اسلام دین فطرت ہے۔ دین و مذہب کے اعتبار سے، عقیدہ و ایمانیات کے اعتبار سے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کے اعتبار سے تمام انبیاء کا مشترکہ دین ہے، یہ دین حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوا۔ انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے ادوار میں حالات کی ضروریات کے تحت انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں قائدانہ کردار ادا کرتے رہے۔ دین اسلام میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں اور زمانوں کا احاطہ کیا ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب تکمیلِ دین کا اعلان کیا تو انسانی زندگی کا کوئی ایسا شعبہ باقی نہیں رہا تھا جس میں انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے راہنمائی کا سامان باہم نہ پہنچا دیا گیا ہو۔
سیاست بھی انسانی سوسائٹی کا ایک بہت اہم شعبہ ہے۔ سیاست کسے کہتے ہیں؟ قوم کی اجتماعی قیادت کرنا، ان کے لیے نظام حکومت قائم کرنا، اس نظام حکومت کا نظم اچھے طریقے سے چلانا اور اجتماعی معاملات میں قوم کی راہنمائی کرنا، اسے سیاست کہتے ہیں۔ حضرات انبیائے کرام نے اس شعبے میں بھی وحی الٰہی کی بنیاد پر انسانیت کی راہنمائی کی، اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے انبیاء کرام کا تذکرہ فرمایا ہے جو اپنے اپنے دور میں وقت کے حکمران بھی تھے اور دینی و مذہبی معاملات میں قائد بھی تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ ہے جنہوں نے اپنی قوم کو فرعون سے آزادی دلانے کے لیے جدوجہد کی اور بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے چھٹکارا دلوا کر ان کی حکومت قائم کی اور حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کا تذکرہ حضرت موسیٰ کے خلیفہ کے طور پر آتا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر ہے کہ وہ اپنے دور میں پیغمبر بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے، اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر آتا ہے کہ وہ اپنے دور میں پیغمبر بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے، ایسی بادشاہت جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لی۔ حضرت سلیمان اپنی بادشاہت کے لیے دعا مانگا کرتے تھے ”قال رب اغفرلی وھب لی ملکًا لا ینبغی لاحد من بعدی انک انت الوھاب” (سورہ ص ) کہا کہ اے میرے رب مجھے معاف کر دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی اور کو میسر نہ ہو، آپ بڑے عطا کرنے والے ہیں۔ حضرت سلیمان کی بادشاہت ایسی تھی جو انسانوں پر تو تھی ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنوں پر بھی تھی، ہوا پر بھی تھی اور پرندوں پر بھی تھی۔ انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات سینکڑوں کی تعداد میں ایسے گزرے ہیں جو اپنے وقت میں پیغمبر بھی تھے اور حکمران بھی، چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سیاسی راہنمائی کو بھی حضرات انبیاء کرام کے فرائضِ منصبی میں ذکر فرمایا ہے۔
سیرت طیبہ کے حوالے سے دو باتیں بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔ پہلی یہ کہ پوری نسل انسانی میں رسول اللہ کے سوا زندگی کے کسی شعبے کی کوئی شخصیت ایسی نہیں ہے جس کے حالات زندگی اس قدر تفصیل کے ساتھ اور اس قدر اعتماد کے ساتھ ریکارڈ پر محفوظ ہوں۔ نہ سیاست کے شعبے میں، نہ قانون کے شعبے میں، نہ تجارت کے شعبے میں، نہ مذہب کے شعبے میں، نہ علم و فلسفے کے شعبے میں اور نہ ہی زندگی کے کسی اور شعبے میں۔ تاریخ انسانی میں کوئی دوسری شخصیت ایسی نہیں ہے جس کی زندگی کے ایک ایک مرحلے کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہوں۔ دوسری بات یہ کہ رسول اللہ کے سوا پوری نسل انسانی میں کوئی شخصیت ایسی نہیں ہے کہ جس کی شخصیت اس قدر جامع ہو کہ زندگی کے ہر شعبے میں اس سے راہنمائی ملتی ہو، یہ جناب رسول اللہ کا اعجاز ہے اور یہ بھی حضور کے معجزات میں سے ایک ہے۔
ایک جامع شخصیت
