سافٹ وئیر کی ماہیت و حقیقت

پانچویں قسط:
پاکستان میں بعض لوگ شاید یہ سمجھتے ہوں کہ سافٹ وئیر ہاؤس سافٹ وئیر بنا دیتے ہیں اور پھر مارکیٹ میں ان سافٹ وئیر کی خریدوفروخت شروع ہوجاتی ہے اور لوگ اس سافٹ وئیر کو آگے بھی فروخت کردیتے ہیں جبکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا اور یہ تاثر عالمی مارکیٹ میں سافٹ وئیر کی خریدوفروخت، یعنی عرف سے لاعلمی کے نتیجے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کو اس مثال سے بھی سمجھیے کہ جب کوئی مشہور سافٹ وئیر مثلاً مائیکروسافٹ آفس خریدتا ہے تو کون اس سافٹ وئیر کے لائسنس ایگریمنٹ (جو تیس چالیس صفحات پر مشتمل ہوتا ہے) کو پڑھتا ہے؟ نیز پاکستان میں سی ڈی میں ایک سافٹ وئیر کچھ سو یا ہزار روپے میں پائریٹڈ (نقل شدہ، جعلی، بغیر اجازت کے) بآسانی مل جاتا ہے جبکہ یہی سافٹ وئیر عالمی مارکیٹ میں لائسنس کے ساتھ کئی سو یا کئی ہزار امریکی ڈالر میں ملتا ہے۔ اس مثال سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بعض صورتوں میں (عوامی و نچلی سطح پر) سافٹ وئیر کی خریدوفروخت ایک پاریٹڈڈ مارکیٹ میں عمل پذیر ہوتی ہے اور شاید اسی وجہ سے عالمی قوانین (عرف) سے ناواقفیت کی بنا پر کچھ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ سافٹ وئیر ہم خرید سکتے ہیں، اس میں ردوبدل کرسکتے ہیں اور اسے آگے بھی فروخت کرسکتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں ہی کچھ مستند اور بڑے ادارے وکمپنیاں باقاعدہ لائسنس دے کر عالمی سافٹ وئیر مہنگے داموں خریدتے ہیں۔ اسی طریقے سے پاکستان کے بڑے سافٹ وئیر ہاس جب سافٹ وئیر عالمی مارکیٹ میں اپنے سافٹ وئیر فروخت کرتے ہیں تو وہ عالمی سافٹ وئیر کے لائسنس کے قوانین کے تحت عمومی طور پر ملکیتی حقوق اپنے پاس رکھ کر اس سافٹ وئیر کے لائسنس فروخت کرتے ہیں۔

سافٹ وئیر لائسنس اور سافٹ وئیر کی خریدوفروخت سے مراد کیا ہے؟
مارکیٹ میں سافٹ وئیر کی جب خریدوفروخت ہوتی ہے تو عام لوگ یہ تاثر لیتے ہیں کہ شاید وہ ایک شے خرید رہے ہیں اور پھر وہ اس کو آگے بھی فروخت کرسکتے ہیں کیونکہ سافٹ وئیر ان کی ملکیت میں آچکا ہے۔ یہ تاثر لینا غلط ہے۔ عمومی طور پر جب کوئی بازار میں جاکر سافٹ وئیر خریدتا ہے یا آن لائن سافٹ وئیر خریدتا ہے تو درحقیقت وہ سافٹ وئیر استعمال کرنے کے اختیار یعنی لائسنس حاصل کرتا ہے اور لائسنس کے اختتام پر وہ اس سافٹ وئیر کو مزید استعمال نہیں کرسکے گا اور نہ ہی وہ دورانِ استعمال (مدتِ لائسنس) اس سافٹ وئیر کو آگے کسی دوسرے کو بیچ سکتا ہے۔ آسان الفاظ میں جب کوئی سافٹ وئیر خریدتا ہے تو دراصل وہ سافٹ وئیر استعمال کرنے کے اختیارات حاصل کرتا ہے اور وہ صرف سافٹ وئیر کو استعمال کرے گا لہٰذا جب وہ سافٹ وئیر کا مالک ہی نہیں بنا تو اس کو سافٹ وئیر کو آگے فروخت کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔

سافٹ وئیر کی ماہیت و حقیقت اور اس کی خرید وفروخت کو سمجھنے کیلئے سافٹ وئیر کے لائسنس کے نظام کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ لائسنس کے حساب سے سافٹ وئیر کے کئی اقسام کے لائسنس ہوسکتے ہیں جن میں فری اور اوپن لائسنس اور نان فری لائسنس شامل ہیں۔ ان لائسنس کی قسم کے حساب سے سافٹ وئیر سے متعلق مختلف معاملات طے پاتے ہیں جن میں اس سافٹ وئیر کے کاپی رائٹ کی ملکیت، اس سافٹ وئیر کو چلانا، اس کی کاپی کرنا، اس میں تبدیلی کرنا، اس کو تقسیم کرنا، اور اس کا سب لائسنس جاری کرنے جیسے حقوق شامل ہوتے ہیں۔

