چوتھی قسط:
سافٹ وئیر کی ماہیت و حقیقت سمجھنے کے لیے پانچ مثالیں قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں جس سے ان شاء اللہ سافٹ وئیر کی ماہیت و حقیقت مزید واضح ہونے کی امید ہے۔
پہلی مثال: ایک شخص نے کسی سرجن سے پتھری نکالنے کے لیے رابطہ کیا۔ اگرچہ یہ سرجن آلات استعمال کرکے پتھری نکالے گا مگر اصل میں اس سرجن نے پتھری نکالنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا۔ اس پتھری نکالنے کی سرجری میں آلات خام مال نہیں کہلائیں گے، حالانکہ اس سرجن نے ٹانکے بھی لگائے ہیں، مگر یہ سب آلات ہیں۔
دوسری مثال: ایک سرجن سے ہم آنکھ کی سرجری کرواتے ہیں اور وہ لینس لگا تا ہے او ر لینس سمیت اپنی فیس بتا تا ہے تو یہ سرجن اپنی مہارت بھی استعمال کررہا ہے اور لینس بھی لگا رہا ہے لہٰذا یہ سرجن دو کام کررہا ہے، ایک اپنی مہارت کا استعمال کرنا اور دوسرا لینس لگانا۔
تیسری مثال: پہلے زمانے میں شادی کارڈ بنوانے کے لیے لوگ دکانوں میں جاتے تھے، وہاں پر ٹائپ رائٹر پر ایک شخص موجود ہوتا تھا تو ہم اس کو یہ کہتے تھے کہ شادی کارڈ کا مضمون لکھ کر دے دو تو وہ شخص اپنی ذہنی صلاحیت استعمال کر کے شادی کارڈ کا مضمون لکھ کر دیتا اور پھر اس شادی کارڈ کی کاپیاں بنا کر بیچ دیتے۔ یہاں پر یہ شخص اپنی صلاحیت سے وہ مضمون ٹائپ کرتا تھا اور ایک پرچہ ہمیں دیتا تھا۔
چوتھی مثال: ایک وکیل کو ہم اپنے کیس کیلئے لیتے ہیں کہ ہمیں خلع لینی ہے، وہ خلع کی ساری کاروائی کرتا ہے اور پھر ہمیں خلع کا کاغذ دے دیتا ہے کہ خلع ہوگئی۔ وہ وکیل کیس جیتنے پر اپنی ساری ذہنی صلاحیت استعمال کرتا ہے۔ اس میں جو جو چیزیں مثلاً کاغذ، اسٹیمپ پیپر وغیرہ استعمال ہوتا ہے وہ خلع کا خام مال نہیں کہلائے گا، بلکہ وہ سارے آلات کہلائیں گے۔
پانچویں مثال: ایک نقشہ نویس (آڑکیٹیکٹ یا سول انجینئر) کے پاس آدمی جاتا ہے، ایک پلازہ بنانے کے لیے کہ مجھے ایک جیسے بیس فلیٹ کے نقشے بنا دو، تو وہ ایک فلیٹ کا نقشہ بنا کردیتا ہے، پھر اسی نقشے کو دیکھتے ہوئے ایک فلیٹ بنتا ہے، پھر دوسرا، پھر تیسرا، سب میں اسی طرح کا ڈرائنگ روم، اسی طرح کے واش روم، اسی طرح کے ڈائننگ روم، اسی طرح کے کچن، سب میں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ ایک ہی جگہ ہوتے ہیں کہ اس طرف فلاں طریقے سے بنانا ہے، اتنے انچ کا بنانا ہے۔ تو وہ نقشہ نویس (آرکیٹیکٹ) ایک پرچے پر ساری ہدایات (نقشہ سمیت) بنا کر دے دیتا ہے۔ اب یہ نقشہ نویس (آرکیٹیکٹ) کی ذہنی مہارت کی ایک صورت ہوتی ہے جس کو وہ پرچے پر بنا کر دے دیتا ہے۔ تو یہ پرانے زمانے کا سافٹ وئیر کہلایا جا سکتا ہے۔ یعنی اگر اسی نقشے کو سافٹ وئیر کی شکل میں مانگیں تو بھی وہ بیس فلیٹوں کا نقشہ سافٹ وئیر کی شکل میں دے دے گا اور پہلی صورت میں کاغذ کی شکل میں اس نقشہ کر پرنٹ کردیا گیا تھا، باقی نقشے وہ پرنٹ کرکے، فوٹو اسٹیٹ کرکے بنا لیتے ہیں کہ اس طریقے کے ہر فلیٹ بنانے ہیں۔ پھر ہر فلیٹ والے کو وہ نقشہ تعمیر کرنے کے لیے دے دیا جاتا ہے۔ پھر وہ اگر جس ٹھیکے دار سے وہ فلیٹ تعمیر کروائے گا، اگر سامان سمیت کروائے گا تو اس کو ٹھیکیدار کی صلاحیت اور خام مال کی سامان کی لاگت دینی ہو گی اور نقشہ نویس (آرکیٹیکٹ) کو اس کی ذہنی صلاحیت یعنی نقشہ بنانے کی فیس دینی ہوگی۔ یعنی نقشہ نویس (آرکیٹیکٹ) کاغذ کے پرزے پر نقشہ بنا کر دے رہا ہے اور ٹھیکیدار نقشے کے مطابق فلیٹ بنا کر دے رہا ہے۔
