وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد دنیا کیا کرے؟

امریکا کا وینزویلا پر حملہ اس قدر دیدہ دلیری پر مبنی ہے کہ بہت سے لوگ اس کی بالکل توقع نہیں کر رہے تھے۔ امریکا اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک کے دوران تعلقات بہت کشیدہ رہے۔ کیوبا کے معاملے میں ایک زمانے میں دنیا نیوکلیر جنگ کے دھانے پر پہنچ گئی تھی۔ جب ہیوگو شاویز وینزویلا کے صدر تھے تو ان کے اور امریکا کے درمیان کشیدگی انتہا پر پہنچ گئی تھی۔ شاویز نے امریکا کے خلاف بہت سخت، تندوتیز بیانات بھی جاری کئے تھے۔ اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں انہوں نے صدربش کو شیطان تک کہہ ڈالا۔ اس کے باوجود کبھی امریکا نے جنگ جوئی کرنے کا نہ سوچا اور نہ ایسا کوئی اشارہ ملا۔ آج کا امریکا مگر صدر ٹرمپ کا امریکا ہے۔ اخلاقیات، اصول، جمہوریت، جمہوری روایات وغیرہ سے بے نیاز، ناآشنا۔ انہیں اقوام متحدہ کی تو خیر کیا پروا ہونی ہے، اس مغربی ممالک کے اتحاد نیٹو کا بھی احساس نہیں جسے بنانے اور قائم رکھنے کے لیے کئی سابق امریکی صدور نے اپنی تمام تر کوششیں صرف کر دیں۔ بہت سے عالمی ماہرین اب یہ رائے رکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نیٹو ٹوٹنے کا رسک لے کر بھی گرین لینڈ پر حملہ اور قبضہ کر سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ماضی کے تمام امریکی صدور کو بے وقوف اور نالائق تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک صرف وہی عظیم، دانا، دلیر امریکی صدر ہیں، شاید وہ خود کو منتخب کردہ بھی سمجھتے ہیں، جیسا کہ ان کے کلٹ فالورز انہیں باور کراتے ہیں۔ یہ اور بات کہ اگر انہیں ماضی میں کسی امریکی صدر کا کوئی قول یا پالیسی پسند آجائے تو نہایت ڈھٹائی سے اسے اپنا لیتے ہیں۔ جیسے آج کل ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے لوگ منروو ڈاکٹرائن کا تذکرہ کر رہے ہیں جو کہ ایک سابق امریکی صدر کی تھیوری تھی۔

آج کی حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے تمام عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے ضابطوں، دستور اور تمام تر اخلاقی، جمہوری روایات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے وینزویلا پر حملہ کیا، درجنوں وینزویلن اور کیوبن فوجی ہلاک کر ڈالے۔ نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی سے کسی گینگسٹر کے سے انداز سے اُن کے صدر کو بیوی سمیت اٹھا کر نیویارک لے آئے اور یہاں پر عدالت میں پیش کر کے مقدمہ چلانا شروع کر دیا۔ یہ وہ انتہائی اقدام تھا جس کی کوئی بھی توقع کر سکتا تھا۔ یہ تو روس کے یوکرائن پر حملے سے بھی کہیں زیادہ بدتر اور گھٹیا کام ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر اس امریکی جارحیت اور افسوسناک طرز عمل کا دفاع کرنا ہے۔ مجھے اس پر شدید حیرت ہے کہ اس ننگی جارحیت اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام کا بھی کچھ لوگ دفاع کر رہے ہیں۔ خاص کر کئی پاکستانی جو امریکا میں مقیم ہیں، ان میں سے بعض نت نئے تاویلوں اور دلائل سے امریکی حملے کو جسٹیفائی کر رہے ہیں۔ حیرت ہے!! آخر کس طرح کوئی یہ کر سکتا ہے؟ ایک صاحب جو خود کو لیفٹسٹ کہتے ہیں، لیفٹ کے لٹریچر پر مشتمل رسالہ بھی پاکستان سے نکالتے ہیں۔ وہ بھی اس کنفیوژن کا شکار ہیں کہ امریکا کی مذمت کیسے کھل کر کی گئی؟ انہیں تو ویسے بھی وینزویلا کی حمایت کرنی چاہیے کہ کیوبا ہو یا وینزویلا یہ سوشلسٹ ممالک کہلانا پسند کرتے ہیں۔ ایک اور صاحب ایک زمانے میں پرویزی تھے، علامہ غلام پرویز اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا مقدمہ لڑتے نہ تھکتے تھے، وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے مذہب اور خدا کے رشتے سے ہی جان چھڑا لی۔ اب وہ فیس بک پر ہم ”گستاخ” پاکستانیوں کو بھاشن دیتے پائے جاتے ہیں کہ ہم لوگ امریکا پر تنقید کیوں کر رہے، دنیا کی عظیم ترین قوت کے خلاف بات کرنے کی جسارت کیسے کر رہے ہیں؟

