آذربائیجان کی دو ارب ڈالر سرمایہ کاری

گزشتہ روز میں روزنامہ اسلام کے صفحات پلٹ رہا تھا کہ شاید آج پاکستان کے لیے کوئی اچھی معاشی خبر بھی ہو۔ سرخیاں حسب روایت سنجیدہ تھیں۔ وینزویلا پر امریکی حملے کی خبر سے دنیا کی بے چینی عیاں تھی۔ کہیں مہنگائی کے اعداد وشمار اور غزہ پر اسرائیلی کارستانیوں میں اضافے کی دلخراش تفصیلات۔ اچانک ایک خبر پر میری نظر جم گئی۔ وہ تھی پاکستان اور آذربائیجان کا 2ارب ڈالر سرمایہ کاری پر اتفاق۔ اور یہ طے ہوا وزیرخارجہ و نائب وزیر اعظم جناب اسحاق ڈار کی آذربائیجان کے وزیر معیشت سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران۔

دو ارب ڈالر سے کہیں زیادہ کی خبریں بھی ہم پڑھتے رہے ہیں۔ یہ خبر پڑھ کر بھی کئی لوگ عادتاً مسکرائے ہوں گے۔ کیونکہ اس قسم کے اعلانات اعداد و شمار کی صورت میں بہت دیکھے اور سنے لیکن زمین پر حقیقت بن کر کم ہی اترتی ہیں لیکن اس خبر میں ایسی دوسروں خبروں سے ایک فرق تھا۔ یہ ایک خودمختار ملک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا پکا ارادہ تھا۔ آذربائیجان اپنی تیل وگیس کی دولت وہاں لگاتا ہے، جہاں منافع کی گنجائش ہو اور دوسری ریاست وعدہ نبھا سکے۔ آئیے ذرا اس خبر کا جائزہ لیتے ہیں۔

نائن الیون کے بعد پاکستان اتنے زیادہ حوادث سے گزر چکا اور ابھی تک گزر رہا ہے کہ اب یہ سوال نہیں رہا کہ پیسہ آئے گا یا نہیں۔ سرمایہ کاری ہوگی یا نہیں؟ بلکہ سوال یہ تھا کہ کیا پاکستان اب سرمایہ کاری کے قابل ریاست بن سکتا ہے۔ اس سوال کو شک کے لمحات سے نکال کر آذربائیجان نے حق دوستی ادا کردیا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے قابل ایک اہم ترین ملک ہے اور اس پر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔ میں اسے معاشی خوشخبری اس لیے قرار دیتا ہوں کہ اس میں بار بار فریم ورک کی بات کی گئی ہے۔ آذربائیجان ایسا فریم ورک چاہتا ہے جس میں وقت کی پابندی ہو۔ اجازت نامے واضح ہوں۔ حکومت کو اگلا قدم یہ اٹھانا ہوگا کہ کوئی کام جو سرمایہ کاری سے متعلق ہو، اس میں سرخ فیتے کی شرکت کو ممنوع قرار دے۔ پہلے نجی سرمایہ کار چاہے پاکستانی ہو یا غیرملکی وہ سرخ فیتہ عبور کرتے کرتے زچ ہو جاتا ہے اور جب ایک مقام پر اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ پیسہ تو لگا رہے ہیں، ہمارا بھی ”خیال” کریں یا پھر یہ کہ ہمیں کیا ملے گا۔ تو یہ سن کر وہ اپنا سرمایہ کسی اور ملک میں لے جاکر لگا دیتا ہے۔

پاکستان کو ایک بات ذہن نشین رکھنا ہوگی کہ آذربائیجان تیل کا بہت بڑا پیداواری ملک ہے اور یہ بات یقینی کی جاسکتی ہے کہ وہ دیگر استعماری قوتوں کی طرح سلوک نہیں کرے گا کہ جو کچھ حاصل کیا اس کا بہت بڑا حصہ وہ سمیٹ کر لے جائے۔ اس لیے تیل گیس کی پیداوار کے سلسلے میں اس ملک کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع تلاش کیے جانے چاہئیں۔

ابھی تک شعبوں کا واضح تعین نہیں کیا گیا لیکن پاکستان کی معیشت اس وقت مہنگی ترین بجلی، کمزور ترین صنعت اور محدود برآمدات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ اگر توانائی کے شعبے کو اولین ترجیح دی جائے تو یہ راستہ تیل وگیس اور بجلی ہی نہیں بلکہ صنعت کی بحالی، برآمدات میں اضافے کا راستہ کھول سکتی ہے، یہ خبر معاشی خوشخبری تو ہے لیکن ایک امتحان سے گزرنے کے بعد حقیقت میں تبدیی ہونا یقینی ہے۔ یہ اعلان پاکستان کے لیے ریاستی اعتبار سے ایک امتحان ہے کہ وہ کس طرح اسے کامیاب شکل میں ڈھالتا ہے۔ اس باہمی گفتگو میں رابطے پر زور دیا گیا ہے۔ یعنی دو ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کے لیے ایک باضابطہ فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر اتفاق ہوا۔ اس وقت پاکستان کے لیے دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کوئی غیرمعمولی رقم نہیں ہے کیونکہ پاکستان جیسے ملک کو جو اس وقت ہی نہیں بلکہ ہر وقت اور مستقبل قریب میں بھی زرمبادلہ کی کمی رہتی ہے۔ محدود معاشی نمو ہے اور آذربائیجان جو توانائی کے شعبے میں بے انتہا مہارت رکھتا ہے اور اسی شعبے میں مہارت، تجربہ، سرمایہ کاری کی پاکستان کو انتہائی سخت ترین ضرورت ہے اور رسائی بھی ممکن ہے، فی الحال افغانستان کے راستے سے نہ سہی، ایران کے راستے سے بھی ممکن ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس معاملے کو انتہائی ترجیح دیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر معاہدے کرے اور خاص طور پر توانائی کے شعبے کو اولیت دی جائے کیونکہ تیل، گیس، بجلی پاکستان کی اہم ترین ضرورت ہے اور یہ معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی، بجلی کی ارزانی، تیل وگیس کی پیداوار میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