برطانوی استعمار اور برصغیر کا دینی تعلیمی نظام

گزشتہ سے پیوستہ:
(٢) تم نے ایک تبدیلی اور کی تھی۔ ملک کے نظامِ تعلیم میں تبدیلی کر کے نئے نظامِ تعلیم سے چار پانچ سبجیکٹ نکال دیے تھے۔ یہ درسِ نظامی اورنگزیب عالمگیر کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ 1857ء سے پہلے سوا سو سال یہی درسِ نظامی تھا۔ آج جو کالج کے مضامین ہیں وہ بھی، اور مدرسے کے مضامین بھی، ہم دونوں اکٹھے پڑھاتے تھے۔ اسی تپائی پہ مشکوٰة پڑھاتے تھے، اسی تپائی پہ اقلیدس پڑھاتے تھے۔ اسی کلاس روم میں ہدایہ پڑھاتے تھے، اسی کلاس روم میں طب پڑھاتے تھے، میڈیکل پڑھاتے تھے، ریاضی پڑھاتے تھے، معقولات پڑھاتے تھے، فلسفہ پڑھاتے تھے۔

انگریز آئے، انہوں نے چار پانچ سبجیکٹ نکال دیے۔ قرآن پاک کی تفسیر نکال دی، حدیث و سنت نکال دیے، فقہ و شریعت نکال دیے، عربی اور فارسی نکال دیں۔ ہم نے کیا کیا؟ جو مضامین تم نے نکال دیے تھے وہ ہمارے بزرگوں نے سنبھال لیے کہ تم نہیں پڑھاتے تو ہم پڑھائیں گے۔ یہ ہمارے ذہن میں ہونا چاہیے کہ جو مضامین انہوں نے نکالے تھے 1857ء کے بعد، ہمارے بزرگوں نے یہ کہہ کر سنبھال لیے کہ ہم روکھی سوکھی کھائیں گے لیکن یہ مضامین باقی رکھیں گے۔

ہمارا مدرسہ کیا تھا؟ مسجد کی چٹائیاں، محلے کی روٹیاں، پڑھانے والا استاذ۔ ایک سو سال تک عام طور پر مدرسہ اس طرح رہا ہے، بلڈنگیں تو بعد میں بنی ہیں۔ میں نے وہ مدرسہ دیکھا بھی ہے، وہاں پڑھا بھی ہے اور روٹیاں بھی مانگی ہیں، الحمد للہ مجھے اس پر فخر ہے۔ مجھے آج بھی وہ گھر یاد ہیں جہاں سے روٹیاں لایا کرتا تھا۔ طلبہ مسجد میں سو جاتے تھے اور محلے سے روٹیاں مانگ کر لاتے تھے۔ اس پر ایک لطیفہ سنا دیتا ہوں۔ نصرة العلوم میں سنہ 1958ء کی بات ہے، میں حضرت قاری محمد یاسین صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سے قرآن پاک یاد کیا کرتا تھا۔ ہم محلے سے روٹیاں لاتے تھے۔ میں دس بارہ سال کا تھا۔ ہم پانچ چھ بچے تھے، ہمارے ذمے تھا محلے سے روٹیاں لاؤ۔ ضابطۂ اخلاق یہ تھا کہ ڈول میں سے اور روٹی میں سے کوئی شے نہیں نکالنی، سارا جمع کرانا ہے، جہاں سے ملے گا جو ملے گا، البتہ کسی گھر میں اگر کھانا نہیں پکا ہوتا تھا تو وہ دو آنے یا چار آنے دیا کرتے تھے کہ ”درویش! روٹی نہیں پکی، یہ لو”۔ اُس زمانے کے دو آنے چار آنے آج کل کے دو اڑھائی سو روپے تو ہوں گے۔ وہ ہمارے ہوتے تھے۔ ضابطۂ اخلاق کے مطابق روٹی سالن ہم نے پورا لا کر جمع کروانا ہے اور اگر نقد چار پیسے مل گئے تو وہ ہمارا حق ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہم کسی بڑے گھر میں روٹی لینے کے لیے جا رہے ہوتے تو دعا کرتے جاتے تھے، یا اللہ اس گھر میں روٹی نہ پکی ہو۔

خیر، یہ مدرسہ ہم نے سنبھالا ہے۔ اب بات ہو رہی ہے مضامین کو اکٹھا کرنے کی کہ دونوں کو اکٹھا کرو۔ ہم نے کہا، ٹھیک ہے کر لیتے ہیں۔ جو سبجیکٹ تم نے تعلیمی نصاب سے نکالے تھے وہ واپس لے لو تو اکٹھا ہو جائے گا۔ تبدیلی ہم نے تو نہیں کی۔ مضامین ہم نے نکالے تھے یا تم نے نکالے تھے؟ ہم تو اکٹھا پڑھاتے تھے، ریاضی بھی پڑھاتے تھے، سائنس بھی پڑھاتے تھے۔ اصطلاح کا فرق ہے۔ ہم سائنس پڑھاتے تھے فلکیات کے نام سے، تم فلکیات پڑھاتے ہو سائنس کے نام سے۔ ہم میڈیکل پڑھاتے تھے طب کے نام سے، تم طب پڑھاتے ہو میڈیکل کے نام سے۔ جو مضامین تم نے نکالے تھے وہ واپس لے لو تو بات ختم ہو جائے گی۔ وہ تو تم واپس نہیں لے رہے، تم تو ترجمہ قرآن پاک کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ہو، ہم سے کیا مطالبے کر رہے ہو؟