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس قدر جامع ہے کہ اس میں انسانی زندگی کے ہر کردار کا نمونہ ملتا ہے۔ آپ ایک امین بھی تھے کہ مکہ کے لوگ اپنی امانتوں کو آپ کے پاس محفوظ رکھتے تھے۔ آپ ایک حکم و منصف بھی تھے کہ عرب قبائل کے درمیان حجرِ اسود کی تنصیب کا معاملہ کس خوش اسلوبی سے طے فرمایا۔ آپ تاجر بھی تھے کہ حضرت خدیجہ کے تجارتی قافلے دوسرے ملکوں میں لے کر جاتے اور تجارت کرتے تھے۔ آپۖ ایک مبلغ بھی تھے کہ لوگوں کو نیکی اور اچھائی کی طرف بلاتے اور بدی و برائی سے روکتے تھے۔ حق و باطل کی لڑائی میں آپۖ ایسے فوجی کمانڈر بن کر ابھرے کہ اِس پر تاریخ میں مستقل کتابیں لکھی گئیں۔ رسول اللہ ۖ منصب انصاف پر فائز تھے کہ آپ قاضی اور جج بھی تھے، خود آپ کے پاس بھی مقدمات آتے تھے جن کے آپ فیصلے سنایا کرتے تھے اور پھر باقی قاضیوں کے پاس جو مقدمات آتے ان کے فیصلوں پر اپیلیں حضور کی خدمت میں آتی تھیں جن پر حضور ۖفیصلے فرمایا کرتے تھے۔ آپۖ ایک سیاسی لیڈر بھی تھے کہ مختلف قبائل کے وفود آپ کے پاس آتے تھے جن سے آپ مذاکرات اور گفتگو فرماتے تھے۔ آپۖ اپنی ریاست کے سب سے بڑے ڈپلومیٹ سب سے بڑے سفارت کار بھی تھے کہ آپ دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات اور معاملات کو بھی نبھاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی ریاست کے منتظم اعلیٰ بھی تھے کہ ریاست کے داخلی معاملات کے متعلق فیصلے بھی آپ خود فرمایا کرتے تھے۔ رسول اللہۖ مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے امام بھی تھے کہ آپ نماز خود پڑھاتے تھے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک خطیب بھی تھے کہ خطبہ جمعہ اور دیگر خطبات ارشاد فرمایا کرتے تھے۔
یہ میں نے انسانی زندگی کے ان اہم کرداروں میں سے چند کا ذکر کیا ہے جو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نبھائے۔ پھر ایسا بھی نہیں تھا کہ حضور ایک شعبے میں اچھے تھے اور دوسرے شعبے میں خدانخواستہ کمزور تھے، رسول اللہۖ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر تھے اور افضل الانبیاء تھے، اللہ تعالیٰ نے جو شعبہ بھی حضور کے سپرد کیا اس میں حضورۖ کی کارکردگی کا معیار انتہا پر تھا، یہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جامعیت ہے۔
خلفائے اسلام نبوی ذمہ داریوں کے وارث
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیائ کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون بعدی خلفاء ” کہ بنی اسرائیل کے انبیاء اپنی قوموں کے پیغمبر ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی قائد بھی تھے، جب ایک نبی دنیا سے تشریف لے جاتے تو دوسرے نبی ان کی جگہ آجاتے جیسے حضرت موسٰی کی جگہ حضرت یوشع بن نون نے لی، بنی اسرائیل میں یہ تسلسل چلتا رہا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اسی طرح اپنی قوم کے سیاسی قائد تھے، رسول اللہ نہ صرف امتِ مسلمہ کے قائد تھے بلکہ آپس نسلِ انسانی کے بھی سب سے بڑے سیاسی قائد تھے۔ رسول اللہ نے اس حدیث میں یہ بات فرمائی ”لا نبی بعدی” کہ پہلے انبیاء میں تو تسلسل تھا اور نبوت جاری تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ سوال یہ ہوا کہ جب آپ کے بعد نبی کوئی نہیں آئے گا تو یہ خلا کون پْر کرے گا، آپ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اس لیے آپ کے بعد سیاسی قیادت کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ پھر آپ نے فرمایا ”فسیکون بعدی خلفاء ” کہ میرے بعد یہ منصب اور ذمہ داری خلفاء نبھائیں گے، یعنی میرے بعد خلافت کا نظام ہوگا اور خلفاء کا سلسلہ ہوگا جو نبوی ذمہ داریوں کو سنبھالیں گے۔
رسول اللہ نے جہاں زندگی کے باقی شعبوں میں راہنمائی کی ہے وہاں آپ نے اپنی امت کی سیاسی قیادت بھی کی، آنحضرت نے اپنی سیرت و سنت کے حوالے سے اجتماعی نظام دیا ہے جسے نظام خلافت کہتے ہیں۔ جناب رسول اللہ کی ساری زندگی اس نظام کی تعلیم و تکمیل کے مراحل پر مشتمل ہے جبکہ خلافت کا یہ نظام اپنی آب و تاب کے ساتھ خلافت راشدہ کے دور میں جلوہ گر نظر آتا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دنیا کو ایک حکومتی نظام دیا، حکومتی نظام کو چلانے کیلئے راہنما اصول دیے اور اس کیلئے قیادت تیار کی۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر تاریخِ اسلام میں مستقل تصانیف تحریر کی گئی ہیں لیکن میں سربراہِ مملکت اور نظام حکومت کے حوالے سے دو بنیادی اصولوں پر گفتگو کرنا چاہوں گا۔
(١) پہلا اصول یہ کہ حاکم وقت کا معیارِ زندگی معاشرے کے ایک عام آدمی کے معیارِ زندگی کے مطابق ہونا چاہیے۔
(٢) دوسرا اصول یہ کہ معاشرے کے ہر فرد، بالخصوص اصحابِ علم و دانش کو حاکم وقت کے احتساب کا حق ہونا چاہیے۔ (جاری ہے)

