اسٹیبل کوائن: امریکی ڈالر سے منسلک ایک محفوظ ڈیجیٹل کرنسی؟

عوام الناس میں بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں ایسی کرپٹو کرنسیاں بھی وجود میں آچکی ہیں جن کے پیچھے اثاثے موجود ہوتے ہیں اور انہیں ”اسٹیبل کوائن” کے نام سے پُکارا جاتا ہے۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض اسٹیبل کوائن (کرپٹو کرنسیوں) کے پیچھے سونا، چاندی ہے جبکہ بعض کے پیچھے امریکی ڈالر، یورو، یا دیگر حقیقی کرنسیوں کے ذخائر موجود ہیں۔ انہی اسٹیبل کوائن میں ایک یو ایس ڈی ٹی (ٹیتھر) کے نام سے بھی مشہور ہے اور اس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یو ایس ڈی ٹی کے ہر جاری کردہ یونٹ کے پیچھے امریکی ڈالر بطور اثاثہ رکھا گیا ہے۔ جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ یو ایس ڈی ٹی کے ہر یونٹ کے پیچھے امریکی ڈالر بطور اثاثہ موجود نہیں ہے! امریکی کانگریس کی رپورٹ اور امریکی حکومتی ادارہ کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہیں کہ ہر یو ایس ڈی ٹی کے پیچھے امریکی ڈالر ہے بلکہ ان امریکی حکومتی اداروں نے تو اس غلط بیانی پر یو ایس ڈی ٹی کی کمپنی پر بھاری جرمانے عائد کیے ہیں اور اس کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کی ہے۔

امریکی ریاست نیویارک کے اٹارنی جرنل آفس نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں پریس ریلیز جاری کی ہے کہ امریکی ریاست نیویارک میں یو ایس ڈی ٹی کی خریدوفروخت پر مکمل پابندی ہے۔ نیز امریکی ریاست نیویارک کے اٹارنی جرنل آفس کے تحقیقات کے مطابق یو ایس ڈی ٹی کے ہر یونٹ کے پیچھے امریکی ڈالر بطور اثاثہ موجود نہیں ہے اور اس کمپنی نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور اس غلط بیانی کی وجہ سے ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی پر تقریباً اٹھارہ ملین امریکی ڈالر کا جرمانہ کیا گیا ہے جو کہ اس کمپنی نے ایک دوسری کمپنی کے ساتھ مل کر ادا کر دیا ہے۔ نیویارک کے اٹارنی جرنل آفس کے تحقیقات کے مطابق یو ایس ڈی ٹی (ٹیتھر) کے ہر یونٹ کے پیچھے امریکی ڈالر بطور اثاثہ موجود نہیں ہے اور انہوں نے دھوکہ دہی کی اور باہماس کے ایک بینک کی تصدیق پیش کی اور دعویٰ کیا کہ ہر یو ایس ڈی ٹی کے پیچھے ایک امریکی ڈالر ہے۔ اس تصدیق کے بعد پھر اگلے ہی دن وہ سارے پیسے اپنے اکاؤنٹ سے بٹ فائی نیکس کمپنی کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیے۔ یعنی اگلے دن ہر یو ایس ڈی ٹی یونٹ کے پیچھے اب کوئی امریکی ڈالر کا اثاثہ نہیں رہا۔ اس طریقے کے ہتھکنڈے اختیار کیے گئے اور عوام الناس کو دھوکہ میں ڈالا گیا۔ ان تمام باتوں کی تحقیقات مع ثبوت امریکی ریاست نیویارک کے اٹارنی جرنل آفس کی تحقیقات اور فیصلے میں درج ہیں۔ امریکی حکومتی ادارے کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کی تحقیقات میں درج ہے کہ یو ایس ڈی ٹی (ٹیتھر) نے غلط بیانی سے کام لیا ہے کہ ہر یو ایس ڈی ٹی کے پیچھے امریکی ڈالر بطور اثاثہ ہے۔

ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی بنیادی طور پر فرضی نمبروں کا کھاتے میں اندراج ہے، اس میں صرف ٹرانزیکشن کا تبادلہ اور خریدوفروخت ہوتی ہے اور اس میں کوئی مبیع نہیں ہوتا۔ نیز، یہ سارا سلسلہ دراصل کرپٹو کرنسی کے نظام کو مزید تقویت دینے کیلئے بنایا گیا ہے اور اصل مقصد بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کے کاروبار کو مزید ترویج دینا ہے۔ دراصل بٹ کوائن کے کمپیوٹر کوڈ کو لے لیا گیا ہے، اس کا نام تبدیل کردیا گیا ہے اور یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ کرپٹو کرنسی کی ایک نئی قسم یعنی ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی اسٹیبل کوائن ہے اور اس کے ہر یونٹ کے پیچھے امریکی ڈالر بطور اثاثہ رکھا گیا ہے (محققین کے مطابق یہ محض ایک دعویٰ ہے اور تفصیل مع حوالہ جات آگے آرہی ہے )۔ اصل میں پیچھے بٹ کوائن کا کوڈ ہی چل رہا ہے، اس بٹ کوائن کے کوڈ میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا اور اس کیلئے ”اومنی لئیر پروٹوکول” کا استعمال کیا گیا ہے۔ لہٰذا ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی کو کرپٹو کرنسی ہی سمجھا جائے۔

ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی بٹ کوائن پر بنیاد کرتا ہے جو کہ اس کے وائٹ پیپر میں واضح درج ہے اور بٹ کوائن کے متعلق ہمیں واضح طور پر پتہ ہے کہ یہ محض فرضی نمبروں کی تجارت ہے۔ خود ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی بنانے والے اس کا اقرار کر رہے ہیں۔ درجِ ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیے (جو کہ یو ایس ڈی ٹی کی اپنی ویب سائٹ پر موجود ہے)۔

ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی میں تقریباً وہی تمام نقائص پائے جاتے ہیں جو کہ بٹ کوائن کرپٹو کرنسی میں پائے جاتے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس میں ایک حقیقی کرنسی کے یونٹ کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے سے یہ مزید دھوکہ دہی کا منبع بن جاتی ہے۔

عمومی طور پر اسٹیبل کوائن کے نام پر یہ تشہیر کی جاتی ہے کہ ہماری جاری کردہ کرنسی یا ٹوکن کے پیچھے حقیقی کرنسی (امریکی ڈالر وغیرہ) یا سونا چاندی کے ذخائر موجود ہیں اور اس کی تائید کیلئے اسٹیبل کوائن جیسے ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی وغیرہ کی مثال دی جاتی ہے۔ اسٹیبل کوائن وہ کرپٹو کرنسی ہے جس کا مقصد کسی مخصوص اثاثے، یا اثاثوں کی ایک پول یا ٹوکری کی نسبت ایک مستحکم قدر کو برقرار رکھنا ہے۔ چونکہ اسٹیبل کوائن پرائیوٹ کمپنیاں جاری کرتی ہیں لہذا ان کی قیمت کو مستحکم رکھنے کیلئے جو پیچھے اثاثے رکھے جاتے ہیں اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی کہ وہ کہاں رکھے جاتے ہیں، مثلاً ایک اسٹبیل کوائن ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی کے حوالے یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے کچھ اثاثے جو رکھے ہیں وہ منی لانڈرنگ اور آف شور کمپنیوں کے حوالے سے مشہور ملک باہماس میں رکھے ہیں یا پھر امریکا یا دیگر ممالک میں اثاثوں، بانڈز وغیرہ کی صورت میں رکھے ہیں۔

اسٹیبل کوائن کے مقابلے میں حقیقی کرنسی یا سونا چاندی کی موجودگی پر عالمی ادارے اور محققین تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور اس کو محض ایک دعویٰ تصور کرتے ہیں، حقیقت میں پیچھے کچھ بھی نہیں ہے یا پھر بہت جزوی مقدار میں حقیقی کرنسی یا سونا چاندی موجود ہوتا ہے۔ بعض اوقات ان اثاثوں کے ذخائر کا اظہار نہیں کیا جاتا یا پھر آڈٹ رپورٹ ان اثاثوں کے ذخائر سے متعلق کچھ اور ہی حقائق پیش کرتے ہیں۔ ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی کی ہی مثال لے لیجئے، جب اس کی اثاثوں کے ذخائر کی رپورٹ پیش کی گئی تو سرمایہ کار حیران رہ گئے کیونکہ صرف تقریباً چھبیس فیصد ذخائر کیش، فیوڈسری ڈیپوزٹ، گورنمنٹ سیکورٹیز وغیرہ میں تھے جبکہ پچاس فیصد اثاثوں کے ذخائر کمرشل پیپر کی صورت میں تھے لہذا یہ دعویٰ کہ ہر ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی کے پیچھے ایک حقیقی کرنسی کا یونٹ (امریکی ڈالر) ہے یہ محض دھوکہ دہی پر مبنی ہے اور یہ امریکی کانگریس کی رپورٹ ہے۔ نیز سائنسی تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ اسٹیبل کوائن کو بنیادی طور پر کرپٹو کرنسی کی خریدوفروخت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ آج کل یعنی 2025ء میں بھی جو ٹیتھر کمپنی اپنی اثاثوں کے ذخائر کی آڈٹ رپورٹ پیش کرتی ہے وہ بھی اس بات کی نفی کرتی ہے کہ ہر یو ایس ڈی ٹی کے پیچھے امریکی ڈالر ہے بلکہ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے اثاثوں میں بٹ کوائن، امریکی ٹریڑری بل، منی مارکیٹ فنڈ، کارپوریٹ بونڈز وغیرہ بھی شامل ہے۔ مضحکہ خیز صورتحال یہ ہے کہ ٹیتھر یوایس ڈی ٹی کی کمپنی خود اپنے اس دعویٰ سے دستبردار ہو چکی ہے کہ اس کے جاری کردہ ہر یوایس ڈی ٹی کے پیچھے امریکی ڈالر ہے بلکہ اب انہوں نے اپنی مارکیٹنگ اسٹریٹجی تبدیل کر لی ہے اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر جاری کردہ یو ایس ڈی ٹی کے پیچھے اثاثوں کے ذخائر ہیں۔ ہم پہلے ہی امریکی ریاست نیویارک اٹارنی جرنل کی تحقیقات مہیا کر چکے ہیں کہ یہ محض دعویٰ ہیں اور حقیقت سے اس کا کچھ تعلق نہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ میں جمع کی گئی رپورٹ کے مطابق بھی ہر جاری کردہ یو ایس ڈی ٹی یونٹ کے پیچھے امریکی ڈالر نہیں ہے۔ (جاری ہے)