اطلاعات کے مطابق مذاکرات کا ڈول اور ڈھول دونو ں فعال ہیں، اپوزیشن اِس ڈول کے ذریعے سیاسی کنویں سے کیا کچھ نکال سکے گی اور حکومت اس ڈھول کو بجا کر اپوزیشن کو کیا کچھ دے سکے گی۔ اس بابت اندر کے حالات جاننے والوں کے مطابق کچھ اصولی باتیں ابھی سے سمجھی جا سکتی ہیں یا یوں کہیں سمجھ لینی چاہئیں کہ 8فروری 2024کے انتخابات کی بابت مذاکرات میں کوئی بات نہیں ہوگی، فارم پینتالیس اور سینتالیس زیر بحث نہیں آئیں گے، اس کام کیلئے جو معروف پلیٹ فارم ہیں، سب کچھ وہیں سے ہوگا۔ 26ویں اور 27ویں ترمیم آئین کا حصہ بن گئی ہیں، ان میں جو ہو چکا وہ ہو چکا، اب پیچھے کی طرف سفر نہیں کیا جا سکتا ، ایسی خواہش اور کوشش بے کار ہوگی۔ جیسا کہ پی ٹی آئی یا اپوزیشن میڈیا پر ہوئی بحثوں یا جلسوں میں کہتی نظر آتی ہے۔ نو مئی 2023کے مقدمات کی بابت بھی کوئی بات نہیں ہوگی۔ بڑے خان صاحب اور بشریٰ بی بی کی رہائی پر بات نہیں ہوگی، نہ ان کے مقدمات پر کوئی گفتگو ہوگی۔ (اگر ہوگی تو مذاکرات کے پہیے رک جائیں گے۔)
پھر کیا بات ہوگی؟ مذاکرات کا عنوان کیا ہوگا؟ کہا سنا یہی جا رہا ہے کہ سیاسی جمہوری اصلاحات پر بات ہوگی۔ ان مذاکرات کے لئے غالباً اپوزیشن نے کوئی کمیٹی بھی بنا دی ہے۔ پی ٹی آئی ابھی اس میں شامل نہیں، البتہ شامل ہونا چاہے یا وزیر اعلیٰ کے پی اپنے طور پر اگر اپنا مزاج ٹھنڈا رکھ کر صوبے کے عوام اور معاملات کیلئے کچھ کرنا یا وفاق سے لینا چاہیں تو ضرور مل سکتا ہے۔ مذاکرات اور گفتگو کے ذریعے چھوٹے موٹے مقدمات ختم بھی ہو سکتے ہیں اور ان میں رہنماؤں کی ضمانت بھی ہو سکتی ہے۔ ہٹ دھرمی، ضد، گالم گلوچ، دھرنوں کی بنیاد پر کوئی بات نہیں ہوگی، اگر ایسا کچھ ہوا تو تحریک لبیک کے ساتھ ہوا منظر پھر نظر آ سکتا ہے۔ بدامنی کی لہر پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تو اڈیالہ کے باہر دھرنوں پر کیے اقدامات نظر آسکیں گے وغیرہ وغیرہ۔
٭٭٭
بیرسٹر گوہر اگرچہ پی ٹی آئی کے منہ بولے چیئرمین ہی ہیں، حقیقی چیئرمین نہیں لیکن پی ٹی آئی کو ان کے ذریعے کافی فائدہ ہو سکتا ہے۔ بڑے خان صاحب مسٹر اچکزئی اور ایک علامے کو جو مینڈیٹ دیا ہے، اگر ان لوگوں کا رویہ وہی رہا جو چل رہا ہے تو یہ مینڈیٹ کنویں کا مینڈک بن جائے گا۔ پھدکتا رہے گا لیکن نکل نہیں سکے گا۔ اس لیے علامہ صاحب ہوں یا مسٹر اچکزئی انھیں مزاج میں لچک رکھ کر بات کرناہوگی۔ 8فروری کو یوم سیاہ منانے پر پابندی نہیں ہوگی لیکن اسے یوم سرخ بنانے کی کوشش کی گئی تو 26نومبر والی سرخیاں دہرائی جا سکتی ہیں۔ سیاسی جدوجہد میں ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ پرامن جلوسوں پر بھی لاٹھیاں برستی ہیں لیکن پلٹ کر ریاست سے ٹکرانا اور لاٹھی کے جواب میں لاٹھی، گولی چلانا سیاسی کارکنوں اور لیڈر شپ کا شیوہ نہیں۔ پی ٹی آئی اگر یہ روایت توڑنا چاہے تو اس پہ پابندی نہیں لیکن نتیجے میں 26نومبر 2024اور اکتوبر 2025میں تحریک لبیک کے دھرنے والی کارروائی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اس لیے ریاست اور حکومت سیاسی یا مذہبی احتجاج کی آڑ میں کسی کو توڑ پھوڑ یا بدامنی کرنے دینے کے موڈ میں بالکل نہیں، لکیر پیٹنے کی بجائے سانپ کا سر کچلنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
٭٭٭
مذاکرات کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے سردست مذاکرات کی پیش کش قبول کرنے سے انکار ہی کیا ہے۔ حکومتی ڈول سے لٹکنے کیلئے دوسرے لوگوں کو آگے کر رہی ہے اور خود مظلومہ بی بی بننے کی مہم جاری رکھے گی اور اس کام کے لیے وہ اپنی روش پہ قائم رہنا چاہتی ہے، یعنی مار دو، مر جاؤ، کفن پہن لو، ڈنڈے کھاؤ اور بھاگ جاؤ، پاکستان سے باہر پی ٹی آئی کے بناسپتی خیرخواہ جو مہم شروع کیے ہوئے ہیں وہ بھی دراصل پی ٹی آئی کے من کی آواز اور دل کی بات ہے، اس لیے پی ٹی آئی اسے مسترد بھی نہیں کرتی اور کھل کر مانتی بھی نہیں۔
٭٭٭
متحدہ عرب امارات کے صدر محترم گزشتہ روز ایک روزہ دورے پر پاکستان تشریف لائے۔ یہ دورہ کیوں ہوا؟ اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ حکومتی اعلامیہ اپنی جگہ، تاہم کئی باخبر حلقوں نے اس دورے کا تعلق افغانستان، ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ہندوستان کی پاکستان دشمنی سمیت کچھ ایسے ہی معاملات سے جوڑا ہے۔ یہ بھی کہا سنا گیا ہے کہ یو اے ای سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو تحفظات تھے، شکوے اور شکایات تھیں، جو دور نہیں ہو رہی تھیں، مبینہ طور پر فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کو دعوت دی جا رہی تھی لیکن احتجاج ریکارڈ کروانے اور یو اے ای کا قبلہ درست کرنے کیلئے پاکستان نے سردمہری کا رویہ اختیار کیے رکھا تو جنابِ شیخ بنفس نفیس تشریف لائے۔ توقع کی جا رہی ہے، تعلقات کی بحالی ہو جانی چاہیے اور تمام معاملات پر پہلے جیسے حالات نہیں ہوں گے۔ پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت کسی جھانسے یا بلیک میل میں نہیں آرہیں، اس سے لیے جس نے اپنا رویہ درست رکھا، اس کے ساتھ دوستانہ مراسم رہیں گے، جو ٹیڑھا ہوا، اس کے لیے انگلی ٹیڑھی کی جائے گی۔

