لوہے کا چنا

شہزاد اکبر ایک سمجھ دار اور قابل بیرسٹر جانے جاتے تھے، اوپر کے حلقوں میں انھیں عدالت عالیہ اسلام آباد کا جج بنائے جانے کی باتیں ہو رہی تھیں، اس دوران میں موصوف جب بڑے خان صاحب کے ہاتھ لگے تو دونوں میں گاڑھی چھننے لگی، خان صاحب نے انھیں اپنا معاون بنا لیا۔ اس معاونت کے نتیجے میں انھوں نے نواز شریف سمیت بڑے خان صاحب کے حریفوں کو سخت شکنجے میں کسنا تھا، میاں صاحب کو پاکستان لانا تھا، چنانچہ موصوف لندن آتے جاتے رہے، کوشش بھی خوب کی، دعوے بھی کیے، لیکن بڑے میاں بجائے پھنسنے کے لوہے کا ایسا چنا ثابت ہوئے ، جس سے بے چارے شہزاد اکبر کی بیرسٹی دھری کی دھری رہ گئی۔ خیر بڑے خاں صاحب کو مسٹر شہزاد اکبر پر تاؤ آیا، ابھی خان صاحب انھیں فارغ کرنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ شہزاد اکبر کو اس کا پتا چل گیا، انھوں نے معاونت اور مشیری سے استعفا دے دیا، اس کے بعد خاں صاحب کو بھی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں چلتا کر دیا گیا۔ شہزاد اکبر لندن سدھار گئے لیکن محبتِ خان میں کچھ نہ کچھ کرتے پائے جاتے رہے اور اپنے وی لاگ میں پاک فوج پر الزامات لگانے کا مشنِ خان انجام دینے لگے۔ ابھی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کچھ بھاگ دوڑ شروع کی ہے کہ انھیں پاکستان لایا جائے، لندن سے بظاہر یہ توقع نہیں کہ وہ ایسے لوگ پاکستان کے حوالے کرے۔
٭٭٭
انہی شہزاد اکبر پر لندن میں ان کے گھر میں حملہ ہوا ہے، ناک اور جبڑے کی ہڈی ٹوٹی، بازو پہ بھی پلستر چڑھا ہوا ہے۔ مبینہ طور پر کسی گورے نے باکسنگ کی مشق کی ہے۔ مسٹر شہزاد اس ظلم و تشدد کا الزام پاکستان پر لگا رہے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے کسی ہم خیال و ہمدرد نے انھیں سیاسی فائدہ پہنچانے اور مظلوم ثابت کرنے کے لیے کرائے پر کوئی بندہ حاصل کیا، کرایہ وصول کرنے والے نے کرایہ حلا ل کرنے کے چکر میں تھوڑے زیادہ گہرے ہاتھ جڑ دیے۔ پاکستان حوالگی کا بظاہر امکا ن نہیں، کیا پتا شامت اعمال انھیں پاکستان لے آئے۔ بہرحال ناک جبڑا صحت یاب ہو جائیں تو شہزاد صاحب کو چپ چاپ اللہ اللہ کرنی چاہیے۔ شاید ایک بار پہلے بھی یہ کسی کے ہتھے چڑھ چکے ہیں، جب مزید ایسا کوئی ہاتھ پڑا تو لندن پولیس انھیں پاکستان پارسل کر بھی کر سکتی ہے کہ یہ بندہ ہر ایک سے پھڈا مول لیتا ہے، کیوں نہ اس کو مستقل پاکستان ہی بھجوا دیا جائے۔
٭٭٭
موسم سرما اور شادیوں کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے، چنانچہ اس موسم سرما میں بھی خوب شادیاں ہو رہی ہیں، جوڑے بنتے جا رہے ہیں، کئی لوگ شادیوں میں انفرادیت اور کچھ ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی شادی یادگار بنے بلکہ دور تک ان کی شادی کی دھوم سنائی دے، اس چکر میں کئی لوگ انتہائی عجیب و غریب حرکتیں اور کرتب دکھاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں حیدر آباد میں ہوئی ایک شادی میں دلہا کے دوستوں نے نوٹوں کا ہار بنایا، ہار، اور نوٹوں کا ہار تو کوئی نئی بات نہیں لیکن نوٹوں کا کئی میٹر لمبا ہار ایسا کام ہے جو پہلی بار کیا گیا، چنانچہ یہ خبر میڈیا کے ہاتھ بھی لگ گئی ۔ اب دلہے میاں خوشی سے پھولے نہیں سما رہے، ہار کئی لوگوں نے سنبھالا ہوا تھا اور ان سب لوگوں نے ایک ہی جیسا لباس بھی پہن رکھا تھا۔ اللہ کرے اس حیدر آبادی دلہا دلہن سمیت ہر شادی شدہ کی جوڑی سلامت رہے ورنہ آج کل ذرا ذرا سی بات پر جدائیاں ہو جاتی ہیں۔
٭٭٭
تاجکستان سے افغانستان کی ان بن کھٹ پٹ میں تبدیل ہو رہی ہے، ان بن کو تاجکستان نے اتنی اہمیت نہیں دی لیکن اب جو کھٹ پٹ شروع ہوئی ہے تو تاجکستان نے افغان عبوری حکومت کو خبردار کیا ہے۔ معافی کا مطالبہ بھی کیا ہے اور آئندہ کے لیے باز رہنے کا بھی۔ ابھی افغان حکومت کی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں آیا، تاہم تجزیہ کار اور خطے پر نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ کہانی ختم نہیں شروع ہوئی ہے اور پاکستان کی ٹی ٹی پی کی طرح تاجک گروہ جو افغانستان میں موجود ہیں وہ جوبن دکھانے کے موڈ میں ہیں، تاجکستان کو مصروف و مشغول رکھنا چاہ رہے ہیں۔ کچھ لوگو ں کا خیال ہے کہ افغان حکومت ان تمام غیر ملکی گروہو ں کی سرپرستی کر رہی ہے اور (موجودہ) بڑے ملا صاحب کی رِضا سے یہ ساری حرکتیں ہو رہی ہیں لیکن ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ افغان عبوری حکومت اندرون ملک بدامنی نہیں چاہتی ، اس لیے ان گروہوں کی حرکتوں پر نہ صرف چشم پوشی کر رہی ہے بلکہ بڑی سطح کے رہ نما وقتاً فوقتاً تھپکی بھی دیتے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی دی جاتی ہے کہ ایران کی افغان حکومت بھی پورے خطے پر اپنا رعب داب ڈالنے اور چودھری بننے کے لیے پراکسی وار میں مصروف ہے۔ افغان حکومت کو خیال کرنا چاہیے کہ یہ پراکسیاں کبھی کسی کی سگی نہیں ہوتیں، اس لیے ان سے پیچھا چھڑا لے، یہ گلے کا ہار بن جائیں گی۔