فلسطین کی جنگ اور مبشراتی عیسائی عقیدہ

سب کو معلوم ہے کہ اپنے مسیحا کے قتل کے الزام میں عیسائی قوم گزشتہ ہزار سال سے یہودیوں کی جانی دشمن بنی رہی ہے۔ اسی باعث انہوں ان یہودیوں کو زندگی بھر رگیدا، ان کے خون کے پیاسے بنے رہے اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کا مجرم ٹھہرا کر پورے یورپ سے مار بھگایا۔ لیکن افسو س کی بات ہے کہ اب خود عیسائی ہی، اسرائیلی استحکام و استقلال کے یہودیو ں سے زیادہ بڑھ کر وکیل بن گئے ہیں۔ انہوںنے اسے اپنا جدید ایمانی عقیدہ بنا لیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اسرائیل اور یہودیوں کے تحفظ کے لیے ہمیں ان سے زیادہ بڑھ چڑھ کر جدوجہد کرنی چاہئے۔ 1949ء میں جبکہ امریکی صدر ٹرومین نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا، حیرت انگیز طور پر اس وقت عیسائیوں کی مانند خود یہودی بھی اسرائیل کے قیام سے خوش نہیں تھے۔ لیکن بااثر یہودیوں نے صدر ٹرومین کے کا ن بھر کر انہیں یہودیوں کا فوری ہمدرد بنا دیا۔

گزشتہ دو عشروں سے امریکا میں اب عیسائیوں کا ایک نیا مذہبی طبقہ پیدا ہوگیا ہے۔ ”نَوجنم شدہ” عیسائی۔ عیسائیوں کے ”مبشراتی پادری” اپنے ہم مذہبوں پر زور دے رہے ہیں کہ انجیلوں کی رو سے اسرائیل جب تک قائم و مضبوط نہیں ہوتا، حضرت عیسیٰ کی دوبارہ واپسی اور عیسائیوں کی نجات ممکن نہیں ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ یہ مبشراتی عقیدہ بڑھتے بڑھتے تمام امریکا میں حاوی ہوگیا ہے، یہاں تک کہ ان کے بعض صدور مثلاً ریگن، کارٹر، بش اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس عقیدے کے پرجوش مبلغ بن گئے تھے یا بنے ہوئے ہیں۔ ان کے نئے عقیدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انجیلوں کی رو سے یروشلم (بیت المقدس) میں ایک آخری خونی جنگ برپا ہونی باقی ہے جس کو جلد از جلد بھڑکانا بھی ہماری مذہبی ذمے داری ہے۔ ان کے بقول ”خیر وشر کی اس جنگ میں اتنا خون بہے گا کہ گھوڑوں کی کمروں تک پہنچ جائے گا”۔ امریکی عیسائیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اب اس جنگ کو اپنی زندگی ہی میں برپا ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔ خواہش مند ہے کہ اپنے مسیحا، عیسیٰ علیہ السلام کو وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور ان سے جنت کے اندر پہنچائے جانے کی سند زندگی ہی میں حاصل کرلیں۔

مبشراتی پادریوں نے ”آرمیگاڈون جنگ” کے لیے ایک نیا عقیدہ یہ بھی گھڑا ہے کہ جو عیسائی اس عقیدے پر ایمان رکھے گا، صرف اسی کو حضرت عیسی نجات دلائیںگے۔ ایسے عیسائی افرادکو امریکا میں ”نو جنم شدہ” عیسائی کہہ کر پکارا جا تا ہے۔ آرمیگاڈون کی اس ”مقدس” جنگ کے دوران ‘بورن اَگین عیسائیوں’ کو عیسیٰ مسیح آسمان میں اٹھا لیں گے جہاں سے وہ خیر و شر کی، زمین پر برپا جنگ کا خونی منظر تخت پر بیٹھے آرام سے دیکھا کریں گے۔ واضح رہے کہ یہ خونی جنگ عیسایئوں اور یہودیوں کے درمیان نہیں بلکہ یہودیوں اور دیگر قوموں (خصوصاً مسلمانوں) کے درمیان واقع ہوگی۔ اسی لئے تمام مذہبی عیسائی آرمیگاڈون برپا کروانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ آسمانوں کے اس ”نو تصنیف نجاتی عقیدے” کا نام انہوں نے ”فضائی نجات” رکھا ہے۔

اگر کبھی ان ”ایونجیلیکل (مبشراتی)” پادریوں سے سوال کیا جائے کہ ان کا یہ منصوبہ کیا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کہلائے گا؟ تو سوال کرنے والے کا منہ وہ یہ کہہ کر بند کر دیتے ہیں کہ ”ہم بائبل کے عالم اور علوم دین کے ماہر ہیں، اس لیے ہماری بصیرت کے مطابق خدا کا قانون امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے قوانین سے بالاتر ہے”۔ یہ باتیں وہ گرجائوں اور ٹی وی چینلز پر کھلے عام کرتے ہیں مگر ان کا مواخذہ کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ مسجد اقصی کو وہ جگہ جگہ سے بنیادوں سے کھودتے رہتے ہیں تاکہ ہیکل کا ڈھانچہ تلاش کیا جا سکے۔ اس ضمن میں وہ مصنوعی کارروائیاں بھی کرتے رہتے ہیں۔ مسجد کے نمونے کے ماڈل بناکر وہ جعلی فضائی حملے کرتے ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ وہ کس رخ کی طرف زیادہ گرے گی۔ گاہے گاہے فلسطینی مسلمان مسجد کی بنیادوں کو کھودے جانے پر بھرپور مظاہرے بھی کرتے ہیں۔ یہودیوں کی فطرت ہے کہ وہ اپنے شیطانی منصوبے کئی عشرے بلکہ ایک صدی قبل سے تیار رکھتے ہیں۔ تاہم اس کے عملدرآمد کو یقینی بھی بناتے ہیں۔

