بگڑا ہوا عالمی توازن

دوسری جنگِ عظیم کے بعد 1945ء میں مجلسِ اقوام (League of Nations) کی جگہ اقوامِ متحدہ کی تنظیم (UNO) وجود میں آئی۔ اس کا مقصد عالمی امن، سلامتی، ترقی اور حقوقِ انسانی کو فروغ دینا تھا۔ اس کے رکن ممالک کی تعداد 193 ہے۔ اس کے ذیلی اداروں میں: سیکرٹریٹ، جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل، اقتصادی اور سماجی کونسل (ECOSOC)، عالمی ادارۂ اطفال (United Nations Children Emergency Fund)، بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ)، اقوامِ متحدہ کاترقیاتی پروگرام (UNDP)، مہاجرین کا کمیشن (UNRWA)، اقتصادی ترقی کی تنظیم (UNIDO)، تجارت و ترقی کا ادارہ (UNCTAD)، عالمی ادارہ صحت (WHO)، عالمی ادارۂ حقوقِ انسانی (UNHRC) وغیرہ شامل ہیں۔ یو این او کا بنیادی مقصد اقوامِ عالَم کی خود مختاری اور سرحدوں کا تحفظ تھا تاکہ طاقت کے بل پر ممالک میں دراندازی نہ ہو سکے۔ اس کا سب سے بااختیار ادارہ سلامتی کونسل ہے، اس کے پندرہ ارکان ہیں، امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس سمیت اس کے پانچ ارکان مستقل ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو یک طرفہ طور پر سلامتی کونسل کے فیصلوں کو ردّ کرنے (Veto) کا اختیار حاصل ہے اور دس ارکان غیرمستقل ہیں جو مختلف علاقائی گروپوں کے لیے مختص ہیں۔ ہر سال پانچ غیرمستقل ارکان کی نشستیں خالی ہوتی ہیں اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ان کی جگہ دوسروں کا انتخاب کرتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی تشکیل کا مقصد عالمی توازن قائم کرنا تھا، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اقوامِ متحدہ کا واحد بااختیار ادارہ سلامتی کونسل ہے مگر اس کی ساخت جمہوریت کی ضد ہے کہ حقِ تنسیخ (Veto Power)کا حامل ایک ملک کسی بھی فیصلے یا قرارداد پر خطِ تنسیخ پھیر سکتا ہے اور اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ بار اس حق کو امریکا نے استعمال کیا ہے۔ ماضی میں دو بالادست طاقتیں امریکا اور سوویت یونین تھیں۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد اب ساری اجارہ داری امریکا کے پاس رہ گئی ہے۔ واعظانہ اور نظریاتی تبصرے تو بہت کیے جاسکتے ہیں لیکن نوشتۂ دیوار یہ ہے کہ امریکا پہلے اپنی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کو استعمال کرتا تھا، مگر اب وہ ان اداروں کو پرِکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا اور تنہا اپنے فیصلے دنیا پر مسلط کرتا ہے۔ عراق اور افغانستان پر یلغار کے لیے امریکا نے اقوامِ متحدہ کو استعمال کیا مگر اب اس نے غزہ اور فلسطین کی جنگ بندی کے لیے تمام قراردادوں کو یک طرفہ طور پر ویٹو کیا اور آخر میں اپنی اور اسرائیل کی پسند کی ایک قرارداد منظور کرالی اور روس اور چین نے بھی اُسے ویٹو نہ کر کے اس کے لیے راہ ہموار کی۔

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ امریکی فوجیں جہاں بھی زمین پر اتریں، شکست اُن کا مقدر بنی اور بالآخر مذاکرات کے ذریعے ان ممالک سے انخلا کی تدبیر اختیار کی۔ ویت نام، عراق اور افغانستان کی مثالیں سب کے سامنے ہیں بلکہ تازہ ترین رپورٹوں سے معلوم ہواہے کہ امریکا انخلا کے بعد بھی افغانستان کو مختلف صورتوں میں مدد دیتا رہا ہے، اسے تاوانِ جنگ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ امریکا کو نہایت عجلت سے ”بصد سامانِ رسوائی” افغانستان سے نکلنا پڑا اور اس طرح تقریباً سات ارب ڈالر کا اسلحہ مالِ غنیمت کے طور پر امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ہاتھ آیا، اب ٹرمپ کو وہ اسلحہ اور بگرام ائیرپورٹ یاد آرہا ہے، مگر بے سود۔

اپنے موجودہ دورِ صدارت میں ٹرمپ نے پہلے یہ تاثر دیا کہ وہ امن کا داعی ہے اور وہ مسلسل پاک بھارت، تھائی لینڈ کمبوڈیا، آرمینیا آذربائیجان اور ایران اسرائیل سمیت کئی جنگوں کو بند کرانے کا کریڈٹ لیتا رہا ہے اور نوبیل امن انعام کا بھی اپنے آپ کو حق دار قرار دیتا رہا ہے۔ مگر اب اس نے اچانک وینزویلا پر حملہ کر کے اس کے صدر نکولس مادورو اور اس کی اہلیہ سیلیا کو زندہ گرفتار کرکے نیویارک پہنچا دیا ہے اور اب اس پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں نیویارک کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اب خود وینزویلا کے نظامِ حکومت کو چلائے گا، اس کے پٹرول کے ذخائر کو فعال بنائے گا اور ”کروڈ آئل” کو امریکا لے جا کر وہاں کے کارخانوں کو فعال کرے گا اور اس کی مختلف مصنوعات بناکر عالمی منڈی میں فروخت کرے گا۔ واضح رہے کہ خام تیل کو ”کروڈ آئل” کہتے ہیں، پھر اس کی تطہیر اور تحلیل کر کے اسے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کے علاوہ دیگر مختلف کیمیائی مصنوعات میں تبدیل کر کے فروخت کیا جاتا ہے۔

