سافٹ وئیر کی ماہیت و حقیقت

چھٹی و آخری قسط:
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ بعض ویب سائٹس یا سافٹ وئیر ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے میں فروخت ہوتے ہیں اور ان کی حیثیت عرفا ایک قابلِ قدر ڈیجیٹل پراپرٹی کی ہوتی ہے، جسے مال کے طور پر استعمال، منتقل اور بیچا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا بات ایسی نہیں جیسا کہ پیش کی گئی اور اس کی حقیقت سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے ڈیجیٹل وجود کی حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔ اس حقیقت کو سمجھنا اس لیے بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ مروجہ عالمی معاشی نظام میں ان ڈیجیٹل اشیا یا اثاثوں کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے اور انہیں کی بنیاد پر فرضی و تخیلاتی معیشت کی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ نیز بعض لوگ ان میں سے کچھ ڈیجیٹل اشیا کو قابلِ قدر اثاثے کو طور پر پیش کرتے ہیں اور اس کے متعلق پہلے ہی یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ وہ مال ہیں، انہیں استعمال، منتقل اور بیچا جا سکتا ہے حالانکہ نہ وہ ڈیجیٹل اشیا قابلِ قدر ہوتی ہیں، نہ ہی سنجیدہ معاشی ماہرین انہیں ڈیجیٹل اثاثہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان سیکوئی استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بس لوگ انہیں خرید و فروخت کرکے جوے اور سٹے بازی کا بازار گرم کرتے ہیں۔

ہم ڈیجیٹل اشیا کو دو طرح سے تقسیم کرسکتے ہیں۔ اول وہ ڈیجیٹل اشیا جن کا ڈیجیٹل وجود ہوتا ہے۔ ان میں مختلف اقسام کے کمپیوٹر سافٹ وئیر ہیں، یہ اپنا ڈیجیٹل وجود رکھتے ہیں، ان سافٹ وئیرز کی اپنی قدر ہوتی ہے، ان کا استعمال کیا جاتا ہے، ان سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، اور ان کی خریدوفروخت بھی کی جاتی ہے۔ مثلاً ایڈوبی سافٹ وئیر کو گرافک ڈیزائنگ میں استعمال کیا جاتا ہے اور اور یکل سافٹ وئیرکے ذریعے سے ریکارڈ کو محفوظ کیا جاتا ہے، واٹس اپ کے سافٹ وئیر کو کال کرنے، میسج کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری قسم ان ڈیجیٹل اشیاء کی ہے جن کا ڈیجیٹل وجود نہیں ہوتا، ان کی اپنی ذاتی قدر نہیں ہوتی اور ان سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا، مثلاً جانوروں جیسے بلی کی ڈیجیٹل آرٹ کی تصاویر، نان فنجیبل ٹوکن (این ایف ٹی) کرپٹو اثاثے وغیرہ۔

سائنسی اعتبار سے بعض ڈیجیٹل اشیا کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ ایک تصوراتی، تخیلاتی اور فرض کی ہوئی چیز ہوتی ہے جس کا ڈیجیٹل وجود تک نہیں ہوتا ہے۔ بعض ڈیجیٹل اشیا کو پیٹنٹ یعنی انٹیلیکچول پراپرٹی، بجلی، حقوق گڈول، حقوقِ مجردہ، کاپی رائٹ، ٹریڈ مارک، یا برانڈ کی طرح نہیں سمجھا جا سکتا اور جو لوگ بعض ڈیجیٹل اشیا کو بجلی، حقوق گڈول، حقوقِ مجردہ، کاپی رائٹ، ٹریڈ مارک، یا برانڈ پر قیاس کررہے ہیں وہ سائنسی طور پر سراسر غلط ہیں۔ نیز ایسے بعض ڈیجیٹل اشیا میں کوئی مال، کوئی قرض، کوئی خدمت، کوئی حق، اور کوئی اثاثہ نہیں ہے جو بیچا جا رہا ہے۔ نتیجتاً بعض ڈیجیٹل اشیاء میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے مبیع سمجھا جا سکے۔ اس سلسلے میں حضرت مفتی محمد معاذ اشرف صاحب دامت برکاتہم کا ایک اہم مضمون این ایف ٹی کا شرعی جائزہ ماہنامہ البلاغ اپریل میں شائع ہو چکا ہے، اس کو ملاحظہ فرما لیں۔ نیز راقم کا ایک مضمون ڈیجیٹل وجود کی حقیقت ماہنامہ صوت القرآن، نومبر میں شائع ہو چکا ہے، اس کو بھی ملاحظہ فرمالیں۔

