پیر طریقت مفتی مختار الدین شاہ صاحب کا سفرِ آخرت

علم، تقوی اور دعوت و اصلاح کا عظیم مینار مختار الامہ حضرت مفتی مختار الدین شاہ صاحب بھی انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہمارے عظیم محسن و مربی حضرت اقدس مفتی سید مختارالدین شاہ صاحب رحمت اللہ علیہ کی وفات کے صدمے نے گویا کمر توڑ دی ہے۔ ان کی بے پناہ شفقتیں، بے حساب محبتیں، ہر نوع کی عنایتیں اور ہمارے لیے ایسی ایسی فکرمندیاں جن کا بیان اور اس دور میں مثال ملنا شاید دونوں ممکن نہیں۔ دعا یا مشورہ کے لیے اپنے مسائل بتاتے ہوئے ہمیشہ یہ خوف دامن گیر رہتا تھا کہ ہم تو شاید سہار لیں مگر یہ نہیں سہار سکیں گے۔ لکھنے کی ہمت اور بولنے کا یارا نہیں، بس دل کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے کچھ یادیں اور باتیں یہاں لکھی جاری ہیں۔ بلاشبہ ہم سب تعزیت کے مستحق ہیں۔ حضرت رحمہ اللہ کے لیے جتنا ایصال ثواب ممکن ہو کرتے رہیے۔

عصرِ حاضر کی اس راہنما و مؤثر ترین شخصیت کی پیدائش 2جنوری 1952 کو ضلع ہنگو کے علاقے کربوغہ شریف میں ہوئی۔ دینی رجحانات کے حوالے سے آپ کا خاندان پہلے سے ہی علاقہ بھر میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا، حضرت عمر شاہ صاحب المعروف صاحب مبارک جیسی معروف اور بزرگ ہستی کا تعلق بھی حضرت پیر صاحب کے خاندان سے ہی تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی صوفیاء اور بزرگ حضرات آپ کے خاندان میں گزرے ہیں۔ پیر مختار الدین شاہ صاحب نے ابتدائی تعلیم ساتویں کلاس تک اپنے ہی علاقے سے حاصل کی، بعد ازاں گھر کے حالات اچھے نہ ہونے کے سبب 1965میں قطر کا سفر کیا۔ خود پیر صاحب کے بقول اس وقت میرے کپڑوں پر پیوند لگے ہوئے تھے اور والد صاحب نے 400روپے دے کر مجھے رخصت کیا تھا۔ یہ حالت والدہ محترمہ سے دیکھی نہ جاتی تھی اور وہ میری حالت پر روتی رہیں۔ کراچی تک سفر کے بعد مختلف کشتیوں، لانچوں اور پیدل اسفار کے بعد بے انتہا مشقتیں برداشت کرتے ہوئے قطر پہنچے، وہاں مختلف مشقت بھرے کام کیے، محنت مزدوری کی اور کھدائی کرنے والے ایک عام مزدور سے لیکر فورمین کے درجے تک ترقی کی۔ بچپن ہی سے آپ کی طبیعت حساس تھی اور شرک و ظلم سے شدید نفرت تھی۔ آپ کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ کسی ایسی شخصیت کی صحبت ملے جو اللہ کی محبت میں یکسو کر دے۔ اسی تلاش کے دوران آپ نے 1969ء کے قریب قطر سے حج کا سفر کیا اور مدینہ منورہ میں آپ کی پہلی ملاقات حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی سے ہوئی۔ آپ فرماتے ہیں کہ تبلیغی نصاب پڑھتے پڑھتے حضرت شیخ سے پہلے ہی غائبانہ محبت ہو چکی تھی۔ پہلی ملاقات میں حضرت شیخ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ کو حلوہ کھلایا اور دعا دی۔

1970ء میں حج کے موقع پر آپ دوبارہ حجاز پہنچے۔ اس سفر میں اللہ پر توکل کا عجیب واقعہ پیش آیا، جب آپ کا اقامہ ختم ہو چکا تھا، لیکن اللہ نے غیب سے ایک عرب آفیسر کے ذریعے ایک ہی دن میں وہ تمام مراحل طے کرا دیے جس کے لیے مہینوں کا انتظار درکار ہوتا تھا۔ مدینہ منورہ میں ریاض الجنہ کے اندر آپ کو بچپن کا وہ خواب یاد آیا جس میں پکارا گیا تھا: ”زکریا اور مختار الدین دونوں اوپر آ جائیں۔” اسی اشارے پر آپ نے 14دسمبر 1970ء کو حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے ہاتھ پر توبہ اور بیعت کی۔ بیعت کے بعد آپ کے اندر رسمی علومِ دینیہ کا شوق پیدا ہوا۔ آپ نے ابتدائی کتب اپنے استاد (اور خسر) حضرت مولانا عبدالجلیل صاحب سے پڑھیں۔ بعد ازاں قطر کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان کے مدارس میں تعلیم مکمل کی اور دارالعلوم کراچی میں حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کے زیرِ سایہ تخصص فی الفقہ کیا۔

