کتاب میلے میں

کراچی میں ہر سال کتاب میلہ سجتا ہے اور کتاب کے عاشقوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔ کراچی کے اسکولز، کالجز، مدارس اور ہر طبقے سے بڑی تعداد اس میلے کا رخ کرتی ہے۔ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ کتاب ابھی بھی زندہ ہے، کتاب دوست ابھی بھی قدر دانی کے لیے موجود ہیں اور کتاب فروش آج بھی ناامید نہیں ہوا۔ ہر سال ہمارا بھی کتاب میلے میں جانا ہوتا ہے اور بساط بھر خوشیاں سمیٹ لاتے ہیں۔ اس سال جانا تو ویسے ہی طے تھا کہ ”مسلم دانشوران کونسل” کی طرف سے ایک سیمینار میں گفتگو کی دعوت بھی مل گئی۔ یک نہ شد دو شد کا معاملہ ہوگیا۔ کتاب میلہ کے تیسرے دن یعنی ہفتے کے روز تین بجے سے لے کر ساڑھے چار بجے تک کونسل نے مصنوعی ذہانت سے متعلق سیمینار سجا رکھا تھا، جس میں ہمارا موضوع مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات اور دینی اداروں کی ذمہ داریاں تھا۔ ایکسپو سینٹر کے ہال نمبر ایک میں داخل ہوتے ہی کونسل نے بہت خوبصورت ڈسپلے اور مختصر گفتگو کے لیے کرسیاں سجا رکھی تھیں۔ وہاں جاتے ہی کونسل کے رابطہ کار بھائی عدیل صاحب سے ملاقات ہوئی اور کونسل کے مختلف کاموں سے آگاہی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد سیمینار شروع ہوا جس میں کی گئی گفتگو کا ذکر اگلی کسی تحریر تک اٹھا رکھتے ہیں۔

ایکسپو سینٹر کے تینوں ہال کتابوں اور کتاب عاشقوں سے بھرے ہوئے تھے۔ فیملیز، لڑکے اور لڑکیاں بہت بڑی تعداد میں یہاں آرہے تھے اور کسی بھی جگہ ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ قاری موجود نہیں ہیں۔ ہالز میں سجے اسٹالز تو ایک طرف رہے، جبکہ ہالز کے اوپر موجود کھانوں کے اسٹالز بھی کھچاکھچ بھرے ہوئے تھے۔ سب سے زیادہ فکشن کی کتابوں پر رش تھا۔ دوسرے ہال میں فکشن کی کتابوں کی کثرت تھی۔ اس لیے بچوں کی سب سے پہلی اور بڑی یلغار اسی ہال کی طرف تھی۔ بچے کتابیں خرید رہے تھے، اپنے پسندیدہ رائٹرز سے مل رہے تھے، ان کے آٹو گراف لے رہے تھے۔ اسی ہال میں ہماری کتابیں بھی موجود تھیں، اس لیے پہلے ہال سے فارغ ہوکر ہمارا زیادہ تر وقت یہیں گزرا۔ فکشن کے بعد سب سے زیادہ مذہبی کتابیں خریدی جا رہی تھیں۔ قرآن مجید، قرآن کے تراجم، تفاسیر اور دینی کتابیں بہت ذوق و شوق سے خریدی جا رہی تھیں۔ ہال میں کچھ لوگ ملے جو شکوہ کر رہے تھے کہ فلاں کتاب ختم ہوگئی، فلاں کتاب نہیں مل رہی۔ اس سے پتہ چلا کہ کچھ کتابوں کے پورے پورے ایڈیشن تین دنوں میں ہی ختم ہو چکے تھے۔ یہ بہت خوش آئند بات تھی۔

کتاب میلے کی خاص بات یہاں موجود مصنفین اور ان کے فینز کی بڑی تعداد تھی۔ جہاں جہاں مصنفین موجود تھے، وہاں پر جمگھٹا ہی لگا ہوا تھا۔ بچوں اور جوانوں کی بڑی تعداد اپنے پسندیدہ مصنفین سے مل رہی تھی، ان کے آٹو گراف لے رہی تھی اور ان کی لکھی کتابیں خرید رہی تھی۔

انگریزی کتابیں بھی موجود تھیں، ان کے اسٹالز بھی کتابوں سے بھرے ہوئے تھے، گنے چنے اسٹالز پر عربی کتابیں بھی موجود تھیں۔ عربی کتابوں کے شائقین بھی دکھائی دیے۔ یادش بخیر! چند سال پہلے پورا ایک ہال انگلش و عربی کتابوں اور غیرملکی اسٹالز کے لیے مختص تھے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ غیرملکی پبلشرز کے لیے یہاں منافع اتنا نہیں رہا کہ وہ سفر کر کے پاکستان آئیں۔ چند سال پہلے یہاں غیرملکی پبلشرز، ان کا اسٹاف اور کتابیں جابجا دکھائی دیتے تھے، اس بار یہ کمی محسوس ہوئی۔ شاید اس کی بڑی وجہ مہنگے ریٹس بھی ہیں، اس وقت ایکسپو سینٹر میں فی اسٹال ریٹ بہت زیادہ ہو چکے ہیں، منتظمین کو یہ پہلو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

ہم نے اس بات کا کھوج لگانے کی بھی کوشش کی کہ کتابوں کے اسٹالز کم کیوں ہیں اور بہت سے مشہور کتب خانے یہاں کیوں موجود نہیں؟ اس کی سب سے بڑی وجہ مہنگے اسٹالز تھے۔ معلوم ہوا کہ ایک اسٹال کا کرایہ کم از کم ایک لاکھ روپے تو ہے ہی۔ کسی بھی پبلشر کو ایک لاکھ روپے کمانے میں بہت وقت لگتا ہے۔ یہ کرایہ اس سے نصف ہوتا تو بھی قدرے زیادہ تھا۔ کتاب کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اسے خصوصی سبسڈی دے۔ ایکسپو سینٹر سال بھر مہنگی نمائشیں کرواتا ہے، کتاب میلہ سجاتے ہوئے ریٹس کم کر دیے جائیں تو اسٹالز کی تعداد دوگنی ہو سکتی ہے۔ یہ بات بھی پتہ چلی کہ اب سال میں دو کتب میلے لگا کریں گے، ایک مئی میں اور دوسرا دسمبر میں۔ یوں کتاب کے چاہنے والوں کو دو بار کتابوں کی مہک اور نشہ دستیاب ہوگا۔ کتابیں خریدیے، پڑھنے کی عادت ڈالیے، ورنہ علم سے عاری قوموں میں جذباتیت اور سطحیت ہی پروان چڑھتی ہے۔