سال ختم ہونے میں چند ہی دن ہیں اور اس سال زیر مطالعہ رہنے والی کتابوں پر تبصرہ ادھار ہے۔ اس سال جن متنوع کتابوں کے مطالعہ ک موقع ملا، ان میں سے صرف دو پر تبصرہ پیش خدمت ہے۔
سب سے پہلی کتاب جو میرے مطالعہ میں آئی، وہ بہت دلچسپ ہے۔ اس میں لکھا ہے: حضرت شیخ الہند فرماتے ہیں کہ میں جب سبق میں جاتا تو پہلے شاہ ولی اللہ رحمہ ا للہ کی کتابیں دیکھ لیتا۔ پھر اپنے استاد مولانا قاسم نانوتوی سے وہ سوالات پوچھتا جو شاہ ولی اللہ رحمہ ا للہ کے ہاں مشکل لگتے۔ حضرت نانوتوی ابتدا میں ہی وہ بات کردیتے جو شاہ ولی اللہ نے لکھی ہوتی، پھر اس پر مزید تفصیلات بھی فرماتے۔ ایسا کئی بار ہوا۔
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ امداد اللہ کیا لائے ہو تو میں عرض کروں گا: مولوی قاسم نونوتوی اور مولوی رشید احمد گنگوہی کو لایا ہوں۔ ان دونوں کو پیش کردوں گا۔ ایک مرتبہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی آنکھوں میں سرمہ لگا رہے تھے کسی نے پوچھا آپ کی بینائی تو چلی گئی ہے پھر کیوں سرمہ لگا رہے ہیں ،فرمایا بینائی رہے یا نہ رہے سنت کو کسی حال میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔ حضرت گنگوہی کا 70 سال کی عمر میں یہ عالم تھا کہ سارا دن روزے سے رہتے مغرب کے بعد 20 رکعت اوابین کے پڑھتے، پھر تراویح میں شریک ہو جاتے، تراویح کے بعد تلاوت میں مشغول ہو جاتے، تلاوت کے بعد دو ڈھائی گھنٹے تہجد میں لگاتے، نماز فجر کے بعد اشراق تک وظائف کرتے رہتے ۔ دن میں دن کا اکثر حصہ ذکر میں گزار دیتے ۔ ہر روز کم از کم 15 سپارے پڑھتے ۔ حضرت گنگوہی کی خدمت میں مسجد نبوی میں لگی ہوئی کھجور کے تین دانے پیش کیے گئے ،حضرت نے اس کا اتنا قدر و منزلت کی کہ ان تین کھجوروں کو 70 حصوں میں تقسیم کیا اور اپنے قریبی دوستوں اور مخلص احباب میں تقسیم کر دیا، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی بچپن میں جوتوں کو ایک ترتیب سے صف بنا کر جوڑ دیتے اور ایک جوتا آگے رکھ دیتے اور اپنے دوستوں کو کہتے دیکھو جوتے بھی نماز پڑھ رہے ہیں، ابھی آپ کی عمر 12 سال تھی کہ اپ نے تہجد پڑھنا شروع کر دی۔
حضرت مولانا انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں کہ سات سال کی عمر کے بعد میں نے دین کی کسی کتاب کو بغیر وضو کے ہاتھ نہیں لگایا اور مطالعہ کرنے کے دوران کتاب کو کبھی بھی اپنے تابع نہیں کیا بلکہ خود کو کتاب کے تابع کیا ،جس طرف کتاب رکھی ہوتی ،اس طرف میں گھوم کر جاتا اور حضرت مولانا انور شاہ کشمیری اپنے استادوں کا بے انتہا ادب کرتے تھے جب اپنے استاد حضرت شیخ الہند کے پاس حاضر ہوتے تو اس قدر جھک جاتے کہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں گر نہ جائیں۔ علامہ اقبال نے مولانا انور شاہ کشمیری کے بارے میں فرمایا تھا کہ اسلام کی 500 سالہ تاریخ میں مولانا انور شاہ کشمیری کی مثال نہیں ملتی۔ حضرت مولانا شاہ کشمیری فرماتے کہ میں جب کسی کتاب کو پڑھ لیتا ہوں تو 28 سال تک اس کتاب کا حاشیہ بھی مجھے یاد ہوتا ہے۔اس جیسے بے شمار واقعات پڑھنے کے لیے آپ ”ہمارے اکابر” یہ کتاب ضرور خریدیں۔ اسے لکھا ہے ہمارے دوست مولانا انورغازی نے۔
آج کی دوسری کتاب آج کے ایک سلگتے ہوئے مسئلے کا حل ہے، یعنی ہمارا خاندانی نظام۔ اس کا نام ہے: خاندانی نظام ایسے بچائیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق پاکستان میں طلاق کی شرح میں ناقابل ِیقین حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے اور گزشتہ پانچ سال میں طلاق کی شرح 35فیصد بڑھی ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں طلاق یافتہ خواتین کی تعداد 4لاکھ 99 ہزارریکارڈکی گئی، گزشتہ 5سال میں طلاق کی شرح میں 35 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔مغربی معاشروں میں تباہی کی بنیادی وجہ خاندانی نظام کی تباہی ہے۔ یہی تباہی اس وقت اسلامی معاشروں میں آرہی ہے۔
آج کل بدقسمتی سے طلاقوں کی سب سے بڑی وجہ نئی نویلی شادی شدہ لڑکیوں کی اپنی ماؤں یا بڑی بہنوں کے ساتھ غیر معمولی موبائل رابطے ہیں۔ یہ لڑکیاں اپنے سسرال میں ہونے والی ہر چھوٹی بڑی بات کو روزانہ تفصیل سے اپنی ماں یا بہن کے ساتھ شیئر کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں، ان کی مائیں یا بہنیں نہ صرف ان باتوں کو اپنی رائے یا جذبات کے ساتھ مزید پیچیدہ بناتی ہیں، بلکہ اکثر لڑکی کو مختلف معاملات میں غیر ضروری مشورے اور ہدایات بھی دیتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف نئے رشتے میں اعتماد کو کمزور کرتا ہے بلکہ لڑکی کے شوہر اور اس کے خاندان کے ساتھ تعلقات میں غلط فہمیاں اور تناؤ بھی پیدا کرتا ہے۔ مداخلت کے اس انداز کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان معاملات کو خود حل کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، اور چھوٹے مسائل وقت کے ساتھ بڑے تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ لڑکے اور لڑکی کی ماں کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ بہت سی مائیں اپنی بیٹیوں کو یہ سکھاتی رہتی ہیں کہ سسرال میں اپنا ”اثر و رسوخ” قائم کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح بہت سی ساسیں یہ چاہتی ہیں کہ اپنے بیٹے کو اپنی مٹھی میں بند رکھیں۔ یوں یہ تنازع بڑھتا ہی چلاجاتا ہے۔
ان تمام مسائل کا حل جس کتاب میں ہے، اسے آپ اپنے قریبی کتب خانے سے خرید سکتے ہیں۔ پانچ ابواب پر مشتمل یہ کتاب آپ کو بتائے گی کہ خاندانی جھگڑوں سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟ شادی کے بعد گھر کیسے چلانا چاہیے؟ میاں بیوی کا باہمی تعلق کیسا ہونا چاہیے؟ ساس، سسر کا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟ مولانا انور غازی کی لکھی یہ دونوں کتابیں آپ الحجاز پبلشرز سے حاصل کرسکتے ہیں: رابطہ نمبر ہے: 03142139797۔ اس نمبر پر آن لائن بھی آرڈر کیا جاسکتا ہے۔