ایک بات تو ہر اعتبار سے کلیئر ہے کہ امریکا کو وینزویلا پر حملے کا کوئی بھی حق کسی بھی طریقے، اصول، پیمانے سے حاصل نہیں تھا۔ ظلم ظلم ہی ہوتا ہے، اگر طاقتور اپنی بے پناہ طاقت کے گھمنڈ میں کسی اصول ضابطے کو نہیں مان رہا، ہر چیز کو پیروں تلے روند رہا ہے تب بھی ظلم کو ظلم ہی کہا جائے گا۔ اس کی اندھی طاقت، زعم اور جنون غلط کو درست نہیں کر دے گا۔ یونیورسٹی آف مانچسٹر میں انٹرنیشنل لا کی پروفیسر یسری سویدی نے اس حوالے سے قانونی پوزیشن بہت عمدگی سے بیان کی ہے۔ اس کے اقتباسات قارئین کے لئے پیش کر رہا ہوں۔ ایک اور پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمن نے اس کا ترجمہ کیا، دونوں کا شکریہ۔

کیا وینزویلا پر حملے قانونی ہیں؟: نہیں، بالکل نہیں! بین الاقوامی قانون کے تحت، طاقت کا استعمال ممنوع ہے سوائے اس کے کہ دو مخصوص استثنائی صورتیں موجود ہوں: پہلا دفاعِ خود (اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51) یا دوسرا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت۔ یہاں دونوں ہی لاگو نہیں ہوتے۔ وینزویلا نے امریکا پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ ایسا کرنے والا تھا اور نہ ہی سلامتی کونسل کی جانب سے ایسا کوئی مینڈیٹ دیا گیا ہے۔ صرف یہی ایک حقیقت ان حملوں کو غیر قانونی بنانے کے لیے کافی ہے۔

کیا وینزویلا کے صدر مادورو کو ہٹانے یا وینزویلا کا ‘کنٹرول سنبھالنے’ کے لیے مداخلت قانونی ہے؟: اس کا جواب بھی ‘نہیں’ ہے۔ بین الاقوامی قانون کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سختی سے ممانعت کرتا ہے جس میں یہ فیصلہ کرنا بھی شامل ہے کہ وہاں حکومت کون کرے گا (اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 7)۔ مادورو غیرمقبول، ظالم یا غیرقانونی ہوں، اس سے کسی دوسرے ملک کو یہ حق نہیں مل جاتا کہ وہ بزورِ طاقت حکومت کی تبدیلی (Regime Change ) مسلط کرے۔ کچھ عام جوابی دلائل جو قانونی طور پر بے معنی ہیں جیسے:

