بسنت کی اجازت کا پہلا خونی نتیجہ آگیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے بسنت پر باقاعدہ پابندی تھی۔ امسال وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ نے اس کی اجازت دے دی۔ جس کا پہلا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ قصور کی ایک معصوم بچی کا منہ اور گال بری طرح دھاتی ڈور سے کٹ گیا ہے، گردن کٹتی کٹتی رہ گئی۔ اب یہ ننھی کلی ساری زندگی اس کٹی پھٹی جلد اور ٹیڑھے میڑھے چہرے کے ساتھ گزارے گی۔ یہ تو بسنت کا منحوس آغاز ہے ”بو کاٹا کی تھاپ” پر اور نجانے کتنی معصوم کلیوں کی گردنیں کٹیں گی۔ پنجاب حکومت کے پتنگ بازی کے فیصلہ سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام جائیں بھاڑ میں، کوئی مرتا ہے تو مرے بس ہماری واہ واہ برقرار رہنی چاہئے۔
ہماری تحقیق کے مطابق گزشتہ سالوں میں221افراد ہلاک اور 6565شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اس خونی بسنت مرنے والوں کی داستانیں بھی ایسی ہیں کہ ان کو لکھتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آئیں میں آپ کو اس جان لیوا کھیل کے ہاتھوں زندگی ہار جانے والوں 221افراد میں سے صرف دوچار موت کی المناک وغمناک سچی داستانیں سناتا ہوں۔
یہ کمسن معصوم بچے کی خون میں ڈوبی ہوئی لاش ہے۔ ضعیف ماں کی دلدوز چیخیں۔ صدمے سے نڈھال بوڑھا باپ۔ بھائی بہنوں کی بے بسی کا کربناک منظر۔ کتنے ارمان اس ماں کے دل میں تھے۔ کتنی حسرتیں بہنوں کی تھیں جو دل کی دل ہی میں رہ گئیں۔ باپ کا سہارا بننے کی آرزو غم میں تبدیل ہوگئی۔ ماں اس کو ڈاکٹر بنانا چاہتی تھی تو باپ اس کو انجینئر دیکھنا چاہتا تھا۔ بہن اس کو پائلٹ کی صورت میں باکمال شخصیت کی لاجواب سروس دیکھنا چاہتی تھی تو بھائی اس کو کامیاب تاجر۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ ماں نے دوڑتے ہوئے دروازہ کھولا۔ سامنے ایمبولینس کھڑی تھی۔ دو آدمی اترے اور اسٹریچر کو نیچے اتارا۔ ماں باپ اور بہن بھائی قریب کھڑے پھٹی آنکھوں سے گم سم دیکھتے رہے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو بھی ختم ہو چکے تھے۔ ماں باپ کا سہارا اور بھائی بہنوں کی امیدوں کا چراغ گل ہو چکا تھا۔ گویا ایک طوفان کی تیز آندھی آئی اور صحن میں جلتا ہوا دیا بجھا گئی۔ دوسرے دن تمام اخبارات میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی کہ لاہور میں پتنگ کی قاتل ڈور نے معصوم بچے کی جان لے لی۔ یہ لاہور میں گلبرک نامی علاقہ ہے۔ اس کی مین سڑک پر ایک موٹر سائیکل جارہی ہے۔ موٹر سائیکل پر ایک شخص سوار ہے۔ اس نے اپنے 3 سالہ شایان نامی بچے کو موٹر سائیکل کی ٹینکی پر بٹھایا ہوا ہے۔ اس کی بیوی بھی اس کے ہمراہ ہے۔ معصوم بچہ اس سوچ میں گم ہے کہ میں اپنے نانا نانی سے ملوں گا۔ اس کی سوچ صرف یہیں تک پہنچی ہوتی ہے کہ اچانک ننھے بچے کی گردن سے خون کا فوارہ نکلتا ہے اور اس کی گردن کٹ کر گرجاتی ہے۔ ادھر بوکاٹا کی صدا مسکراہٹوں اور قہقہوں کے ساتھ بلند ہوتی ہے اور اِدھر والدین کے لخت جگر کا سر تن سے جدا ہوکر ان کی گود میں گر پڑتا ہے۔ وہ کیا منظر ہوگا؟؟ ذرا سوچئے گا ضرور۔ یہ 18سالہ فرسٹ ایئر کا طالب علم ندیم ہے۔ بہنوں کا لاڈلا بھائی جو اپنے امتحانوں کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ رات کے وقت قریب میں ہی ٹیوشن پڑھنے جاتا تھا۔ اس کی بہنیں اور ماں اس کے واپس گھر آنے تک پریشان حالت میں اس کا انتظار کرتی تھیں، اس کی سلامتی کی دعائیں مانگتی رہتی تھیں۔ نہ معلوم کیا کیا امید یں اور آرزوئیں اس سے وابستہ ہوں گی۔ ایک دن کئی بہنوں کا اکلوتا بھائی ہاتھوں میں کتابیں پکڑے سکول سے واپس آرہا تھا کہ کٹی پتنگ کی دھاتی ڈور اس کی گردن پر اس طرح پھری کہ ساری امیدیں اور خوابوں کے چراغ گل کرگئی۔ اس کی بہنیں اور ماں زندہ دلانِ لاہور کی سنگ دلی پر لاش کے سامنے کھڑی خون کے آنسو بہا رہی تھیں۔ ادھر لاہور کی آزاد فضاؤں میں حسین پینچیوں کے بوکاٹا کے نعرے بلند ہو رہے تھے تو اِدھر بہنوں کے اکلوتے بھائی کی خون آلود کتابوں سے غم زدہ الفاظ کہہ رہے تھے: کس جرم میں قتل کیا گیا ہے؟؟
یہ لاہور میں واپڈا ہاؤس کی عمارت ہے۔ اس کی بالائی منزل پر بسنت کا تہوار ہر سال بڑے زور وشور سے منایا جاتا ہے۔ یہاں پر مردوزن کا اختلاط ہوتا ہے، رقص وسرود کے نشے میں بوکاٹا کے نعروں اور ڈھولک کی تھاپ پر پتنگوں کے ذریعے دل کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں، بالآخر ایک کی پتنگ کٹتی ہے۔ لاہور کے ایک محلہ میں چند لڑکے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ایک کی نظر کٹی ہوئی پتنگ پر پڑجاتی ہے۔ یہ زور سے پتنگ پتنگ کہتا ہوا پتنگ کے پیچھے دوڑ لگا دیتا ہے۔ باقی لڑکے بھی اس کے پیچھے پیچھے بھاگ پڑتے ہیں۔ سامنے سے تیز رفتار آتی ہوئی گاڑی سے ایک دس سالہ لڑکا ٹکرا جاتا ہے جسے ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ دوسرے دن ہسپتال سے اس کی لاش گھر آتی ہے۔ اس کی موت کا سبب صرف اور صرف دو ٹکے کی پتنگ بنی لیکن کتنی قیمتی جان لے گئی۔ ادھر ڈھولک کی تھاپ میں پتنگ کٹی ادھر معصوم بچی کی گردن کٹی۔ ہلاک ہونے والوں میں کوئی فائرنگ سے، کوئی چھتوں سے گرنے سے، کوئی پتنگ لوٹتے ہوئے گاڑی سے حادثہ کا شکار ہوگیا۔ کوئی موٹر سائیکل اور بائی سائیکل پر سوار تھاکہ دھاتی تار اس کی گردن سے پار ہوگئی۔ کوئی بجلی کی تار سے کرنٹ لگنے سے، کوئی لڑائی جھگڑے سے، کوئی پتنگ لڑانے کے دوران۔ ان مرنے والوں میں لڑکے بھی شامل ہیں اور لڑکیاں بھی۔ ان میں بڑے بھی ہیں اور جوان بھی۔ ان میں نوجوان بھی ہیں اور معصوم ننھے منے بچے بھی جن کی گردنیں دھاتی تاروں سے تن سے جدا ہوگئے اور ان کی دکھی مائیں پتنگ بازوں کو بددعائیں دیتی رہ گئیں، لیکن ان کی دھائی کون سنتا ہے؟ ہاں! آخرت میں ان کو ضرور بدلہ ملے گا۔ قرآن پاک میں آتا ہے: من قتل نفسا بغیر نفس اوفساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا ومن احیاھا فکانما احیاالناس جمیعا۔ یعنی ”جس نے ایک شخص کو قتل کیا تو گویا ایسا ہے اس نے اس کی پوری نسل کو ختم کر دیا اور اسی طرح جس نے ایک شخص کی جان بچالی وہ ایسے ہے جیسے اس نے اس کی پوری نسل بچالی ہے۔” ضرورت اس بات کی تھی کہ ہم ایسے قاتل کھیلوں سے توبہ تائب ہوکر قوم اور ملک کے لئے ایک ایک پیسہ بچاتے مگر ہم نے تو گھر پھونک کر تماشا دیکھنے کا رویہ اپنا لیا ہے۔ تباہی کی صورت میں ملک وقوم کی قسمت کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ یہ کیسی ثقافت ہے جو کالی دیوی کی طرح اتنی معصوم جانوں کا خون پیتی اور ملک کے وسائل کی تباہی سے خوش ہوتی اور پروان چڑھتی ہے۔