ٹرمپ نے میکسیکو، کولمبیا، کیوبا، پاناما اور گرین لینڈ کو بھی اسی طرح کی دھمکیاں دی ہیں۔ امریکا میں صدر کو جنگ کے لیے کانگریس سے منظوری لینی پڑتی ہے مگر ٹرمپ نے کانگریس کو نظر انداز کر کے وینزویلا پر حملہ کیا اور اس پر کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دونوں جماعتوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کی طرف سے کوئی توانا مخالفانہ آواز نہیں آئی، صرف نیویارک کے میئر زہران ممدانی اور سینیٹر برنی سینڈرز نے اختلافی بیان دیا۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ ٹرمپ کو کانگریس کی خاموش حمایت حاصل ہے، اسے سیاسی اصطلاح میں ”Silent Permission” یعنی ”رضائے سکوتی” کہتے ہیں۔

الغرض ٹرمپ اپنے آپ کو پوری دنیا کا ڈان سمجھتا ہے اور یک طرفہ طور پر جس ملک کے خلاف چاہے اقدامات کرلیتا ہے، اُسے کوئی چیلنج کرنے والا نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ کو ہم عالمی ضمیر سے تعبیر کر سکتے تھے مگر اب عالمی ضمیر مر چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل بے بس ہیں، مفلوج ہیں۔ یہی صورتِ حال اس کے دیگر ذیلی اداروں کی ہے۔ یورپ اپنے آپ کو جمہوریت، آزادی، حقوقِ انسانی اور انسانی اقدار کا علم بردار سمجھتا تھا مگر یورپ سے بھی ٹرمپ کے خلاف کوئی اجتماعی اور توانا آواز نہیں اٹھی۔ انسانی حقوق، مذہبی آزادی، پریس کی آزادی اور دیگر اقدار کے حوالے سے یورپی یونین پسماندہ اورترقی پذیر ممالک پر فردِ جرم عائد کرتی رہتی ہے مگر امریکا کے لیے سب طرف سکوتِ مرگ طاری ہے۔

مانا کہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے، سابق صدر اوباما اور حال ہی میں صدر ٹرمپ کے دور میں سرکاری دفاتر میں تالا بندی اور سرکاری ملازمین کی چھانٹی کی نوبت آگئی تھی، مگر ایسے مواقع پر بالآخر کانگریس حکومتِ وقت کو ”بیل آئوٹ” کرنے کے لیے قرضوں کی حد کو بڑھاتی ہے تاکہ حکومتی کاروبار اور ریاستی ادارے چلتے رہیں۔ مگر چونکہ عالمی معیشت پر ڈالر کی اجارہ داری ہے، اس لیے امریکا کا تسلط ابھی قائم ہے۔ امریکا جب چاہتا ہے حکومتوں، تنظیموں اور افراد کے اثاثے منجمد کرلیتا ہے اور اس کے لیے کسی غیرجانبدار عالمی فورم پر وہ جوابدہ نہیں ہے۔ چین اگرچہ معاشی طور پر مستحکم ہے، اس کے زرِ مبادلہ کے ذخائر سب سے زیادہ ہیں اور بڑی تیزی سے حربی صلاحیت، جدید ترین اسلحہ اور ہائی ٹیک میں ترقی کر رہا ہے، مگر ابھی وہ امریکا کے ہم پلہ ہے اور نہ اُسے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ عالمی سمندروں پر امریکا کا غلبہ سب سے زیادہ ہے۔ روس یوکرین میں پھنسا ہوا ہے، امریکا اور نیٹو نے اس کی معاشی ناکہ بندی کر رکھی ہے، لہٰذا وہ بھی عالمی سیاست میں کوئی مؤثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

قدرت کا مسلّمہ اصول ہے: ”ہر کمالے را زوالے” اور تاریخِ انسانیت میں کسی بالادست قوت، فرعونیت اور نمرودیت کو ابدی اور دائمی بالادستی حاصل نہیں ہوئی۔ ایک وقت آیا کہ انھیں زوال سے دوچار ہونا پڑا اور نیست ونابود ہوگئے۔ اب دنیا ان کے آثار اور کھنڈرات کو نشانِ عبرت کے طور پر دیکھتی ہے۔ امریکا پر یہ وقت جلد یا بدیر کب آتا ہے کسی کے علم میں نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن سرِ دست وہ عالمی منظر پر دندنا رہا ہے اور دنیا توازن سے محروم ہے، پلڑا ایک طرف جھکا ہوا ہے۔ اگر عالمی نظام میں کوئی توازن، اعتدال اور تحدید وتوازن کا نظام ہوتا تو فلسطین اور غزہ اس انجام سے دوچار نہ ہوتے، ایران بھی اقتصادی محاصرے میں ہے اور شرقِ اَوسط کے اقتصادی لحاظ سے مستحکم ممالک بھی امریکا کی متابعت پر مجبور ہیں۔