1975ء کے قریب، جب آپ ابھی طالب علم ہی تھے، حضرت شیخ الحدیث نے آپ کی روحانی تڑپ اور پابندیِ معمولات کو دیکھتے ہوئے آپ کو خلافت و اجازت سے نوازا۔ اس وقت آپ پر اتنا رعب تھا کہ آپ رو پڑے اور کہا: میں اس کام کا اہل نہیں ہوں۔ جس پر حضرت شیخ نے مسکرا کر فرمایا: اس لیے تو یہ ہوا۔ ایک طویل عرصہ تک آپ نے اس اجازت کو خود تک محدود رکھا اور یہ راز کسی کو نہیں بتلایا، حتی کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی صاحب کا انتقال ہوا تو ان کے خلفاء کو خیال آیا کہ مدینہ منورہ میں حضرت کاندھلوی صاحب نے کربوغہ کے ایک جوان کو اجازت عطا فرمائی تھی، لہٰذا پیر عزیز الرحمن ہزاروی صاحب نے صوفی اقبال صاحب کی خواہش پر آپ تک رسائی حاصل کی، آپ کو قائل کیا کہ آپ لوگوں کی اصلاح کریں اور یوں ایک خیر کے کام کی بنیاد رکھی گئی۔ حضرت مفتی صاحب نے امت کی اصلاح کے لیے تحریکِ ایمان و تقویٰ کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کا مقصد انسانی اقدار سکھانا اور لوگوں کو ملتِ بیضا پر چلانا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک ملک بھر میں پھیلتی چلی گئی، لاکھوں لوگوں نے یہاں سے ہدایت پائی، آج خانقاہ دار الایمان کربوغہ شریف رشد و ہدایت کا ایک مرکز بن چکی ہے، جہاں سال بھر ہزاروں تشنگانِ ہدایت کی آمد و رفت رہتی ہے، بھرپور راہنمائی ہوتی ہے اور دلوں میں ہدایت کے چراغ روشن کیے جاتے ہیں۔

حضرت مفتی مختار الدین شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے بہت ساری کتب بھی تصنیف کیں جن میں ایمانی صفات، عقیدہ اور عقیدت، دھریت سے اسلام تک اور بالخصوص البرہان فی تفسیر القرآن قابلِ ذکر ہیں۔ آپ کی لکھی ہوئی کتابیں آج بھی لاکھوں لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہیں۔ آپ اپنے علاقے میں قضا و تصفیہ کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتے تھے اور قضا اور تنازعات کے حل کے معاملات میں آپ کو بہترین ملکہ حاصل تھا۔ آپ اتحاد امت کے بہت بڑے داعی تھے، جس کے لیے بے شمار کوششیں بھی کیں اور آخری وقت تلک اس عظیم فکر کے لیے کوشاں رہے۔

آج حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب ہم میں نہیں رہے، لیکن ان کی تحریک، ان کی تصانیف اور ان کے تربیت یافتہ ہزاروں شاگرد ان کا صدقہ جاریہ ہیں اور تشنگان دین و معرفت کو حضرت شاہ صاحب رحمت اللہ علیہ کا فیض منتقل کر رہے ہیں۔ حضرت کی وفات سے بلاشبہ ایک سایہ شفقت اٹھ گیا، ایک چراغ ہدایت بجھ گیا۔ حضرت مفتی سید مختارالدین شاہ صاحب اللہ کے حضور پہنچ چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی کامل مغفرت فرمائے۔ لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آپ بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لیجئے گا۔ دنیا سے جانے والے کے لئے بہترین توشہ یہی ہوتا ہے کہ قرآن کریم پڑھ پڑھ کر اس کی روح کو بخشا جائے اور یہ مرنے والوں کا ہم پر حق ہے۔