امریکا نے وینزویلا پر کھلی جارحیت کرکے سب ممالک کو دوٹوک پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ پوری دنیا کو اپنی کالونی سمجھتا ہے اور وہ کسی بھی قاعدے قانون کا پابند نہیں۔ جو بھی ہمارے مفادات کے خلاف کام کرے گا اس کا انجام یہی ہوگا۔ 1945ء سے لے کر آج 2026ء تک کی تاریخ اس کی گواہی دے رہی ہے۔ 6اگست 1945ء کی صبح 8بج کر 5منٹ پر امریکی جہاز ”بی 29” نے ہیروشیما پر ”لٹل بوائے” نامی پہلا ایٹم بم گرایا۔ اس نے صرف 30سیکنڈ میں ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں کو لقمہ اجل بنادیا۔ 80سے 85ہزار لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوگئے۔ اس کے تین دن بعد 9اگست کو امریکا نے جاپان کے دوسرے شہر ”ناگاساکی” پر ”فیٹ مین” نامی ایٹم بم گرایا۔ یہ ہولناک بم 74ہزار جاپانیوں کو آناً فاناً نگل گیا۔ جاپان کے دو اہم شہروں کی مکمل تباہی ہوئی۔ مجموعی طور پر 2لاکھ 14ہزار لوگ مارے گئے۔ اس کے بعد پوری دنیا میں امریکی درندگی کے خلاف شور اُٹھا۔ برا بھلا کہا گیا۔ احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ ”امریکا انسانیت کا دشمن” کے نعرے لگے۔ کیا مشرق اور کیا مغرب سبھی نے اس درندگی کی مخالفت کی۔ مغربی میڈیا تک اس وحشیت پر چیخ اُٹھا۔ ایسی ایسی اسٹوریز شائع ہوئیں کہ پتھر دل بھی موم ہوجائے۔ اس کے بعد یہ اُمید ہوچلی تھی شاید آیندہ کبھی انسانوں پر ایسا ظلم نہیں ہوگا۔ ہونا بھی یہی چاہیے تھا کہ امریکا رہتی دنیا تک ”توبہ تائب” ہو جاتا لیکن وہ باز نہ آیا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ دلیر ہوگیا۔
تاریخ میں دیکھا جا سکتا ہے 1945ء سے آج تک دنیا میں مجموعی طور پر 108بڑی جنگیں ہوئیں جن میں بارود کا کھلم کھلا استعمال ہوا۔ گھر جلے، شہر ویران ہوئے، لاشیں گریں، زخمیوں کی چیخوں اور مرنے والوں کی آہوں سے زمین اور آسمان کے دامن میں چھید ہوئے۔ ان سب جنگوں کے پیچھے ایک ہی ملک اور ایک ہی قوم تھی یعنی امریکا اور امریکی۔ بعض جنگیں امریکا نے براہِ راست لڑیں۔ بعض میں وہ شریک ہوا اور بعض میں اس کا اسلحہ استعمال ہوا۔ وہ جنگیں جن میں امریکا شامل نہیں تھا اُن میں بھی مرنے والوں کے خون کے چھینٹے امریکی آستینوں پر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ان 108جنگوں میں 1996ء تک ایک کروڑ نوے لاکھ تہتر ہزار انسان ہلاک ہوئے۔ میں مختصراً اس کی تفصیل لکھ دیتا ہوں۔
لاطینی امریکا میں ارجنٹائن، بولیویا، برازیل، چلی، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا، ڈومنیکن ری پبلکن، فاک لینڈ، گوئٹے مالا، ہنڈراس، جمیکا، نکاراگوا، پانامہ، پیراگوئے اور پیرو میں 4 لاکھ 70 ہزار لوگ مارے گئے۔ مڈل ایسٹ اور شمالی افریقا میں الجیریا، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، مراکش، شام، تیونس اور یمن میں جنگیں ہوئیں جن میں 9 لاکھ 93 ہزار لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ امریکا کی سازش سے افریقا کے 17 ممالک جنگ کی بھٹی میں پگھلتے رہے۔ انگولا، برونڈی، ایتھوپیا، گھانا، گنی بسائو، کینیا، لائیبریا، مڈغا سکر، موزمبیق، نائیجیریا، روانڈا، سائوتھ افریقہ، سوڈان، یوگنڈا، زائرے، زیمبیا اور زمبابوے میں جنگیں اور خانہ جنگیاں ہوئیں جن میں 41 لاکھ 64 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ یورپ کے ممالک چیکو سلواکیہ، یونان، ہنگری، رومانیہ اور ترکی جنگوں کا شکار رہے جن میں ایک لاکھ 86 ہزار لوگ مارے گئے۔ ایشیا کے وسطی اور جنوبی ممالک افغانستان، بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور سری لنکا میں جنگیں ہوئیں جن میں28 لاکھ57 ہزار لوگ مارے گئے۔ مشرقی ایشیا کے ممالک میں زیادہ خوفناک جنگیں ہوئیں جن میں کمبوڈیا، چین، انڈونیشیا، کوریا، لائوس، ملائشیا، برما، فلپائن، تائیوان، روس اور ویتنام کی جنگوں میں ایک کروڑ 39 لاکھ 6 ہزار انسان ہلاک ہوئے۔ ان تمام جنگوں کے پیچھے امریکا تھا، ان تمام جنگوں میں امریکی اسلحہ استعمال ہوا۔ ان میں سے چند جنگیں تو ایسی تھیں اگر امریکا کی وزارتِ دفاع سے ایک ٹیلی فون آجاتا تو لاکھوں افراد خوفناک موت سے بچ جاتے لیکن فون تو رہا ایک طرف امریکی دفتر خارجہ نے عین جنگ کے موسم میں ایسے بیانات دینے شروع کردیے جن کے نتیجے میں وہ جنگیں ناگزیر ہوگئیں۔