عمومی طور پر جب کوئی سافٹ وئیر خریدتا ہے تو دراصل وہ اس کو استعمال کرنے کا لائسنس حاصل کرتا ہے جسے اینڈ یوزر لائسنس ایگریمنٹ یعنی صارف کا لائسنس کا معاہدہ کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل سافٹ وئیر بنانے والے (یا فروخت کرنے والے) اور سافٹ وئیر صارف کے درمیان ایک قانونی معاہدہ ہوتا ہے۔ اس معاہدے کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں، مثلاً ایک کمپنی ایک سانچہ تیار کرتی ہے جو پلاسٹک کی بوتل، کھلونے یا پرزہ جات کو تیار کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس سانچہ کے ڈیزائن کو بنانے والا اس سانچے کا مالک ہے۔ پھر یہ مالک لائسنس جاری کرتا ہے مختلف فیکٹریوں کو جو اس سانچہ کو استعمال کر سکتے ہیں۔ بہت ساری فیکٹریاں ایک ہی وقت میں ایک ہی سانچے کو استعمال کرتے ہوئے ایک ہی جیسی پروڈکٹ (پلاسٹک کی بوتل، کھلونے یا پرزہ جات) تیار کرسکتی ہیں۔ سانچے کے ڈیزائن کو بنانے والا مالک معاہدہ (لائسنس) ان فیکٹریوں سے دو طریقے سے کرسکتا ہے۔ پہلی صورت میں فیکٹریاں اس سانچے کے ڈیزائن کو فروخت، اور سانچے کے ڈیزائن میں ردوبدل کرسکتی ہیں۔ دوسری صورت میں فیکٹریاں اس سانچے کے ڈیزائن کو فروخت نہیں کرسکتیں اور نہ ہی سانچے کے ڈیزائن میں ردوبدل کرسکتی ہیں۔ فیکٹریوں کے سانچے کی آگے فروخت اور سانچے میں ردوبدل کا انحصار کیے گئے معاہدہ (لائسنس) پر ہوگا۔ اس سانچے کی مثال کو سافٹ وئیر پر اگر محمول کیا جائے تو سانچہ دراصل سافٹ وئیر ہے، جو معاہدہ (لائسنس) کیا گیا وہ اینڈ یوزر لائسنس ایگریمنٹ ہے اور جو پروڈکٹ ہیں وہ سافٹ وئیر کی کاپیاں ہیں۔ یہ یاد رہے کہ ہم نے یہ مثال صرف سمجھانے کی غرض سے دی ہے جس میں سانچہ ایک حسی فزیکل شے ہے جبکہ سافٹ وئیر غیر حسی، تخیلاتی، اور ڈیجیٹل شے ہے۔

دنیا کے سب سے بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں سافٹ وئیر بنانے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں جن میں سے چند مشہور یہ ہے: مائیکروسافٹ، گوگل (نیا نام: الفابیٹ) اور یکل، ایس اے پی، ایڈوبی، آئی بی ایم، اور سیلز فورس شامل ہیں۔ یہ دنیا کی امیر ترین سافٹ وئیر بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں اور ان کے بنائے ہوئے سافٹ وئیر کی پوری دنیا محتاج ہے۔ ذیل میں ہم صرف دو مشہور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سافٹ وئیر کے لائسنس کے اقتباسات نقل کرتے ہیں جن میں پہلی کمپنی گوگل (الفابیٹ) ہے، اور دوسری کمپنی مائیکرو سافٹ ہے۔ جبکہ دیگر سافٹ وئیر کمپنیوں کے سافٹ وئیر لائسنس ان سافٹ وئیر کمپنیوں کی ویب سائٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں مثلاً اور یکل، ایس اے پی، ایڈوبی، آئی بی ایم، اور سیلز فورس۔

گوگل اپنے سافٹ وئیر کو فروخت کرتے وقت یہ کہتی ہے کہ آپ ہماری خدمات یا سافٹ ویئر کے کسی بھی حصے کو کاپی، ترمیم، تقسیم، فروخت یا لیز پر نہیں دے سکتے۔ مائیکرو سافٹ اپنے سافٹ وئیر کو فروخت کرتے وقت یہ کہتی ہے کہ سافٹ ویئر لائسنس یافتہ ہے، فروخت نہیں کیا گیا، اور مائیکرو سافٹ، سافٹ ویئر کے تمام حقوق محفوظ رکھتا ہے جو ان شرائط کے تحت مائیکرو سافٹ کی طرف سے واضح طور پر نہیں دیے گئے ہیں۔
یہ لائسنس آپ کو کوئی حق نہیں دیتا، اور آپ غیر قانونی طور پر ایسا نہیں کر سکتے ہیں:
سافٹ ویئر یا سروسز کو شائع، کاپی، کرایہ، لیز، فروخت، برآمد، درآمد، تقسیم یا قرضہ دینا، جب تک کہ مائیکروسافٹ آپ کو واضح طور پر ایسا کرنے کی اجازت نہ دے۔ (جاری ہے)