21اپریل آنے والی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی میعاد اسی روز ختم ہوتی ہے۔ اس تاریخ سے پہلے ڈیل ہوجانی چاہیے یا پھر جنگ بندی میں توسیع، ورنہ پھر خطے میں لہو بہنا شروع ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ ڈیل ہو رہی ہے یا نہیں؟ اس سے بھی اہم کہ ڈیل کتنی بڑی ہوگی، کس کے حق میں جائے گی اور کون اپنی ہار کو جیت میں بدل کر پیش کرے گا۔ ممکنہ ڈیل کا خاکہ کیا ہے؟ کس کو کیا ملے گا؟
امریکا، ایران مذاکرات کے حوالے سے کیا ہونے جا رہا ہے؟ کون سا فریق کہاں کھڑا ہے؟ کس کے حصے میں کیا آرہا ہے؟ پاکستان اس پورے کھیل میں کہاں اور کس حیثیت میں موجود ہے؟کیا ڈیل ممکن ہے؟ اس کا جواب ہاں میں ہے۔ ایک بڑی اور کمپری ہینسو ڈیل کی تیاریاں چل رہی ہیں، ویسے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈیل ہونے جارہی ہے، مگر ہم محتاط تجزیہ کریں گے تو یہ کہیں گے کہ ڈیل ہونے کے قومی امکانات ہیں۔ 15اپریل کو جے ڈی وینس نے جارجیا میں کہا: جو (ایرانی) لوگ ہمارے سامنے میز پر بیٹھے تھے، وہ واقعی معاہدہ چاہتے تھے۔ میں اس بارے میں بہت پر امید ہوں۔ اسی روز ٹرمپ نے کہا کہ دنیا حیران کن 2دنوں کے لیے تیار رہے اور جنگ ختم ہونے کے قریب ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ مذاکرات نتیجہ خیز اور جاری ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ رات ایک بار پھر اشارہ دیا کہ ڈیل ہونے جا رہی ہے اور اگر ایسا ہوا تو وہ اسلام آباد پاکستان جائیں گے، جہاں کا فیلڈ مارشل بھی شاندار آدمی ہے اور وزیر اعظم بھی شاندار شخص ہے۔ فیلڈ مارشل ایک اہم وفد لے کر ایران گئے ہیں، اس سے بڑا بریک تھرو ہونے جا رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا طوفانی دورہ کیا ہے، اس میں بھی بہت کچھ طے ہو رہا ہے، دوست ممالک کو اعتماد میں لیا جا رہا۔ واشنگٹن سے بھی اعلی سطحی رابطے ہیں، چین بھی آن بورڈ ہے۔ پاکستانی اعلی شخصیت امریکا کا فوری دورہ بھی کر سکتی ہے۔ یہ سب ڈیل کے لیے ہی ہو رہا ہے۔ پاکستانی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ جوہری محاذ پر بڑی پیشرفت متوقع ہے۔ یہ سب اشارے ایک سمت میں ہیں۔ ڈیل کے امکانات بہت بڑھ چکے ہیں۔
امریکا کو کیا چاہیے؟ امریکی مطالبات کی 3اہم سطحیں ہیں۔ پہلی اور سب سے اہم: ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے، یورینیم افزودگی بند یا سخت محدود ہو اور موجودہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر منتقل ہو۔ امریکا نے 20سال کے لیے یورینیئم کی افزودگی معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایران نے 5سال کی پیشکش کی۔ درمیانی راہ نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے، 10-15سال کے درمیان سمجھوتہ ہوسکتا ہے۔ امریکا چاہتا تھا کہ ایرانی افزودہ یورینیئم اس کے حوالے ہو، ایران انکاری تھا۔ اب یہ تجویز ہے کہ کسی تیسرے ملک (روس، چین وغیرہ) کے پاس وہ افزودہ یورینیئم رکھوا دی جائے۔ ایران اس پر رضامند ہو سکتا ہے۔
