جس طریقے سے حقِ سند ایجاد یعنی پیٹنٹ، تجارتی علامت یعنی ٹریڈ مارک، کاپی رائٹ، برانڈ، حقِ تصنیف یا تالیف کو انٹیلیکچول پراپرٹی مانا جاتا ہے، اسی طریقے سے سافٹ وئیر کو بھی عالمی سائنسی و قانونی دنیا میں ایک قسم کی انٹیلیکچول پراپرٹی یعنی فکری ملکیت مانا جاتا ہے جو کہ کمپیوٹر پروگرامرز و سافٹ وئیر انجینئرز کی تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت وجود میں آتے ہیں۔ سافٹ وئیر بنانے میں کمپیوٹر پروگرامرز کی صرف اور صرف تخلیقی صلاحیتوں کا دخل ہوتا ہے۔
سافٹ وئیر (کمپیوٹر کوڈ) کو کاپی رائٹ کی مدد سے پوری دنیا میں قانونی طور پر محفوظ کیا جاتا ہے اور اسے انٹیلیکچول پراپرٹی یعنی فکری ملکیت مانا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں سافٹ وئیر کی خرید و فروخت عمومی طور پر بطور حقوق کے ہی ہوتی ہیں۔ سافٹ وئیر مادی نہیں ہوتا اور اس کا کوئی حسی وجود نہیں ہوتا۔ سافٹ وئیر معنوی ہوتا ہے، تخیلاتی ہوتا ہے اور اس کو حقیقی اشیا پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ سافٹ وئیر کو ڈیجیٹل یا ورچول اس وجہ سے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مجازی ہوتے ہیں، حقیقی وجود نہیں رکھتے۔
ذیل میں راقم کچھ معتبر و مستند سائنسی و قانونی حوالہ جات پیش کرتا ہے جو کہ سافٹ وئیر کو انٹیلیکچول پراپرٹی ثابت کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ سافٹ وئیر کو بطور کاپی رائٹ قانونی طور پر محفوظ کیا جاتا ہے۔ تالس گروپ، جو کہ ایک فرنچ ملٹی نیشنل کمپنی ہے وہ سافٹ وئیر کے بارے میں تحریر کرتی ہے کہ سافٹ ویئر انٹلیکچوئل پراپرٹی (سافٹ ویئر آئی پی) کوئی بھی کمپیوٹر کوڈ، پروگرام، یا ایپلی کیشن ہے جسے کاپی کرنے، چوری کرنے، پووائزننگ، یا مالک کی طرف سے اجازت نہ دینے والے دوسرے استعمال کے خلاف قانون کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔ سافٹ ویئر آئی پی اس کمپنی سے تعلق رکھتا ہے جس نے یا تو سافٹ ویئر بنایا یا اس کے حقوق خریدے۔ کسی اور کے غیر مجاز استعمال کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔
کیا سافٹ ویئر کو ذہنی، فکری، تخلیقی ملکیت سمجھا جاتا ہے؟ جی ہاں! ذہن کے ذریعہ تخلیق کردہ کسی بھی قسم کی غیر حسی ملکیت، جیسے ایجادات، آرٹ اور ادب کے کام، ڈیزائن، نام، یا تصاویر کو دانشورانہ (ذہنی، فکری یا تخلیقی) ملکیت سمجھا جا سکتا ہے۔ سافٹ ویئر اس زمرے میں آتا ہے۔ امریکا کا پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس سافٹ وئیر کے متعلق یہ تحریر کرتا ہے کہ کاپی رائٹ وفاقی طور پر عطا کردہ پراپرٹی کا حق ہے جو حقوق کے حاملین کو ان کی تصنیف کے اصل کاموں کے بعض غیر مجاز استعمال سے بچاتا ہے۔ تحفظ کے لیے سبجیکٹ میٹر کو کاپی رائٹ ایکٹ 1976میں بیان کیا گیا ہے۔ کاپی رائٹ کے قابل کاموں میں ادبی، ڈرامائی، موسیقی، اور فنکارانہ کام جیسے کتابیں، ڈرامے، موسیقی، دھن، پینٹنگز، مجسمے، ویڈیو گیمز، فلمیں، سانڈ ریکارڈنگ، اور سافٹ ویئر شامل ہیں۔
دنیا کے مختلف محققین اور سائنسدان سافٹ وئیر کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ سافٹ ویئر کا تعین کمپنی کے انٹلیکچوئل پراپرٹی (آئی پی) پورٹ فولیو کے اثاثے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ کاپی رائٹ کا قانون تصنیف کے کاموں کی حفاظت کرتا ہے، جن میں ادبی کام شامل ہیں۔ ناول، غیر افسانوی نثر، شاعری، اخباری مضامین اور اخبارات، میگزین کے مضامین اور رسالے، کمپیوٹر سافٹ ویئر، سافٹ ویئر دستاویزات اور مینول، تربیتی کتابچے، دیگر دستورالعمل، کیٹلاگ، بروشر، اشتہارات (متن) اور تالیفات جیسے کاروباری ڈائریکٹریز۔
