پاک بنگلا بھائی بھائی

طوطی کا حشر: قیامِ پاکستان سے 1971 تک بنگلا دیش بھی پاکستان تھا ، مشرقی پاکستان کہلانے والا بنگلا دیش اپنوں کی حماقت ،غیر وں کی چالبازی اور سازش کاشکار ہوا ۔ وہی کھیل جو آج کچھ قوتیں بلوچستان اور کے پی میں کھیل رہی ہیں، اس وقت کے مشرقی پاکستان میں کھیلا گیا ۔ جو ہوا اس کے دہرانے کا یہ نہ موقع ہے نہ ضرورت ، البتہ آج کابنگلا دیش وہ منظر پیش کر رہا ہے جس کا سقوط ِ ڈھاکا کے منصوبہ سازوں نے سوچا بھی نہ ہوگا اور پاکستان بھی جس طرح اپنے بنگلا بھائی کو گلے لگائے دست و بازو بننے اور بنانے کے لیے کوشاں ہے، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے اور مکر وفریب، تعصب و مسلم دشمنی میں لپٹی ہندوستان حکومت میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ،اس کے تجزیہ کار، دانشور ، سمجھ دار سیاست دان اپنی حکومت کو مزید خطر ناک کھیل کھیلنے سے باز رکھنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں لیکن ہندوستان حکومت ، اس کے کل پرزے ، بے حسی پر مشتمل اس کے حساس ادارے پاکستان بنگلا دیش دشمنی کا کھیل کھیلنے میں مشغول ہیں اور شریف عثمان ہادی کی مظلومانہ شہادت کے بعد ہندوستان ایسے ہی ظلم کے لیے مزید شکار تلاش کر رہا ہے ۔
بنگلا دیش کو اندھیر نگری بنانے والی میڈم حسینہ سمیت بنگلا دیش کو مطلوب کئی مجرم اور فسادی ہندوستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور کئی ایک سر اٹھانے میں مصروف ہیں۔ آج کا بنگلا دیش ان لوگوں کے لیے پیغام ہے جو پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہیں ۔ مشرقی پاکستان کو پاکستان سے کاٹ کربنگلا دیش بنانے والے حقیقت میں پریشان ہیں، کے پی اور بلوچستان کے سادہ لوحوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ مسٹر خان کو اٹھائے اٹھائے پھرنے والے یاد رکھیں میڈم حسینہ کے ساتھ غیرت مند بنگلا بھائیوں نے کیا سلوک کیا ہے اور میڈم کے ابا کی یاد گاروں کا کیسے جنازہ نکالا ہے !!مسٹر خان کو اٹھائے اٹھائے پھرنے والے کراچی میں الطاف بھائی کے طوطی کا حشر بھی یاد رکھیں، جو گونگا ہوگیا ہے اور بولنے کے قابل نہیں رہا ۔
٭٭٭
گراونڈ تیار ہے:پاکستان اور بنگلا دیش ایک ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں ،جس کی بابت اس سے پہلے سوچنا تو کیا شاید اندازہ کرنا بھی مشکل ہوگا ۔ پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ بنگلا دیش کی موجودہ حکومت کے دور میں شاید نہ ہوسکے اور 12فروی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت ہی یہ معاہدہ کرسکے گی ،لیکن اس کے لیے گراونڈ کی تیاری تقریبا ہو چکی ، اصول و قواعد ضوابط پر غور و فکر جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان ایک طرف پاکستان کو زک پہنچانے کے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا ، چوں کہ پاکستان کے بنگلا بھائی اس کی دسترس سے دور ہو گئے ہیں، اس لیے وہ بنگلا دیش کی غیر ت مند نوجوان قیادت سے جینے کا حق چھیننے پر تلا ہوا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ افغانوں پر محنت جاری رکھے ہوئے ہے ۔
٭٭٭
خان و خانم :پی ٹی آئی میں اِ س وقت (بہ ظاہر)سب سے بڑے عہدے پر جو شخص ہے، وہ اپنی قابلیت ، مزاج میں وضع داری ،سمجھ داری اور قانونی دائرے میں رہ کر کوشش کے باوجود شاید سب سے ناکام اور مظلوم شخص ہے جی ہاں !جناب !!آپ بالکل ٹھیک سمجھے، پی ٹی آئی کے منہ بولے چیئر مین بیرسٹر گوہر وہ مظلومِ زمانہ شخصیت ہیں، جنھیں بعض اوقات یہ سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ “بچاؤں کدھر کی چوٹ اور کھاؤں کدھر کی چوٹ “۔ وہ فسادی گروہوں کے بیچ ایک معلق شخصیت بن کر رہ گئے ہیں ۔کچھ باخبر حلقوں کا یہ اصرار یا کم از کم دعوی ضرور ہے کہ جلد یا(کچھ )ٹھہر کے بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کو چھوڑ دیں گے ۔ ان کی کوئی کوشش بااثر اور جھگڑالو حلقہ کامیاب نہیں ہو نے رہا ۔ اور اس کی وجہ علیمہ خانم بھی ہیں اور ان کے بھیا خان بھی !!بے چارے بیرسٹر کب تک لیپا پوتی کریں گے یا کرسکیں گے۔ ممکن ہے بیرسٹر گوہر اپنی پارٹی کے سوشل میڈیا ونگ کی نشانہ بازی سے بچنے کے لیے پارٹی سے راہیں جدا نہ کر رہے ہوں ۔ بیرسٹر گوہر نے اگر انگڑائی لینے کی کوشش کی تو گالم گلوچ کے چمپئین ان کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کرنے میں ذرا سی بھی دیر نہیں لگائیں گے ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انگڑائی کا ارادہ دھرا رہ جائے اورگالم گلوچ پارٹی انھیں اپنے رنگ میں رنگ لے ۔
٭٭٭
ترقی کی پٹڑی :پی آئی اے کی فروخت اور نجکاری کا معاملہ میڈیا و سوشل میڈیا پر مسلسل زیرِ بحث ہے ۔ حکومت کے ناقدین محض حکومت کی دشمنی کی وجہ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں کہ پی آئی اے کی نجکاری در اصل حکومت کی ناکامی ہے اور بقول ان کے اتنی کم بولی میں 75فی صد حصص کی فروخت در اصل کوڑیوں کے دام میں قیمتی اثاثے فروخت کرنا ہوا ۔یہ ناقدین در اصل اِس سفید ہاتھی کو حکومت کے گلے کا ہار اس لیے رکھنا چاہ رہے ہیں تاکہ معیشت درست ڈگر پہ نہ چل سکے۔ حکومت جن دوسرے سفید ہاتھیوں کو پالتی چلی آرہی ہے ان کی نجکارئی اس کے لیے بہت بڑا چیلنج بنے گی، اگر اگلے ایک سے ڈیڑھ سال میں حکومت قومی خزانے پر بوجھ بننے والے ان اداروں سے خلاصی حاصل کرسکے تو حکومت کے آخری ڈیڑھ پونے دوسال میں پاکستان معاشی ترقی کی پٹڑی پر چڑھتا نظر آرہا ہوگا کیوں کہ آخری ڈیڑھ پونے دو سال نہ صرف بھاری بھر کم اداروں کی دست برد سے قومی خزانہ محفوظ ہو گا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی وہ شکل بننا شروع ہونے کے پورے امکانات موجود ہیں، جو وطن دوستوں کی مسرت کا سامان ہوں گے اور وہی وقت ہوگا جب وطن دشمنوں کی رو سیاہی کے مناظر بھی دنیا دیکھے گی۔