تیسری قسط:
حضرت عمر فاروق کا معیارِ زندگی
ایک دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے۔ طبیب آئے، حال احوال پوچھا، نبض دیکھی اور بتایا کہ انتڑیاں خشک ہو گئی ہیں، کچھ دن زیتون کا تیل استعمال کریں، یہی آپ کا علاج ہے۔ فرمایا میرے گھر میں تو زیتون کا تیل نہیں ہے۔ کسی نے بتایا کہ بیت المال میں زیتون کا تیل موجود ہے۔ فرمایا اچھا! بیت المال میں زیتون کا تیل ہے، ابو عبیدہ کو بلائیں۔ پوچھا عبیدہ بیت المال میں زیتون کا تیل ہے؟ بتایا، جی حضرت! موجود ہے۔ پوچھا کتنا ہے؟ بتایا کہ حضرت! بہت ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ یہ تیل مدینہ منورہ کے سب لوگوں میں تقسیم کیا جائے تو میرے حصے میں کتنا آتا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت پھر وہ اتنی مقدار کا نہیں ہوگا کہ کھانے کے قابل ہو۔ آپ نے فرمایا بس اس سے زیادہ حق میرا بیت المال پر نہیں ہے۔ بیت المال کی چیز مدینہ منورہ کے لوگوں میں برابر تقسیم ہو کر جو حصہ میرے حصے میں آتا ہے بس وہی میرا حق ہے، اس سے زیادہ میں نہیں لے سکتا۔ طبیب نے کہا کہ حضرت! بطور قرض لے لیں۔ پوچھا کیا تم ضمانت دیتے ہو کہ اگر میں قرض نہ ادا کر سکا تو تم ادا کرو گے؟
میں نے عرض کیا کہ خلفائے راشدین نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیمات کے مطابق نظام حکومت کی ایسی مثال پیش کی کہ دنیا کا کوئی نظام اسے دہرا نہ سکا۔ یہ اللہ کے رسول کی حکمت تھی کہ حاکم وقت عام آدمی کے معیار کے مطابق زندگی گزارے گا تو عام لوگوں کی مشکلات و مسائل سے آگاہ ہوگا اور انہیں حل کرنے کی فکر کرے گا۔
حضرت عمرفاروق کے انصاف کا معیار
امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ تاریخ والے لکھتے ہیں۔ اسلامی ریاست کے قیام کے بعد دوسرے ملکوں کی طرف سے وفود کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، رواج کے مطابق ملکوں کے وفد دوسرے ملکوں میں جاتے تھے تو تحفے تحائف لے کر جایا کرتے تھے، ایک مرتبہ قیصرِ روم نے تحفے میں عورتوں کے استعمال کی خوشبو بھیجی جو پاؤڈر کی شکل میں تھی۔ حضرت عمر بن الخطاب نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ اسے عورتوں میں کیسے تقسیم کیا جائے، ساتھیوں نے کہا کہ حضرت! اپنی زوجہ محترمہ کو دے دیجیے کہ وہ اسے عورتوں میں تقسیم کر دیں گی۔ حضرت عمر گھر تشریف لے گئے اور اہلیہ محترمہ کو بتایا کہ یہ خوشبو تحفے میں آئی ہے، اسے عورتوں میں تقسیم کرنا ہے، اس کے لیے ساتھیوں نے تمہارا نام تجویز کیا ہے، اس لیے تم اسے تقسیم کر دو لیکن پہلے مجھے بتاؤ کہ تمہاری تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا؟ اہلیہ نے کہا کہ عورتوں کو اکٹھا کروں گی اور سب میں برابر برابر تقسیم کر دوں گی۔ پوچھا اپنا حصہ کتنا رکھو گی؟ بتایا کہ جتنا دوسروں کو دوں گی، اتنا ہی اپنا بھی رکھوں گی۔ فرمایا کہ خوشبو کا وہ حصہ جو تقسیم کرتے وقت ہاتھ پر لگ جائے گا، وہ کس کھاتے میں جائے گا؟ اس لیے یہ خوشبو سب میں تقسیم کرو لیکن اپنا حصہ کم رکھنا۔ دنیا کا کونسا حکمران ہے جو انصاف کو اس درجے پر قائم رکھ سکے۔
حاکم وقت کے احتساب کا حق