٭ ‘لیکن امریکا کے مقاصد نیک ہیں!’ جواب ہے مقصد قانون کو تبدیل نہیں کرتا۔ ٭ ‘مادورو غیرآئینی، آمر ہیں’۔ اگر یہ سچ بھی ہو تب بھی غیرقانونی ہونا کسی ملک پر حملے کو جائز نہیں بناتا۔ ٭ ‘مادورو امریکا میں منشیات بھیج رہے ہیں، نارکو ٹریفکنگ کررہے ہیں’۔ سرحدوں کے آر پار منشیات کے خلاف ایسی کوئی قانونی جنگ موجود نہیں ہے جو طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کرے۔ ٭ ‘مادورو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہیں’۔ اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر یکطرفہ انسانی مداخلت (Humanitarian Intervention ) کو بین الاقوامی قانون کے تحت جائز تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ٭ ‘وینزویلا کے پاس تیل ہے’۔ تزویراتی (Strategic ) یا معاشی مقاصد کبھی بھی طاقت کے استعمال کا جواز نہیں بن سکتے۔ مادورو اور اُن کی اہلیہ کی گرفتاری کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟: یہ بھی غیرقانونی ہے۔ آپ کسی دوسرے ملک کی اجازت کے بغیر وہاں کے لوگوں کو اغوا یا گرفتار نہیں کر سکتے۔ ایسا کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت ایک غیرقانونی ماور ائے سرحد گرفتاری (Extraterritorial Arrest ) تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ بعض معاملات میں کسی ملک کے قوانین اس کی سرحدوں سے باہر لاگو ہو سکتے ہیں، لیکن عملی طور پر دوسرے ملک میں جا کر کسی کو گرفتار کرنا یا حراست میں لینا تب تک جائز نہیں جب تک وہ ملک راضی نہ ہو یا سلامتی کونسل اجازت نہ دے دے اور یہاں یہ دونوں صورتیں موجود نہیں۔ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ کسی قانونی طریقہ کار کے بغیر دوسرے ملک سے کسی کو اغوا کرنا، آزادی سے غیرقانونی اور غیرمنصفانہ محرومی ہے (شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی میثاق کا آرٹیکل 9)۔

اب آگے کیا ہوگا؟: کیا مادورو پر نیویارک میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ اگر مادورو گرفتاری کے بعد بھی صدر ہیں تو انہیں غیرملکی (یعنی امریکی) عدالتوں میں مقدمے سے ذاتی استثنا (Immunity ) حاصل ہے۔ کچھ لوگ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ گرفتاری کا مطلب ہے کہ وہ اب صدر نہیں رہے، لیکن وینزویلا کے آئین کے تحت یہ بات واضح نہیں ہے۔ کیا امریکا ‘عبوری دور’ کے دوران وینزویلا پر حکومت کر سکتا ہے؟: نہیں۔ آج کے دور میں ایک ریاست کا دوسری ریاست پر یکطرفہ طور پر نظم و نسق چلانے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔

کیا ٹرمپ پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟: نہیں۔ تکنیکی وجوہ کی بنیاد پر ایسا نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ بغیر کسی اشتعال کے حملہ اور طاقت کا استعمال ایک ‘جارحانہ فعل’ (Act of Aggression )ہے جو بین الاقوامی قانون کے تحت ایک جرم ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت مگر ان ممالک کے لوگوں پر مقدمہ نہیں چلا سکتی جنہوں نے اس کی رکنیت اختیار نہیں کی، جیسے کہ امریکا۔ چاہے وہ فعل کسی ایسے ملک میں ہوا ہو جو اس کا رکن ہے۔

دیگر ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟: کم از کم انہیں واضح طور پر امریکی اقدام کی مذمت کرنی چاہیے۔ مبہم ‘تشویش’ یا حمایت کافی نہیں ہے۔ اگر دنیا بین الاقوامی قانون کی اس بے توقیری کو قبول کر لیتی ہے تو دیگر طاقتور ممالک بھی اسی طرح کے اقدامات دہرا سکتے ہیں۔