خلاصہ کلام یہ کہ سافٹ وئیر کی ماہیت و حقیقت اور اس کی خریدوفروخت سے متعلق یہ امور واضح ہوتے ہیں۔ کمپیوٹر پروگرامر محنت کرتا ہے، سوچتا ہے، اپنی دماغی صلاحیتیں لگاتا ہے اور پھر وہ کمپیوٹر کو ایسی ہدایات جاری کرتا ہے جس سے کمپیوٹر کوئی فائدہ مند کام انجام دیتا ہے اور اسی فائدہ مند کام کو سافٹ وئیر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سافٹ وئیر کسی خام مال سے وجود میں نہیں آتا کیونکہ سافٹ وئیر کمپیوٹر کو دی گئی ہدایات کا نام ہے اور یہ کمپیوٹر پروگرامر کی دماغی صلاحیتوں کی وجہ سے وجود میں آتا ہے۔ پروگرامنگ لینگویج کو سافٹ وئیر کا خام مال نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی سافٹ وئیر مختلف پروگرامنگ لینگویج سے مل کربنتا ہے۔ پروگرامنگ لینگویج وہ ہنر اور صلاحیت ہے جس کے ذریعے سے کمپیوٹر پروگرام (سافٹ وئیر) تحریر کیا جاتا ہے اور جس کے ذریعے سے کمپیوٹر کو ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ عالمی دنیا میں سافٹ وئیر کو بطور کاپی رائٹ کے قانونی طور پر تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ نیز جب کوئی بازار سے سافٹ وئیر خریدتا ہے یا آن لائن سافٹ وئیر خریدتا ہے تو درحقیقت وہ سافٹ وئیر استعمال کرنے کے اختیار یعنی لائسنس حاصل کرتا ہے۔

اگر ہم عالمی سافٹ وئیر مارکیٹ کا تجزیہ کریں اور سافٹ وئیر کی بڑی کمپنیوں کا سافٹ وئیر کی خرید وفروخت کا جائزہ لیں تو بلامبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سافٹ وئیر بنانے والی عالمی کمپنیوں کی اکثریت سافٹ وئیر کے ملکیتی حقوق اپنے پاس ہی رکھتی ہیں اور صرف صارفین کو سافٹ وئیر کا لائسنس (سافٹ وئیر استعمال کرنے کا حق) فروخت کرتی ہے۔ سافٹ وئیر کی ماہیت و حقیقت اور اس کی خرید وفروخت کو سمجھنے کے لیے سافٹ وئیر کے لائسنس کے نظام کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ لائسنس کے حساب سے سافٹ وئیر کے کئی اقسام کے لائسنس ہوسکتے ہیں جن میں فری اور اوپن لائسنس اور نان فری لائسنس شامل ہیں۔ ان لائسنس کی قسم کے حساب سے سافٹ وئیر سے متعلق مختلف معاملات طے پاتے ہیں جن میں اس سافٹ وئیر کے کاپی رائٹ کی ملکیت، اس سافٹ وئیر کو چلانا، اس کی کاپی کرنا، اس میں تبدیلی کرنا، اس کو تقسیم کرنا، اور اس کا سب لائسنس جاری کرنے جیسے حقوق شامل ہوتے ہیں۔

عمومی طور پر جب کوئی سافٹ وئیر خریدتا ہے تو دراصل وہ اس سافٹ وئیر کو استعمال کرنے کا لائسنس حاصل کرتا ہے جسے اینڈ یوزر لائسنس ایگریمنٹ یعنی صارف کا لائسنس کا معاہدہ کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل سافٹ وئیر بنانے والے (یا فروخت کرنے والے) اور سافٹ وئیر صارف کے درمیان ایک قانونی معاہدہ ہوتا ہے۔ جب کوئی عالمی مارکیٹ میں سافٹ وئیر خریدتا ہے تو عمومی طور پر وہ دراصل اس معاہدے کے تحت سافٹ وئیر حاصل کرتا ہے جس میں درج ہوتا ہے کہ سافٹ ویئر لائسنس یافتہ ہے، فروخت نہیں کیا گیا، اور سافٹ وئیر فروخت کرنے والی کمپنی، سافٹ ویئر کے تمام حقوق محفوظ رکھتی ہے۔ یہ لائسنس آپ کو کوئی حق نہیں دیتا، اور آپ غیر قانونی طور پر ایسا نہیں کر سکتے ہیں:سافٹ ویئر یا سروسز کو شائع، کاپی، کرایہ، لیز، فروخت، برآمد، درآمد، تقسیم یا قرضہ دینا، جب تک کہ سافٹ وئیر کمپنی آپ کو واضح طور پر ایسا کرنے کی اجازت نہ دے۔