دریائے چناب کی لہروں میں اب وہ پرانی توانائی نہیں رہی جو وہ پنجاب کی مٹی کو نذرانہ پیش کرتی تھی۔ ہمالیہ سے پھوٹنے والا یہ شفاف پانی جو کبھی زندگی کی نوید بن کر بھارتی سرحد پار کرتا تھا جلد ہی اس کی ساری توانائی کھینچ دی جائے گی۔ کیونکہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ”دلہستی سٹیج ٹو” پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ بھارت نے 23اپریل 2025ء سے سندھ طاس معاہدہ معطل کر رکھا ہے جس کے بعد سے انڈیا اس خطے میں پانی کے ذخائر اور بجلی کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ اس ہائیڈرو پاور منصوبے سے 280میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ پنجاب کے کھیتوں میں جب کسان علیٰ الصبح نہر کے پاس بیٹھ کر پانی کا انتظار کر رہا تھا تو اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے حصے کے پانی کو روک لیا گیا ہے۔ کچھ دن قبل جب یہ خبر آئی کہ چناب کا بہاؤ 870کیوسک تک گر گیا ہے۔ سورج کی پہلی کرن جیسے ہی خشک نہر کی تہہ پر پڑی تو اس کی ریت سونے کی طرح چمک رہی تھی کہ جوکہ دراصل ایک معاشی مقتل کا نقشہ پیش کر رہی ہوتی ہے۔ ادھر اسی سال کے ایک گرم دوپہر کو رونما ہونے والا اکنامک سروے 2025-26ء زرعی ترقی کے ہندسے شائع کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ لیکن یہ خواب اُس وقت تک ادھورا ہے جب تک اسے معاشی قتل گاہ میں تبدیل کرنے والے کی خبر نہ لی جائے۔
2024-25ء کے معاشی سروے میں یہ حقیقت اعداد کی شکل اختیار کر چکے تھے کہ زراعت کا جی ڈی پی میں 24فیصد حصہ ایک شماریاتی حقیقت نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کا ضامن ہے، لیکن جب چناب کا بہاؤ رکے گا’ نہری پانی کم ملے گا اور کبھی بالکل نہیں ملے گا تو ایسی صورت میں خوراک کی پیداوار پر بُرا اثر پڑے گا۔بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گندم کی پیداوار پر 20فیصد تک کمی ممکن ہے۔ اگر اسے ہم محتاط نظر سے دیکھیں تو میرے خیال میں پورے پاکستان کی گندم کی پیداوار میں کم ازکم 10فیصد کمی ممکن ہے، کیونکہ نہری پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ٹیوب ویل کا سہارا لیا جائے اور اس صورتحال میں چناب کے نہری پانی سے استفادہ کرنے والی پٹی کے زمینداران کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں رہے گا کہ وہ اپنے کنوؤں کو سولر فراہم کریں۔ جب میں دریائے چناب کے بہتے ہوئے پانی پر بھارت کا 260میگا واٹ کے ”دلہستی اسٹیج II” کو دیکھتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ دریا اب نہروں کی آبیاری کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا آبی سوئچ بن چکا ہے جس کا کنٹرول نئی دہلی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بجلی گھر رکاوٹ بن کر سامنے آرہا ہے جو لاکھوں برس سے بہنے والے قدیم بہاؤ، اس کی روانی کو ختم کر رہا ہے۔ دریائے چناب کو 1960ء کے سندھ طاس معاہدے میں پاکستان کے لیے ایک قانونی تحفظ فراہم کردیا گیا تھا اب جبکہ بجلی گھر بننے سے پہلے ہی چناب کا بہاؤ 870 کیوسک تک گرا ہے تو یہ صرف ایک ہائیڈوجیکل ڈیٹا نہیں تھا بلکہ یہ پنجاب کے کسانوں کے لیے معاشی وارننگ تھی، جن کے کھیت ان پانی کی اٹکھیلیوں سے محفوظ ہوا کرتے تھے۔ اب بھارت اس واٹر چین کو کاٹ رہا ہے جو قدرت نے ہمیں پانی کی صورت عطا کیے تھے۔
اگر عالمی برادری اور ورلڈ بینک نے اپنی خاموشی نہ توڑی تو چناب کے کنارے کھیت نہ صرف پیاسے رہیں گے، بلکہ معاشی طور پر مفلوج ہوجائیں گے۔ ان کی زرخیزی ماند پڑ جائے گی۔ ان کی پیداوار کم ہو جائے گی، ان کے جوان بیروزگار ہو جائیں گے۔ بھارت کی یہ آبی جارحیت دراصل پاکستان کی زراعت کو تباہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی اسکیم ہے۔ ایک ایسا دریا جس پر لاکھوں زندگیوں کا انحصار ہے بھارت کی طرف سے اُسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا دراصل ایک معاشی دہشت گردی کے مترادف ہے۔ اب انڈیا اس خطے میں پانی کے ذخائر اور بجلی کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ اس منصوبے کی منظوری سے پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے لیے ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان کی جانب سے ”وائر ڈپلومیسی” کا آغاز کیا جائے اور ایسے تیکنیکی ماہرین کو شامل کرنا چاہیے جو زراعت کے لیے پانی کی ضرورت اور تمام تر اعداد و شمار پر بلاتکان گفتگو کر سکتے ہوں۔ اس سے قبل بھارت پاکستان کی طرف سے آنے والے کئی دریاؤں پر بجلی گھر تعمیر کرچکا ہے اور اب یہ نیا منصوبہ بھارت کو پاکستان کی طرف آنے والے پانی کے بہاؤ کو مزید کنٹرول فراہم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ لہٰذا اس جانب بھرپور طریقے سے توجہ کرے اور ہر فورم میں اس مسئلے کو لے کر جائے تاکہ اس منصوبے کی تعمیر کو فوری روکا جائے۔

