سردیوں کی اصل شدت کا آغاز پنجاب سمیت ملک بھر میں اب ہوا ہے۔ اس سے قبل سردی قابلِ برداشت تھی مگر 8 جنوری کی صبح طلوع ہوئی تو پنجاب کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت ایک سے پانچ سنٹی گریڈ کے درمیان تھا۔ پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت منفی ہو چکا ہے۔ گھروں سے نکلنا محال ہو گیا ہے۔ ٹھٹھرا دینے والی سردی سے کاروبارِ زندگی سستی روی کا شکار ہے۔
دوسری طرف تعلیمی اداروں کی تعطیلات اختتام کو پہنچ گئی ہیں۔ 12 جنوری سے پنجاب کے تعلیمی ادارے سردیوں کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ کھل رہے ہیں۔ ایسے میں طلبہ، طالبات، والدین اور اساتذہ سبھی پریشان ہیں کہ شدید سرد موسم میں تعلیمی عمل جاری رکھنا کیسے ممکن ہوگا؟ گزشتہ چند برسوں سے سردیوں کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دھند، یخ بستہ ہوائیں اور کم درجہ حرارت معمول بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کو بٹھانا کسی امتحان سے کم نہیں۔ پنجاب کے تمام سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں کلاس رومز کے لیے ہیٹر موجود نہیں ہیں، نہ ہی سردی سے بچاؤ کا کوئی اور موثر انتظام کیا گیا ہے۔ بعض علاقوں میں تو بچے سرد فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جو صحت کے لیے خطرناک ہے۔
کس قدر افسوس کی بات ہے کہ پاکستان بنے 78 سال سے زائد ہو چکے مگر چھٹیوں کے معاملے میں ہم اب تک انگریزوں کی مقرر کردہ تاریخوں پر عمل پیرا ہیں۔ ہر سال ہی پانچ جنوری سے بیس جنوری تک ہمارے ہاں سخت سردی پڑتی ہے۔ دسمبر کے مہینے کے آخری عشرے میں اب شدید سردی نہیں ہوتی۔ ہمارے موسم کی صورتِ حال میں تبدیلی آ چکی ہے۔ انگریزوں نے سردی کی چھٹیاں دسمبر میں اس مقصد کے تحت رکھی تھیں کہ کرسمس کا تہوار انہی دنوں میں آتا ہے۔ یوں ایک پنتھ دو کاج والا معاملہ ہو جاتا تھا، مگر اب سردی دسمبر کی بجائے جنوری میں پڑنا شروع ہو گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب بدلتے موسم کے مطابق چھٹیوں کا فیصلہ کیا جائے۔
بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اپنے مستقبل کی حفاظت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ نزلہ، زکام، بخار، نمونیا اور سانس کی بیماریاں سردیوں میں عام ہو جاتی ہیں۔ کم عمر بچوں اور بچیوں کے لیے یہ موسم خاص طور پر حساس ہوتا ہے۔ اسکول کھولنے کا فیصلہ مکمل سوچ بچار کے بعد کرنا چاہیے۔ چند تعلیمی دن زیادہ کروانے کے لیے ہمیں اپنے بچوں کی صحت کو داؤ پر لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔
اساتذہ کا مسئلہ بھی کم سنگین نہیں۔ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد دور دراز اسکولوں میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد دیہات سے روزانہ شہری اسکولوں میں جا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یخ بستہ سردی میں سفر کر کے اساتذہ اور طلبہ کا بروقت سکول پہنچنا بہت مشکل ہو گا۔ سرد موسم میں ٹریفک حادثات بھی بڑھ جاتے ہیں کہ سردی میں سفر کے دوران خصوصاً موٹر سائیکل سواروں کے ہاتھ شل ہو جاتے ہیں۔ اگر بچے اور اساتذہ شدید سردی میں سکول پہنچ بھی جائیں گے تو تدریسی عمل انجام دینا نہ صرف مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن ہو جائے گا۔ نتیجتاً تعلیم کا معیار متاثر ہو گا۔ شدید سردی کی وجہ سے اکثر والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے گریز کریں گے جس کی وجہ سے طلبہ کی حاضری بھی بہت کم ہو گی۔
ہم وزیرِ تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سے پُرزور اور سنجیدہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ طلبہ و طالبات کی صحت اور حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تعلیمی اداروں کی سردیوں کی تعطیلات میں معقول اضافہ کریں۔ یہ فیصلہ کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور دور اندیش حکمرانی کا ثبوت ہوگا۔مزید یہ کہ آئندہ تعطیلات کے شیڈول کا تعین کرتے وقت صرف روایتی تاریخوں پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ گوگل، محکمہ موسمیات اور جدید موسمی ڈیٹا سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ جب موسم غیر معمولی ہو چکا ہے تو فیصلے بھی غیر معمولی دانشمندی کے متقاضی ہیں۔آخر میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ تعلیم اہم ہے، مگر صحت اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ اگر بچے ہی محفوظ نہیں تو تعلیمی کیلنڈر کی پابندی کس کام کی؟

