ہو گئے۔ حضورۖ نے، جو معمول تھا، قرآن پاک پڑھا، دعوت دی۔ اس پر عبد اللہ بن اُبی نے کہا: او بھائی۔ ”یا رجل”۔ ”یہ باتیں اچھی ہوں گی، اپنے گھر میں کیا کرو، ہمیں نہ آ کے سنایا کرو، یہاں ہماری مجلسوں میں مت آیا کرو، تمہارے پاس کوئی آئے، سناؤ اس کو”۔ اتفاق کی بات، عبد اللہ بن رواحہ وہاں سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو غصہ آیا، انہوں نے کہا تو کون ہے روکنے والا؟ یا رسول اللہ! فرمائیں، ہم سنیں گے۔ دو عبد اللہ لڑ پڑے وہاں۔ روایت میں یہ ہے کہ ایک دوسرے پر کود پڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی مشکل سے چپ کروایا لوگوں کو۔ آرام سے بیٹھو، میری بات سنو نہ سنو، لڑو تو نہیں نا۔
یہ واقعہ ہو گیا۔ واقعہ کے بعد حضورۖ گئے سعد بن عبادہ کے پاس۔ وہ عبد اللہ بن اُبی بھی خزرجی تھا۔ اس کے سردار بھی سعد بن عبادہ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شِکوے کے انداز میں ، تمہیں پتہ چلا ہے ”ما فعل ابو الحباب؟”۔ ابو الحباب، عبد اللہ بن اُبی کی کنیت تھی۔ آپ کو پتہ چلا کیا کیا اس نے؟ انہوں نے کہا، جی چل گیا ہے پتہ۔ مجھے رپورٹ مل گئی ہے کہ راستے میں۔ حضورۖ نے شکوے کے انداز میں کہ میں نے دو باتیں کی ہیں اور یہ حرکت کر دی ہے اس نے۔ سعد بن عبادہ نے پھر ایک بات کی، اصل ساری کہانی یہ بات سنانے کے لیے ہے۔ یا رسول اللہ! عبد اللہ بن اُبی نے جو کچھ کیا وہ غلط کیا، مجھے پتہ چل گیا، بہت بری حرکت کی ہے، لیکن عبد اللہ بن اُبی کے ساتھ جو ہوا ہے وہ بھی تو آپ کو پتہ ہوگا نا۔
سعد بن عبادہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے آنے سے پہلے ”اھل ھذہ البحیرہ”۔ یہ سمندری پٹی۔ یہ ینبع سے مدینہ تک پوری پٹی ہے۔ ”اھل ھذہ البحیرہ”۔ اِس بحیرہ کے، اس سمندری پٹی کے قبائل نے آپس میں فیصلہ کر لیا تھا کہ ہم نے باقاعدہ حکومت قائم کرنی ہے، ہم نے ایک ریاست بنانی ہے۔ قبائلی نظام تھا پہلے۔ حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، حدود طے کر لی تھیں، اور عبد اللہ بن اُبی کو حاکم منتخب کر لیا تھا، صرف دستار بندی باقی تھی۔ ”یعصبونہ اور یتوجونہ”۔ دستار بندی باقی تھی، باقی فیصلے ہو چکے تھے۔ آپ تشریف لے آئے، اُس کی حکومت گئی۔ یہ ہوا ہے اُس کے ساتھ۔ سارے معاملات، میں کہا کرتا ہوں، الیکشن ہو گیا تھا، حلف اٹھانا تھا۔ ”یعصبونہ اور یتوجونہ”۔ اس کی تیاری کر رہے تھے کہ اس کو تاج پہنائیں گے یا دستار بندی کریں گے۔ آپ آ گئے۔ اب وہ غصہ نکال رہا ہے۔ ساری زندگی غصہ ہی نکالتا رہا۔
یہ ریاست تھی، ریاستِ مدینہ کا آغاز۔ ”اہل ھذہ البحیرہ”۔ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال، کتنے عرصے کے بعد، دس سال کے بعد ہے؟ اُس وقت ریاست کا دائرہ کیا تھا؟ یمن بھی اس میں تھا، بحرین بھی اس میں تھا، نجد بھی اس میں تھا، نجران بھی اس میں تھا۔ یہ پوری جزیرة العرب۔ حضورۖ نے جو اقتدار منتقل کیا ہے صدیق اکبر کو، پورے جزیرة العرب کا تھا۔ (جاری ہے)

