سورج کی پہلی کرن کے ساتھ جب دنیا نئے سال 2026ء کا استقبال کیا تو جہاں ہر طرف جشن اور مبارک بادوں کا شور تھا، وہیں ”عالمی یوم امن” ہونے کے ناتے اس دن کو شاید وہ توجہ نہ مل سکی جو کہ ملنی چاہیے تھی۔ یکم جنوری صرف کیلنڈر بدلنے کا نام نہیں بلکہ یہ ‘عالمی یومِ امن’ بھی تھا۔ ایک ایسا دن جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی بقا صرف اور صرف باہمی رواداری اور امن میں پنہاں ہے۔ آج ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے تو عروج پر ہے لیکن اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر بکھری ہوئی نظر آتی ہے۔ کہیں سرحدوں کے تنازعات ہیں، کہیں نظریاتی جنگیں اور کہیں معاشی عدم مساوات۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں نے کبھی مسائل حل نہیں کیے بلکہ صرف نسلوں کی بربادی اور نفرتوں کو جنم دیا ہے۔ امن کا مطلب صرف ‘جنگ کی غیرموجودگی’ نہیں ہے بلکہ ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے جہاں ہر انسان کو جان و مال کا تحفظ حاصل ہو۔ انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور اختلافِ رائے کو دشمنی کے بجائے تنوع سمجھا جائے۔
موجودہ عالمی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو غزہ سے لے کر یوکرین تک اور کشمیر سے لے کر دنیا کے دیگر خطوں تک انسانیت سسک رہی ہے۔ امن کا تقاضا ہے کہ عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے صرف بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کے ذریعے تنازعات کا حل نکالیں۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ کیا امن صرف ریاستوں کی ذمہ داری ہے؟ ہرگز نہیں۔ امن کا سفر ہمارے اپنے گھر اور محلے سے شروع ہوتا ہے۔ جب تک ہم انفرادی سطح پر ایک دوسرے کو برداشت کرنا نہیں سیکھیں گے عالمی امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ امن کے قیام میں سب سے بڑا ہتھیار ”تعلیم” ہے۔ ایسی تعلیم جو ذہنوں کو روشن کرے نہ کہ نفرتیں پیدا کرے۔ ہمیں اپنی نسلِ نو کو یہ سکھانا ہوگا کہ ”مکالمہ” گولی سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ نفرت کا جواب محبت سے دینا ہی وہ فلسفہ ہے جو دنیا کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔
‘عالمی یومِ امن’ ہمیں اس تلخ حقیقت کی یاد بھی دلاتا ہے کہ انسانیت آج بھی سکون کی تلاش میں ہے۔ بدقسمتی سے جب ہم امن کی بات کرتے ہیں تو آج کی دنیا میں سب سے زیادہ بد امنی، جنگیں اور انسانی المیے عالمِ اسلام کے نقشے پر ہی نظر آتے ہیں۔ عالمی یومِ امن عالمِ اسلام کے لیے محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک تازیانہ ہے۔ فلسطین کی گلیوں سے لے کر کشمیر کی وادیوں تک اور شام و یمن کے کھنڈرات سے لے کر افغانستان کی آزمائشوں تک، مسلمان امت کسی نہ کسی شکل میں بدامنی کا شکار ہے۔ قبلہ اوّل کی سرزمین پر جاری ظلم و ستم نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہاں امن کا مطلب صرف جنگ بندی نہیں بلکہ غصب شدہ حقوق کی واپسی اور ایک آزاد ریاست کا قیام بھی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ بھی آٹھ دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کی میز پر پڑا سسک رہا ہے۔
دہائیوں سے جاری یہ تنازع جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی نے اس جنت نظیر وادی کو دنیا کے خطرناک ترین خطوں میں بدل دیا ہے۔ عالمِ اسلام کو امن کے حوالے سے دوہری جنگ کا سامنا ہے۔ ایک طرف بیرونی مداخلت اور سامراجی عزائم ہیں تو دوسری طرف فرقہ واریت، عدم برداشت اور انتہا پسندی جیسے داخلی ناسور ہمیں کمزور کر رہے ہیں۔ ‘امن صرف ہتھیاروں کے خاموش ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ انصاف، رواداری اور معاشی استحکام کا مجموعہ ہے’۔ اسلام تو نام ہی سلامتی کا ہے لیکن آج مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی کمی اور مکالمے کا فقدان ہی وہ خلا ہے جسے بیرونی قوتیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ جب تک اسلامی ممالک اپنے تنازعات کو میز پر بیٹھ کر حل کرنے کا ہنر نہیں سیکھیں گے، خطے میں پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا۔
عالمی یومِ امن پر یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ اقوامِ متحدہ اور او آئی سی جیسے ادارے مسلم دنیا میں امن قائم کرنے میں کیوں ناکام رہے؟ کیا امن کا معیار صرف طاقتور ممالک کے لیے ہے؟ عالمِ اسلام کو اب دفاعی اور معاشی طور پر متحد ہو کر اپنی آواز بلند کرنی ہوگی تاکہ عالمی امن کے نقشے میں مسلمانوں کے خون کی بھی وہی قیمت لگائی جائے جو مغرب میں کسی شہری کی ہے۔ نئے سال کے یہ دن ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم ‘امن’ کو صرف ایک لفظ کے طور پر نہیں بلکہ ایک مشن کے طور پر اپنائیں۔ عالمِ اسلام کے لیے امن کا راستہ علم کی ترویج، معاشی خود انحصاری اور باہمی اتحاد سے ہو کر گزرتا ہے۔ آئیے دعا کریں اور کوشش کریں کہ یہ سال فلسطین، کشمیر اور تمام مظلوم خطوں کے لیے حقیقی امن اور آزادی کا سال ثابت ہو، کیونکہ دنیا تب تک پُرامن نہیں ہو سکتی جب تک عالمِ اسلام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جاتا۔

