پاکستانی طیاروں،اسلحے کی دھوم،سوڈان معاہدے کیلئے تیار(عراق بھی خواہشمند)

لندن/راولپنڈی:برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرزکے مطابق پاکستان سوڈان کوہتھیار اور جنگی طیارے فراہم کرنے کے لیے 1.5 ارب ڈالر کے ایک معاہدے کے آخری مراحل میں ہے۔

رائٹرز کے مطابق پاک فضائیہ کے ایک سابق اعلیٰ افسر اور تین باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان سے اسلحے کی خریداری کا یہ معاہدہ سوڈانی فوج کے لیے بڑی تقویت فراہم کریگا جو نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے خلاف برسرپیکار ہے۔

رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت پاکستان سوڈانی فوج کو 10 قراقرم 8 لائٹ حملہ آور طیارے، نگرانی اور خودکش حملوں کے لیے 200 سے زائد ڈرونز اور جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کریگا۔

پاک فضائیہ کے سابق اعلیٰ افسر کے مطابق قراقرم8 طیاروں کے علاوہ سپر مشاق تربیتی طیارے بھی فراہم کیے جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ پاکستان کےJFـ17 جنگی طیارے بھی اس معاہدے کا حصہ ہوں تاہم انہوں نے ان طیاروں کی تعداد یا فراہمی کے شیڈول کی وضاحت نہیں کی۔

رائٹرز کے مطابق پاکستان اور سوڈان کے عسکری حکام نے اس خبر پر تبصرے کی درخواست پر فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت کے لیے ایک اور اہم کامیابی ہے جس میں خاص طور پر اس وقت دلچسپی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا جب گزشتہ سال بھارت کے ساتھ تنازع میں پاکستانی جنگی طیارے استعمال کیے گئے۔

ادھرسربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سرکاری دورہ عراق کے دوران کمانڈر عراقی فضائیہ، لیفٹیننٹ جنرل اسٹاف پائلٹ مہند غالب محمد راضی الاسدی سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دوطرفہ عسکری تعاون اور پیشہ ورانہ دلچسپی کے اْمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں مشترکہ تربیت، صلاحیت میں اضافے، ایوی ایشن انڈسٹری میں تعاون اور دونوں فضائی افواج کے مابین عملی ہم آہنگی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی۔

عراقی فضائیہ کے ہیڈکوارٹر آمد پر سربراہ پاک فضائیہ کا تاریخی اور شاندار استقبال کیا گیا جہاں عراقی فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا جو دونوں فضائی افواج کے مابین باہمی احترام اور برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔

سربراہ پاک فضائیہ نے پاکستان اور عراق کے مابین گہرے مذہبی، ثقافتی اور تاریخی روابط کو اْجاگر کرتے ہوئے انہیں دونوں برادر ممالک اور ان کی مسلح افواج کے درمیان دیرپا تعلقات کی بنیاد قرار دیا۔سربراہ پاک فضائیہ نے تربیت اور مشترکہ صلاحیتوں میں اضافے کے شعبوں میں عراقی فضائیہ کی مکمل معاونت کے لیے پاک فضائیہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں کمانڈرز نے باہمی آپریشنل ہم آہنگی اور مستحکم عملی اشتراک کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ مشقوں اور تربیتی پروگرامز کے انعقاد پر اتفاق کیا کمانڈر عراقی فضائیہ نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے خطے کی ایک جدید اور ٹیکنالوجی سے لیس فضائیہ کی صورت میں اس کے کامیاب ارتقاء کی تعریف کی۔

پاک فضائیہ کے عالمی معیار کے تربیتی نظام کو تسلیم کرتے ہوئے اْنہوں نے عراقی فضائیہ کے لیے جدید اور مستقبل سے ہم آہنگ تربیتی ماڈل کی تشکیل میں پاک فضائیہ کی معاونت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

عراقی کمانڈر نے پاک فضائیہ کے پائلٹس کے ایکسچینج پوسٹنگ پروگرام میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور اس امر پر زور دیا کہ عراقی پائلٹس، پی اے ایف کے حربی تجربہ رکھنے والے پیشہ ور پائلٹس سے براہِ راست سیکھنے کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جن کا عملی تجربہ عالمی سطح پر مثالی سمجھا جاتا ہے۔

کمانڈرعراقی فضائیہ نے جے ایفـ17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری، سپر مشاق تربیتی طیاروں کی شمولیت اور جامع دیکھ بھال و لائف سائیکل سپورٹ میں بھی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔عراقی ایئر چیف نے خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو بھی سراہا اور باہمی تزویراتی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