امریکیوں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلے اور ایران اسے سودے بازی کے ہتھیار کے طور پر نہ استعمال کرے۔ ٹرمپ نے جو بحری ناکہ بندی لگائی ہے، اس کا اصل ہدف یہی ہے کہ ایران کے ہاتھ سے یہ پتا نکال لیا جائے۔ ایران نے اس میں کچھ تامل کیا ہے، ٹول ٹیکس کی بات بھی کی ہے، مگر یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں۔ امریکا حملے سے پہلے والی صورتحال میں آبنائے ہرمز جا سکتی ہے۔ تیسری سطح: امریکا چاہتا ہے کہ ایران لبنان، عراق اور یمن میں اپنے اتحادی گروہوں (حزب اللہ، حوثی، عراقی شیعہ گروپس) کی مالی معاونت محدود کرے۔ یہ شاید سب سے مشکل مطالبہ ہے کیونکہ ایران اسے اپنی علاقائی حکمت عملی کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے۔ ایران کو کیا چاہیے؟ایران کی ترجیحات بھی واضح ہیں۔ پابندیوں کا خاتمہ: تیل کی برآمد پر پابندی نے ایرانی معیشت کو کھوکھلا کر دیا ہے، ایرانی ریال بے قیمت ہوچکا ہے اور عوام سخت مشکلات میں ہیں۔ پابندیاں اٹھیں تو ایران کے لیے سانس لینے کی گنجائش پیدا ہو۔ ایرانی چاہتے ہیں کہ یہ پابندیاں ختم ہوں، کم از کم فوری طور پر ان میں خاصی نرمی تو آئے۔ دوسرا: منجمد اثاثوں کی واپسی۔ امریکا نے ایران کے اربوں، کھربوں ڈالر دنیا کے مختلف بینکوں میں منجمد کر رکھے ہیں۔ یہ واپس ملیں تو فوری ریلیف ملے۔ ان فریز شدہ رقوم کا بڑا حصہ قطر کے پاس محفوظ ہے۔ یہ کوشش ہے کہ کم از کم وہ رقوم تو ایران کو فوری ملے تاکہ وہ جنگ سے تباہ حال علاقوں کا انفرااسٹرکچر بہتر بنا سکے۔ تیسرا: عزت کے ساتھ ڈیل۔ ایران کی نئی قیادت کو اپنے عوام کو یہ سمجھانا ہے کہ سپریم لیڈر کی موت کے بعد جو جنگ ہوئی، اس کا نتیجہ قومی شکست نہیں بلکہ ایک باوقار سمجھوتہ ہے۔ افزودگی کا حق ختم نہیں بلکہ معطل ہوا۔ یہ لفظوں کا فرق نہیں، یہ ایران کی ملکی سیاست کی ضرورت ہے۔ چوتھا: لبنان اور حزب اللہ کا معاملہ۔ ایران کہتا رہا کہ جامع جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہو۔ 16اپریل کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10روزہ جنگ بندی کا اعلان ہوا، جو ایران کے لیے ایک جزوی فتح ہے۔ ایران کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ حزب اللہ، حوثیوں وغیرہ کو ایسے چھوڑ دے، کچھ فاصلہ ممکن ہے پیدا کیا جائے مگر وہ بتدریج ہی ہو سکتا ہے، فوری نہیں۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ وقت کم ہے، اس لیے ممکن ہے امریکا اور ایران کے درمیان جامع اور مکمل معاہدہ ابھی نہ ہوسکے، مگر کچھ نہ کچھ ضرور ہو جائے گا، جیسے جنگ بندی میں توسیع، عارضی معاہدہ وغیرہ۔ ویسے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اگلے 3-4دنوں میں یعنی 20اپریل کو کوئی کرشمہ ہو جائے۔ ٹرمپ جیسے غیر روایتی شخص سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے۔ بہرحال اگر ڈیل نہ ہو پائی تب بھی ایک عبوری فریم ورک سامنے آ سکتا ہے جس میں 3چیزیں ہوں گی: پہلی، جنگ بندی کی مدت میں توسیع تاکہ مزید مذاکرات ہو سکیں۔ دوسری، جوہری پروگرام پر ابتدائی اتفاق جس میں افزودگی معطل ہو اور بین الاقوامی معائنہ بحال ہو۔ تیسری، بتدریج پابندیوں میں نرمی کا وعدہ، اس کے ساتھ ممکن ہے فریز شدہ رقوم کا ایک حصہ بھی واپس ہو جائے جبکہ آبنائے ہرمز عام ٹریفک کے لیے کھول دی جائے۔ یہ اوباما کی 2015والی ڈیل سے ملتا جلتا خاکہ ہے۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیں: جس ڈیل کو ٹرمپ نے 2018میں توڑا، آج وہی ٹرمپ کچھ ایسی ہی ڈیل کرنے کی کوشش میں ہے، البتہ نئی پیکیجنگ کے ساتھ۔ 8برس کی تکلیف، ایک جنگ اور ہزاروں قربانیاں اور واپسی کا راستہ وہیں سے جہاں سے چلے تھے۔
پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان کا کردار اس پوری صورتحال میں تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ وائٹ ہاوس نے اسے واحد ثالث قرار دیا، ٹرمپ نے خود فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا نام لے کر تعریف کی۔ ایران نے کہا کہ پاکستان واحد قابل اعتماد ثالث ہے، اس لیے ہم اگلے راؤنڈ کے لیے پاکستان ہی جائیں گے۔ دونوں فریقوں نے اسلام آباد پر اعتماد ظاہر کیا۔ یہ پوزیشن محنت سے حاصل کی گئی ہے اور اسے برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل کام ہوگا۔ پہلے راؤنڈ میں بھی پاکستانی کردار اہم تھا، اس کے بعد یہ مزید بڑھا ہے۔ اب دنیا بھر کے تجزیہ کار متفق ہیں کہ پاکستان نے بریک تھرو سہولت کاری کی ہے۔ یہ اب صرف پیغام رساں یا قاصد نہیں بلکہ ثالث ہے، ایک ایکٹو، متحرک، فعال اور چمتکار دکھانے والا ثالث۔ پاکستان کو اب میزبان، سہولت کار، باہمی پل اور ثالث سمجھا اور کہا جا رہا ہے۔ یہ عالمی سفارتی دنیا میں پاکستان کی شاندار انٹری ہے۔ ایسی جس کا چند ماہ قبل کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
اگلا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو اس سے کوئی ٹھوس فائدہ ہوگا؟ یہاں پر صاف صاف بات کی جائے تو یہ پاکستان کے اوپر منحصر ہے۔ دنیا میں ثالثی کی تعریف اور شاباشیاں ملتی ہیں، مگر عزت کے ساتھ ساتھ مفاد بھی ہونا چاہیے، ورنہ یہ کام محض اعزاز بن کر رہ جاتا ہے۔ پاکستانی عوام توقع کر رہے ہیں کہ پاکستان کے لیے اب ایران گیس پائپ لائن کا راستہ کھلنا چاہیے، جو ایک عرصے سے امریکی دبا کی نذر ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں امریکی نرمی ملنی چاہیے۔ بین الاقوامی ساکھ بڑھنے سے سرمایہ کاری کے دروازے کھلنے چاہییں۔ اگر ان میں سے کچھ بھی نہ ہوا تو تعریف کے چند جملے اور اعزاز کا ایک لمحہ پاکستانی عوام کے کسی کام نہیں آنا۔ ہماری تاریخ میں ایسے مواقع آتے رہے ہیں۔ افغان جہاد میں ہم نے سب سے زیادہ قربانی دی، سب سے آخر میں ہم ہی ہاتھ خالی لیے کھڑے تھے۔ اس بار دانش مندی یہ ہوگی کہ مذاکرات کی میز سے اٹھنے سے پہلے اپنا حصہ لکھوا لیا جائے۔
ایک بات طے ہے دونوں طرف سے جنگ کی مزید سکت نہیں۔ ایران معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، امریکا ٹرمپ کی تجارتی جنگوں کے باعث پہلے ہی دباؤ میں ہے اور عالمی منڈیاں ہر خبر پر کانپتی ہیں۔ ایک تجزیہ کار نے خوب کہا: یہ ایک بازار ہے، دونوں فریق سودے بازی کر رہے ہیں، دروازہ بند نہیں ہوا۔