اب ان پانچوں مثالوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب ہم غور کرتے ہیں تو سافٹ وئیر بنانے کا آڈر کسی سافٹ وئیر کمپنی کو مل رہا ہے تو اس سافٹ وئیر کمپنی میں کئی سافٹ وئیر پروگرامرز موجود ہیں جو کہ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے سافٹ وئیر کا کوڈ تحریر کررہے ہیں (پہلی مثال، تیسری مثال، چوتھی مثال، پانچویں مثال) پھر اگر وہ اس سافٹ وئیر کے ساتھ کوئی ہارڈ وئیر (آلہ یا کمپیوٹر وغیرہ) بھی ہمیں دیتے ہیں جس پر وہ سافٹ وئیر چلے گا تو یہ دوسری مثال کی طرح ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ سافٹ وئیر بنانے میں جو بجلی خرچ ہورہی ہے، جس گاڑی پر بیٹھ کر کمپیوٹر پروگرامر آرہا ہے، جس کمپیوٹر کو وہ استعمال کر رہا ہے، جس دفتر میں وہ یہ کام کر رہا ہے، یہ سب آلات ہیں اور اصل میں کمپیوٹر پروگرامر اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کر کے کمپیوٹر سافٹ وئیر تحریر کر رہا ہے جو کہ ایک صلاحیت ہے۔
سافٹ وئیر کی خرید وفروخت کی دو صورتیں
جب سافٹ وئیر کسی کو فروخت کیا جاتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک صورت یہ کہ کوئی شخص کسی کو اپنی ویب سائٹ یا سافٹ وئیر دے تو صرف ا س کی کاپی دے، جو بنیادی حقوق ہیں وہ اصل مالک کے پاس رہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ کلائنٹس کو وہ ویب سائٹ یا سافٹ وئیر اس طریقے سے دے دے کہ اصل مالک اس سے بالکل بے دخل ہو جائے اور کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ دونوں صورتیں ممکن ہیں اور رائج بھی ہیں اور ان دونوں ہی صورتوں میں مزید کئی ذیلی صورتیں بھی ممکن ہیں، جن کا یہاں پر تذکرہ نہیں کیا جا رہا۔ بعض سافٹ وئیر ایسے ہوتے ہیں کہ جب صارف ان کو مالک سے خریدتا ہے تو مالک بالکل بے دخل ہو جاتا ہے اور اس مالک کا اس سافٹ وئیر سے کوئی تعلق نہیں رہتا، مثلاً ایک سافٹ وئیر انجینئر یا کوئی کمپنی ایک مخصوص صارف کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک سافٹ وئیر تیار کرے اور پورے حقوق اس صارف کے دے دے۔ اب یہ صارف کی مرضی ہے کہ وہ جو چاہے اس سافٹ وئیر میں تصرف کرے اور اصل مالک بالکل بے دخل ہوجائے گا۔ اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ مثلاً دارالعلوم کراچی ایک سافٹ وئیر کمپنی سے ایک تصنیف و تالیف کا سافٹ وئیر بنوائے اور پھر معاہدہ کرکے اس کمپنی سے اس کے مکمل حقوق و قبضہ حاصل کرلے۔ اب دارالعلوم کراچی اس سافٹ وئیر کی مکمل مالک ہوگی۔ اگر اس سافٹ وئیر میں کوئی خامی آتی ہے تو وہ دارالعلوم کراچی کی ہی ذمہ داری ہوگی اور اگر دارالعلوم کراچی چاہے تو اس کے سیکڑوں کاپیاں بنا کر دیگر مدارس میں تقسیم کر دے۔
اگر ہم عالمی سافٹ وئیر مارکیٹ کا تجزئیہ کریں اور سافٹ وئیر کی بڑی کمپنیوں کا سافٹ وئیر کی خریدوفروخت کا جائزہ لیں تو بلا مبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ سافٹ وئیر بنانے والی عالمی کمپنیوں کی اکثریت سافٹ وئیر کے ملکییتی حقوق اپنے پاس ہی رکھتی ہیں اور صرف صارفین کو سافٹ وئیر کا لائسنس (سافٹ وئیر استعمال کرنے کا حق) فروخت کرتی ہے۔ مثلاً دنیا کی سب سے بڑی سافٹ وئیر کمپنیوں میں مائیکروسافٹ، گوگل، اور یکل، اور آء بی ایم وغیرہ صارفین کو جب سافٹ وئیر فروخت کرتی ہیں تو یہ کمپنیاں صارفین کو صرف سافٹ وئیر کی کاپیاں اور لائسنس فروخت کرتی ہیں اور سافٹ وئیر کے بنیادی حقوق اپنے پاس ہی رکھتی ہیں۔ دنیا میں جو بڑی سافٹ وئیر کمپنیاں ہیں، ان میں سے کچھ کا ریونیو بلین امریکی ڈالر سے بھی تجاوز کرتا ہے اور یہ کمپنیاں کچھ سافٹ وئیر کی بنیاد پر اپنے پورے کاروبار کو کھڑا کیے ہوئے ہیں اور یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنے بنائے گئے سافٹ وئیر کے اصل حقوق اپنے پاس ہی رکھتیں ہیں اور صرف سافٹ وئیر کا لائسنس جاری کرتی ہیں۔ اسی طریقے سے اگر پاکستان میں کوئی سافٹ وئیر بنانے والی کمپنی سافٹ وئیر فروخت عالمی مارکیٹ میں کرے گی تو اس سافٹ وئیر بنانے والی کمپنی کو بھی سافٹ وئیر کے عالمی لائسنس قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے خرید وفروخت کرنی ہوتی ہے۔ (جاری ہے)