اِس وقت بھی دنیا میں 68 ایسے تنازعات موجود ہیں جو دنیا کے 43 فیصد معاشی وسائل کھارہے ہیں۔ میکسیکو امریکی ریاست ٹیکساس کا حصہ ہوا کرتا تھا، دونوں کا کلچر، زبان اور ثقافت ایک ہے۔ ٹیکساس کا سرحدی شہر الپا سو، آدھا میکسیکو اور آدھا امریکا میں ہے۔ دونوں ریاستیں تجارتی پارٹنر بھی ہیں لیکن میکسیکو کے اندر خانہ جنگی چل رہی ہے۔ 1996ء تک اس خانہ جنگی میں پانچ ہزارلوگ مارے گئے لیکن امریکا نے آج تک یہ خانہ جنگی رکوانے کی کوشش نہیں کی۔ کولمبیا کا تنازع 1963ء سے چل رہاہے۔ اس میں 47 ہزار لوگ ہلاک ہوئے۔ ایکواڈور میں سات ہزار انسان مارے گئے۔ پیرو میں 1995ء میں30 ہزار، لیما، بولیویا اور پیراگوئے میں 11 ہزار، برطانیہ اورآئر لینڈ 1969ء سے لڑ رہے ہیں۔ اس میں تین ہزار لوگ مارے گئے ہیں۔ الجیریا میں 1992ء تک 82 ہزار، مغربی صحرا۔ میں 1975ء سے 88ء تک 19 ہزار۔ گنی بسائومیں 98ـ1999ء کے دوران 2ہزار۔ سیرالیون میں 1991ء میں 43 ہزار۔ نائیجیریا میں 1994ـ95ء کے دوران 5 ہزار۔ کیمرون میں 1994ء میں ایک ہزار۔ سوڈان میں 1983ء میں 52 ہزار۔ یوگنڈا میں 9 ہزار۔ کانگو میں 1996ء کے دوران ایک لاکھ۔ انگولا میں 1992ء تک 61 ہزار۔ روانڈا 1990ء تک 8 لاکھ 13 ہزار۔ سوئزر لینڈ میں 14 ہزار۔ موزمبیق 1976ء سے 1995ء تک 50ہزار۔ صومالیہ 1991ء میں 35 لاکھ 7 ہزار۔ کینیا 1996ء میں ایک ہزار۔ ایتھوپیا 1997ء میں دو ہزار۔ یونان میں 75ہزار۔ بلغاریہ 2 ہزار۔ گوئٹے مالا 1998ء میں ڈیڑھ لاکھ۔ سلواڈور 95ء میں 75 ہزار۔ نکارا گوا 1998ء میں 30 ہزار۔ مالے 1994ء میں دو ہزار۔
چاڈ میں 1996ء کے دوران 13 ہزار۔ یمن 1994ء میں 7ہزار۔ الغازیہ 1994ء میں 6ہزار۔ چیچنیا میں 1996ء میں 35 ہزار۔ 1999ء میں 5 ہزار۔ نگورنو کا را باخ میں 1992ء سے 1994ء تک 22 ہزار۔ شام 1988ء میں 60 ہزار۔ عراق 1991ء میں 31 ہزار۔ ایران، عراق 1979ء میں مجموعی طورپر 28 ہزار۔ افغانستان 1992ء تک 76 ہزار۔ تاجکستان 1992ء سے 1997ء تک 51ہزار۔ کشمیر 1989ء میں 23 ہزار۔ سیاچن 1984ء میں ایک ہزار۔ نیپال1992ء میں دو ہزار۔ آسام 1989ء میں 3 ہزار۔ برما 1985ء میں 9 ہزار۔ کمبوڈیا 97ـ1998ء میں ایک ہزار۔ جاوا 1965ء میں 30 ہزار۔ فیجی، جزائر سلیمان، سائیپریس میں 14 ہزار اور فلسطین میں 1978ء میں 30 ہزار انسان جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ شمالی اور جنوبی کوریا کا مسئلہ 1950ء اور تائیوان اور چین کا تنازعہ 1947ء سے چل رہا ہے۔ افغانستان پر 2001ء میں، عراق پر 2003ء میں اور اب 2026ء میں وینزویلا پر امریکی طاغوت کی خونی یلغار پوری طاقت اور شدت سے جاری ہے۔ اگر امریکا 1945ء سے 2026ء تک سو سے زیادہ جنگیں دنیا پر مسلط کرکے اب بھی باز نہیں آتا تو پھر اپنے سابق سپر پاورز ‘نمرود سے فرعون، قیصر وکسریٰ سے ہلاکو وچنگیز اور برطانیہ سے روس تک’ کی تاریخ یاد رکھنی چاہیے۔ انہوں نے بھی مظلوم قوموں پر طاقت کے گھمنڈ میں اتنے ہی ظلم کیے تھے لیکن آج ان کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ وہ قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔ بے شک ہر عروج کے بعد زوال ہے۔ امریکی مظالم کا حد سے بڑھنا، دنیا پر 108 جنگیں مسلط کرنا، ملکوں ملکوں شب خون مارنا کہیں امریکا کے زوال کی طرف لطیف اشارہ تو نہیں؟ اس پر ذرا سوچئے گا ضرور۔