یورپی ممالک کو انتہائی خونریز جنگوں میں باہم ٹکرا دینا، خلافت عثمانیہ کو سات آٹھ سے زائد ٹکڑوں میں بانٹ دینا، اور نیا عالمی نظام نافذ کر دینا ان کے کمالات میں سے ایک ہے۔ واضح رہے کہ صیہونیوں نے خود ویٹی کین روم میں بھی اپنے نظریات داخل کر دیے ہیں جس کے باعث ان کی جان کے صدیوں دشمن عیسائی بھی اب ان کے ہمنوا ہوگئے ہیں۔ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ پاپایان اعظم نے 1920ء میں یہودیوں پر سے اپنے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صلیب کا جرم بھی سرکاری طور پر یہ کہہ کر معاف کر دیا ہے کہ یہ جرم ان کے آباء واجداد نے کیا تھا ،اس لیے موجودہ یہودی اس الزام سے بری ہیں۔ لیکن خود انہی کی بائبل اس بارے میںکچھ دوسرا بیان دیتی ہے۔ انجیل متی باب ٧٢، آیت ٤٢، ٥٢ میں درج ہے کہ ”یہودی اونچی آواز سے چیختے ہوئے کہنے لگے، اس کو صلیب پر چڑھا دو۔ ‘لوگوں کے خیالات کو بدلنا مجھ سے ممکن نہیں ہے’، اس بات کو جانتے ہوئے اور اس بنیاد پر کہ یہ لوگ فساد پر اتر آئیں گے، پیلاطس (گورنر) نے تھوڑا سا پانی لیا اور تمام لوگوں کے سامنے اپنے ہاتھوں کو دھوتے ہوئے کہا۔ اس آدمی کی موت کا میں ذمے دار نہیں ہوں کیوں کہ تم ہی لوگ ہو جو اس کے ذمے دار ہو۔ تمام لوگوں نے جواب دیا کہ اس کی موت کے ہم ہی ذمے دار ہیں۔ اور اس کی موت کے لئے بطور سزا کے کچھ مقرر ہوا تو اس کو ہم اور ہماری اولاد بھگت لیں گے”۔ چنانچہ اس بیان کے بعد یہودیوں کی اولاد کو حضرت عیسیٰ کی مفروضہ پھانسی سے کیسے بری کیا جا سکتا ہے؟

اس تما م جنگی جنون اور نئے عقیدے کا تفصیلی جائزہ سابق صدر جانسن کی تقریر نویس ”گریس ہالسیل” نے اپنی کتاب Forcing God’s Hand میں کیا ہے جسے راقم نے ”خوف ناک جدید صلیبی جنگ” کے نئے نام سے شائع کیا ہے۔ ان نئے عقائد کا پرچار کرنے والے پادریوں کو مصنفہ (جو خود ایک عیسائی خاتون ہے)، طنزاً مفاد پرست عیسائی پادری کہتی ہے۔ صیہونیوں اور عیسائیوں کی ان چالوں کو بعض اور مصنفوں نے بھی اپنی کتابوں کو بہت کھول کر بیان کیا ہے جن میں سے کچھ کا ترجمہ راقم نے بھی اپنے ہم وطنوں کی باخبری کے لئے شائع کیا ہے۔

سو ایسے متعصبانہ و سازشی پس منظر میں جہاں فلسطینی مسلمانوں کو زمین سے یکسر نیست و نابود کرنے کے لئے نئے نئے عقائد گھڑ لئے گئے ہوں، جہاں عیسائی خود یہودیوں سے بھی بڑھ کر یہودی ثابت ہو رہے ہوں، اور جو گروہ عالمی خونی جنگ کو ازخود جلد از جلد برپا کروانا چاہتا ہو، فلسطینیوں اور مظلوموں کے مفاد کا خیال کس کو رہتا ہے؟ عیسائی، امریکی اور مسلم جب سارے ہی حکمران غاصب و قبضہ گیر یہودیوں کے آلۂ کار بن جائیں تو فلسطین کے سوال کو تو ازخود ہی گم ہو جاتا ہے۔ زمانے کا یہ کیسا ستم ہے کہ وہ عرب حکومتیں جو کبھی اسرائیل کی بدترین دشمن اور فلسطینیوں کی سدا مددگار ہوا کرتی تھیں، عالمی جنگی گروہ صیہونیوں کے آگے اب وہ بھی سجدہ ریز ہوگئی ہیں۔ سو ان کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اب کون اور کہاں سے سامنے آئے گا؟ زمینی حقائق تو ان فلسطینیوں کے بالکل خلاف جا رہے ہیں۔ عالمی طاقتوں کے نزدیک ”انصاف صرف وہی ہے جسے وہ خود انصاف کہیں”۔ سچی بات تو یہی ہے کہ
عالم ہے مکدر، دل صاف نہیں ہے
”اس عہد میں سب کچھ ہے مگر انصاف نہیں ہے”