جب امریکا اور ایران کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی کا اعلان ہوا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان شروع ہو گیا تھا۔ تاہم اس کے فوراً بعد لبنان پر اسرائیل کے تیز ترین حملوں کے آغاز نے صورت حال کو دوبارہ غیر یقینی بنا دیا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں 4 سے 6 فیصد تک فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اگر حالات کم از کم 15 دن کے لیے بھی مستحکم رہتے تو امکان تھا کہ تیل کی قیمتیں دوبارہ اپنی سابقہ سطح پر آ جاتیں، لیکن کسی بھی مخدوش صورت حال کے پیش نظر عارضی جنگ بندی کو شدید دھچکا لگتا ہے، تو اس کا سب سے زیادہ اثر یورپ اور ایشیا پر پڑتا ہے، جہاں افراطِ زر کی ایک نئی لہر سرمایہ کاروں کو مزید بے چین کر سکتی ہے اور وہ محفوظ سرمایہ کاری کے متبادل ذرائع کی تلاش میں بڑھتے چلے جائیں گے، جن میں سونا ایک اہم ذریعہ ہے۔
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ اسی غیر یقینی صورتحال کی نشاندہی کر رہا ہے۔ سرمایہ کار ایسے خطرات کے پیش نظر سونے کی خریداری میں اضافہ بھی کر رہے ہیں، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت میں مسلسل تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔جہاں تک تیل کی قیمتوں کا تعلق ہے تو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ پہلے ایران کا اثر نسبتاً محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اب آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت اور وہاں سے گزرنے والے تیل کی بڑی مقدار نے صورتحال کو حساس بنا دیا ہے۔ چین کو کرنسی میں تیل کی فروخت اور بھارت کی ایران سے تیل و گیس کی خریداری نے بھی اس خطے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ تیل کی عالمی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر ایران کی جانب سے ٹول یا کنٹرول جیسے اقدامات سامنے آتے ہیں تو عالمی منڈی میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں کا پرانی سطح پر واپس آنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
یہ صورتحال عالمی جی ڈی پی پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو عالمی جی ڈی پی گروتھ میں نصف فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک پہلے ہی اپنے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود میں صرف کر رہے ہیں، جو ان کی معاشی مشکلات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ پاکستان بھی اسی دباؤ کا شکار ہے۔پاکستان ایک عرصے سے معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ ایسے میں آئی ایم ایف کی جانب سے اکثر یہی تجاویز دی جاتی ہیں کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے، سبسڈیز ختم کی جائیں اور ٹیکس بڑھائے جائیں۔ اس کیفیت کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ جب ایک بیمار معیشت کو خون کی ضرورت ہو تو اس سے مزید خون نکالنے کے مشورے دیے جا رہے ہوں۔ بدقسمتی سے حکومتیں مجبوری کے باعث ان سخت اقدامات پر عمل کرنے پر مجبور رہی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے نہ صرف ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک کو بھی افراطِ زر کے دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ عارضی جنگ بندی سے جو بہتری کے امکانات پیدا ہوئے تھے، وہ لبنان پر حملوں کے بعد دوبارہ غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات صرف 2026 تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ 2027 تک بھی جاری رہ سکتے ہیں۔ بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی بحالی میں ایک سے دو سال یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے لبنان پر حملوں نے کسی بھی ممکنہ جنگ بندی پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہی اعتماد عالمی منڈیوں کے استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کے کمزور ہونے سے سرمایہ کاری کا ماحول مزید غیر یقینی ہو سکتا ہے، جو دنیا کو ایک نئے معاشی بحران یا کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