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکومت کا نظام قائم کیا اور معاشرے کے ہر فرد کو احتساب کا حق دیا، ایک مرتبہ ایک صحابی کو باتوں باتوں میں حضور نے چھڑی مار دی جس سے اس کے جسم پر خراش آگئی تو اس نے کہا کہ یا رسول اللہ میں آپ سے بدلہ لوں گا۔ آپ نے اس کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے فوراً چھڑی اس کے ہاتھ میں دے دی اور اپنی کمر آگے کر دی۔ جب حضرت ابوبکر حضور کے جانشین کے طور پر خلیفہ بنے اور مسجد نبوی میں آئے تو پہلا خطبہ یہ ارشاد فرمایا کہ لوگو! میں تم پر امیر بنا دیا گیا ہوں لیکن میں تم میں سے بہتر نہیں ہوں۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق کی انکساری اور کسرِ نفسی تھی ورنہ ”افضل البشر بعد الانبیاء ابوبکر الصدیق” حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے بعد نسلِ انسانی کی بزرگ ترین شخصیت جناب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تھی۔ فرمایا کہ میں تم میں سے بہتر نہیں ہوں لیکن میں تم پر حکمران بنا دیا گیا ہوں، اگر میں سیدھا سیدھا چلوں تو میرا ساتھ دو لیکن اگر میں ٹیڑھا چلوں اور میرے طرزِ عمل میں کہیں کجی نظر آئے تو مجھے سیدھا کر دو۔ خلیفة المسلمین اپنے پہلے خطبے میں اپنی رعیت کو یہ حق دے رہا ہے کہ اگر میں کسی معاملے میں ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کر دینا۔
جب خلیفہ بنے تو یہی بات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی دہرائی۔ آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ لوگو! ابوبکر صدیق نے مجھے تم پر اپنا جانشین مقرر کیا ہے اور تم پر اپنا امیر بنا دیا ہے۔ پھر پوچھا کہ میں اگر سیدھا سیدھا چلوں گا تو میرا ساتھ دو گے لیکن اگر میں ٹیڑھا چلوں گا تو تمہارا طرزِ عمل کیا ہوگا؟ ایک بدو صحابی نے کھڑے ہو کر اپنی تلوار لہرائی کہ پھر ہم تلوار سے آپ کو سیدھا کر دیں گے۔ اس پر حضرت عمر فاروق نے فرمایا کہ یااللہ! تیرا شکر ہے کہ عمر کی رعیت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو عمر کو تلوار کے ساتھ سیدھا رکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کو احتساب کا تصور اور آزادی رائے کا یہ حق دیا کہ ایک بار جب حضرت عمر فاروق نے بیت المال سے ایک خاندان کے لیے راشن پہنچایا تو گھر کی بڑھیا نے رات کی تاریکی میں حضرت عمر سے کہا کہ اگر عمر اپنی رعیت کے بھوکوں کا خیال نہیں کر سکتا تو اسے اپنے عہدے پر فائز رہنے کا حق نہیں ہے۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد احتساب کے اس تصور کو خلفائے اسلام نے کس طرح قائم رکھا؟ امیر المؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیس سال تک مسلمانوں کے متفقہ امیر المومنین رہے، ان کے بارے میں تاریخ ایک دلچسپ واقعہ نقل کرتی ہے۔ طبرانی کی روایت ہے کہ حضرت معاویہ نے ایک دن جمعے کے خطبے کے دوران ایک جملہ فرمایا ”انما المال مالنا والفئی فیئنا من شئنا عطیناہ و من شئنا منعناہ” کہ بیت المال کا مال ہمارا مال ہے اور غنیمت کا مال ہمارا مال ہے ہم جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔
یعنی بیت المال کی دولت اور غنیمت کے مال پر ہماری مرضی ہے کہ جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں۔ اس پر ایک جمعہ گزر گیا۔ اگلا جمعہ آیا تو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے یہ بات پھر دہرا دی، لوگوں میں کچھ کھسر پھسر ہوئی کہ یہ کیا بات ہو رہی ہے۔ تیسرا جمعہ آیا تو حضرت معاویہ نے ایک بار پھر یہی بات دہرا دی۔ دمشق کی جامع مسجد میں جمعے کا یہ خطبہ ہو رہا تھا۔ اجتماع میں سے ایک آدمی کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا کہ امیر المؤمنین بات سنیے، یہ تیسرا جمعہ ہے کہ آپ یہی بات کہہ رہے ہیں۔ سنیے، یہ بیت المال کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے یہ مسلمانوں کا مال ہے ہم کسی کو مسلمانوں اور بیت المال کے درمیان حائل نہیں ہونے دیں گے۔ (جاری ہے)
آخری قسط:
جمعہ کے بعد حضرت معاویہ نے اس شخص کو اپنے گھر بلا لیا، کچھ لوگ پیچھے گئے کہ اگر کوئی بات سختی کی ہوئی تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔ اندر گئے تو دیکھا کہ حضرت معاویہ نے اسے اپنی مسند پر بٹھا رکھا ہے اور خود اس کے سامنے مؤدب بیٹھے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ‘اللہ تعالیٰ اسے زندگی دے اس نے مجھے نئی زندگی عطا کی’۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اصل قصہ یہ ہے کہ میں جو یہ بات دہرا رہا تھا تو میں ایسا قصداً کررہا تھا کہ اس سے میرا ایک مقصد تھا۔ فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا کہ میرے بعد میری امت میں کچھ حکمران ایسے بھی آئیں گے جو میرے منبر پر کھڑے ہوکر جو جی میں آئے گا کہیں گے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا، کوئی باز پرس نہیں کرنے والا ہوگا۔ ایسے حکمران جہنم میں بندروں کی طرح چھلانگیں لگاتے پھریں گے۔ حضرت معاویہ نے فرمایا کہ جب پہلے جمعے میں مجھے کسی نے اس بات پر نہیں ٹوکا تو مجھے یہ بات کھٹکی کہ معاویہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔ دوسرے جمعے میں نے پھر یہ بات دہرائی کہ شاید اب کوئی کھڑا ہو، جب پھر کوئی نہیں کھڑا ہوا تو مجھے پریشانی لاحق ہو گئی کہ یہ مسئلہ تو خراب لگتا ہے، کہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کی زد میں تو نہیں آرہا۔ آج کے خطبہ جمعہ میں اس شخص نے کھڑے ہو کر مجھے ٹوک دیا اور مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کی زد سے نکالا۔ حضرت معاویہ صحابہ کرام میں آخری خلیفہ ہیں۔ ان کا معیار یہ ہے کہ وہ خود احتسابی کررہے ہیں اور اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی پر پرکھ رہے ہیں۔
حاکم وقت کا احتساب، رعیت کا حق یا ذمہ داری؟
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکومت کا جو تصور پیش کیا اس میں عام لوگوں کو احتساب کا حق دیا کہ اگر حاکم وقت میں کوئی غلط بات دیکھیں تو ٹوک دیں۔ آج کے نظام سیاست میں اور اسلام کے نظام سیاست میں ایک بنیادی فرق ہے۔ حاکم وقت اگر کوئی بات یا عمل حق کے خلاف کررہا ہو یا ناانصافی اور ظلم کا معاملہ کررہا ہو تو اسے اِس طرز عمل سے روکنے کو آج کی دنیا ہر شہری کا حق قرار دیتی ہے۔ لیکن حاکم وقت کے خلاف تنقید کرنا اسے اس کی غلطی پر ٹوکنا اور اس کی غلط بات کی نشاندہی کرنا اسلام نے اسے حق نہیں بلکہ ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اسلام کے اور آج کے مروجہ نظام سیاست میں یہ فرق ہے۔ حق تو اختیاری ہوتا ہے کہ کوئی اپنا حق استعمال کرے یا نہ کرے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اختیار نہیں دیا بلکہ بالخصوص علماء کے حوالے سے یہ فرمایا کہ غلط بات کو غلط کہنا پڑے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عالم ایک ظالم حکمران کے ظلم کو دیکھ کر خاموش رہے وہ اپنی ذمہ داری سے گریز کررہا ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جہاد قرار دیا ‘افضل الجھاد کلمة حق عند سلطان جائر ‘ کہ سب سے بہتر جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔
ایک حدیث میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جو ظالم حکمرانوں کے سامنے حق بات کہنے کا حوصلہ نہ کریں، شیطان کا ساتھی قرار دیا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جو میرے منبر بیٹھتا ہے اور ظالم کے ظلم کو ظلم نہیں کہتا ‘شیطان خرس’ وہ گونگا شیطان ہے۔ لیکن اس میں نکتہ یہ ہے کہ بھلائی کی بات ایسے انداز سے کہی جائے کہ جس میں خیرخواہی ہو۔ ایک صحابی نے پوچھا یارسول اللہ! دین کیا ہے؟ فرمایا خیرخواہی کا نام دین ہے۔ پوچھا کس کی خیرخواہی؟ فرمایا ‘للہ و لرسولہ و لائمة المسلمین و عامتھم’ کہ اللہ کے لیے خیرخواہی (اللہ کی بندگی)، اللہ کے رسول کے لیے خیرخواہی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت پر عمل)، مسلم حکمرانوں کی خیرخواہی (غلط باتوں پر تنقید) اور عوام الناس کی خیرخواہی۔ یعنی غلط بات پر موقع محل کی مناسبت سے تنقید کرنا ایک ذمہ دار شہری کا فریضہ ہے، لیکن یہ تنقید ایسے انداز سے ہو کہ اس میں دشمنی کا پہلو نہ ہو بلکہ خیرخواہی کا پہلو ہو۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمرانوں کی غلطیوں کو درست کرنے کو دین قرار دیا اور اسے جہاد کا درجہ دیا۔
میں نے اپنی گفتگو میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام حکومت کی دو بنیادی خصوصیات کا تذکرہ کیا ہے۔ پہلی خصوصیت یہ کہ آپ علیہ السلام نے ایک حاکم وقت کے طور پر اپنا معیارِ زندگی عام لوگوں کے مطابق رکھا، اس میں حکمت یہ تھی کہ ایک حاکم وقت عام لوگوں کے مسائل و مشکلات سے صحیح طور پر آگاہی اسی صورت میں حاصل کرسکتا ہے جبکہ وہ خود روز مرّہ زندگی کے ان مسائل و مشکلات سے گزرے۔ اگر حکمرانوں اور عوام الناس کے معیارِ زندگی میں فرق ہوگا تو حکمرانوں کو لوگوں کے مسائل کا صحیح ادراک نہیں ہوسکے گا اور وہ صحیح حکمرانی نہیں کرسکیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طرزِ حکومت متعارف کروایا اس کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ معاشرے کے ہر فرد کو حاکم وقت کے احتساب کا حق دیا اور بالخصوص معاشرے کے اصحابِ علم و دانش کی یہ ذمہ داری قرار دی کہ وہ حکمرانوں کے غلط اقدامات کی نشاندہی کرتے رہیں کہ احتساب کا یہ عمل حکومتی نظام کو صحیح رخ پر چلنے میں مدد دیتا رہے۔ اہل علم اگر امراء کے احتساب سے صرف نظر کریں گے اور جانتے بوجھتے ہوئے ان کے غلط اقدامات کی نشاندہی نہیں کریں گے تو وہ مجرم ٹھہریں گے اور اپنے فرض کی ادائیگی میں قصوروار ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے سیاسی راہنمائی کا جو تصور پیش کیا اس کی ایک جھلک میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہے۔