میں نے اسلام آباد کے ایک سیمینار میں کہا کہ کیا کالج ترجمہ قرآن پاک پڑھنے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے؟ اگر اکٹھا کرنا ہے تو درسِ نظامی پہ واپس آجاؤ۔ وہ درسِ نظامی جو ملا نظام الدین نے دیا تھا۔ تمہارا فارمولا ہم سمجھتے ہیں کہ کیا ہے، وہی جو ہم نے بہاولپور یونیورسٹی میں تجربہ کر لیا ہے۔ میں تفصیل نہیں دہراؤں گا۔ تمہارا فارمولا یہ ہے کہ ایک امریکی ریسٹورنٹ کے دروازے پہ لکھا تھا کہ یہاں گھوڑے اور خرگوش کا گوشت مکس پکایا جاتا ہے۔ لوگ آتے تھے اور کھاتے تھے۔ کوئی ہمارے جیسا سرپھرا بھی چلا گیا، کاؤنٹر پہ جا کر پوچھا، یہاں گھوڑا بھی پکتا ہے اور خرگوش بھی؟ کہا، جی۔ کیا فارمولا ہے آپ کا؟ جی، برابر برابر، ایک گھوڑا اور ایک خرگوش۔ اس نے کہا، یہ تو نہیں چلے گا۔

ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ فارمولا ان شاء اللہ نہیں چلے گا۔ برابر کرنا ہے تو 1857ء سے پہلے کی پوزیشن پر واپس آجاؤ، ہم حاضر ہیں۔ لیکن ایک گھوڑا اور ایک خرگوش کا فارمولا نہیں چلے گا اور نہیں چلنے دیں گے ان شاء اللہ۔

(٣) ایک بات تم نے اور کی تھی۔ قرآن پاک نے شیطان کی ایک صفت بیان کی ہے ”یا بنی اٰدم لا یفتننکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنة ینزع عنھما لباسھما لیریھما سواٰتھما” (الاعراف 27)۔ لباس اتروانا کس کا کام تھا؟ شیطان کا۔ تم نے ہمارا لباس تبدیل کرنا چاہا، ہم آج بھی شلوار قمیص میں کھڑے ہیں، پونے دو سو سال کے بعد ہم اسی لباس میں کھڑے ہیں، تم ہمارا لباس نہیں اتروا سکے۔ یہ تہذیب کی جنگ ہے، ثقافت کی جنگ ہے۔ بڑی جنگ ہوئی ہے ثقافت کے نام پر، سولائزیشن کے نام پر۔ الحمد للہ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ امریکا بھی جاتا رہا ہوں، برطانیہ بھی جاتا رہا ہوں، ہانگ کانگ بھی گیا ہوں، اسی لباس میں گھوما پھرا ہوں۔ ہماری تہذیب نہیں بدل سکے، پورا زور لگا لیا تم نے لیکن ہماری ثقافت نہیں بدل سکے، ہم اسی لباس میں کھڑے ہیں جس میں 1757ء میں تھے۔

(٤) ایک بات اور کہ تم نے ملک کا قانون تبدیل کر دیا تھا۔ 1857ء سے پہلے ملک کا قانون کیا تھا؟ شریعتِ اسلامیہ تھی، فتاویٰ عالمگیری کی صورت میں۔ فتاویٰ عالمگیری کیا تھا؟ شریعتِ اسلامیہ کی احناف کی تعبیر تھی۔ ملک میں قانون کس کا نافذ تھا؟ شریعت کا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں بھی شریعت کا قانون نافذ تھا۔ تم وہ قانون منسوخ کر کے برٹش لا لے کر آئے۔ ہم نے فیصلہ تو پاکستان بننے کے بعد ہی کر لیا تھا کہ یہ برٹش لا نہیں چلے گا اور شریعت آئے گی۔ تم رکاوٹیں ڈال رہے ہو۔ ہم وہیں کھڑے ہیں شریعت پر اور قرآن و سنت پر۔ ہم نے برٹش لا کو کل بھی نہیں مانا تھا، آج بھی نہیں مانیں گے۔

(٥) اور پانچواں، عقیدے کے حوالے سے بھی ہم وہیں کھڑے ہیں۔ 1854ء والے مناظرة الکبریٰ کے ماحول ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر رہا تھا، عقائد کے اعتبار سے اور عقائد کی تعبیرات کے حوالے سے۔ آج جدید فکر و فلسفہ کے نام سے بہت کچھ ہو رہا ہے لیکن کیا امت نے قبول کیا ہے، عقائد بدلے ہیں، تعبیرات بدلی ہیں؟

یہ پانچ باتیں میں دہرا دیتا ہوں: (١) معاشی آزادی اور سیاسی آزادی کے حوالے سے ہم 1857ء میں کھڑے ہیں (٢) تعلیمی نظام کے حوالے سے بھی ہم 1857ء میں کھڑے ہیں (٣) تہذیب و ثقافت کے حوالے سے بھی ہم وہیں 1857ء میں کھڑے ہیں (٤) نظام اور قانون کے حوالے سے بھی 1857ء میں کھڑے ہیں (٥) اور عقائد اور تعبیرات کے حوالے سے بھی ہم وہیں کھڑے ہیں۔

اِس سیمینار کا آج کی دنیا کو پیغام یہ ہے کہ جو کرنا ہے کر لو، ہم وہیں کھڑے ہیں اور وہیں کھڑے رہیں گے، تمہیں واپس جانا ہو گا، ہم آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