فکری ملکیت کیا ہے؟
فکری ملکیت کسی کی تخلیقی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ فکری ملکیت ہمارے چاروں طرف ہیں۔ یہ معجزاتی ادویات، ایک نیا کمپیوٹر گیم، ایک فلم، یا زیادہ ایندھن کی بچت والی کار کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ فکری ملکیت کے قانون کے تین اہم شعبے ہیں: ٹریڈ مارک، پیٹنٹ، اور کاپی رائٹ۔ کاپی رائٹ قانون کے ذریعہ تصنیف کے اصل کاموں کے لئے دیا جاتا ہے جو اظہار کے ایک ٹھوس ذریعہ میں طے شدہ ہیں۔ کاپی رائٹ اصل کاموں جیسے ادبی، ڈرامائی، موسیقی اور فنکارانہ کاموں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ شاعری، ناول، فلمیں، گانے اور کمپیوٹر سافٹ ویئر چند مثالیں ہیں جنہیں کاپی رائٹ کے ذریعے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
آئرلینڈ کا ڈیپارٹمنٹ آف انٹرپرائز، ٹورزم، اور ایپلائیمنٹ سافٹ وئیر کے متعلق یہ تحریر کرتا ہے کہ انٹلیکچوئل پراپرٹی سے مراد ذہن کی تخلیقات ہیں، جیسے ایجادات (پیٹنٹ)؛ ادبی اور فنکارانہ کام (کاپی رائٹ)؛ نئی مصنوعات کے ڈیزائن (صنعتی ڈیزائن)؛ اور برانڈ کے نام، علامتیں، یا لوگوز جو مصنوعات اور خدمات کو ایک انڈرٹیکنگ سے دوسرے سے الگ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں (ٹریڈ مارک)رسمی انٹیلیکچول پراپرٹی حقوق میں پیٹنٹس، تجارتی نشانات (ٹریڈ مارک) اور صنعتی ڈیزائن شامل ہیں جنہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ رجسٹرڈ ہو سکتے ہیں۔ کاپی رائٹ دماغ کی تخلیقات سے متعلق ایک مختلف قسم کی دانشورانہ (فکری) ملکیت ہے اور اسے روزمرہ کی زندگی میں تخلیقی کاموں جیسے کتابوں، فلموں، موسیقی، آرٹ اور سافٹ ویئر کے ساتھ ساتھ کاروں، کمپیوٹرز اور ادویات جیسی دنیاوی چیزوں میں دیکھا جاتا ہے۔
کینیڈا کی حکومت سافٹ وئیر کے حقوق سے متعلق یہ تحریر کرتی ہے کہ کاپی رائٹ اصل ادبی اور فنکارانہ کاموں کی حفاظت کر سکتا ہے، جن میں شامل ہیں سافٹ ویئر پروگرام، ڈیٹا اکٹھا کرنا، ویب سائٹ کا متن اور ویب سائٹس، اور تصاویر یا گرافکس۔ کمپیوٹر سافٹ ویئر کو ایک ادبی کام سمجھا جاتا ہے جو کاپی رائٹ کے تابع ہے۔ کاپی رائٹ دوسروں کو آپ کے پروگراموں کی کاپیاں بنانے سے روک سکتا ہے، لیکن دوسرے پھر بھی اپنے پروگرام لکھ سکتے ہیں اور ان کی حفاظت کر سکتے ہیں جو مختلف بنیادی کوڈ کے ذریعے آپ کی طرح ہی کریں گے۔ نوٹ کریں کہ وہ ڈیٹا جو اصل مجموعہ کا حصہ نہیں ہے اسے محض حقائق کے طور پر شمار کیا جا سکتا ہے، اور آپ حقائق کاپی رائٹ نہیں کر سکتے۔
امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی سافٹ وئیر کے متعلق یہ تحریر کرتی ہے کہ اصل سافٹ ویئر کوڈ کاپی رائٹ شدہ دانشورانہ املاک کے تحت آتا ہے۔ عام طور پر، سافٹ ویئر کے کاپی رائٹ کے مالک کو سافٹ ویئر کو دوبارہ تیار کرنے (کاپی) کرنے، مشتق کام تیار کرنے، فروخت کے ذریعے کاپیاں تقسیم کرنے کا خصوصی حق حاصل ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں، سافٹ ویئر کی تقسیم اور لائسنسنگ کو کئی طریقوں سے سنبھالا جا سکتا ہے، اور بہت زیادہ انحصار تخلیق کاروں کے ان پٹ پر ہوتا ہے۔ برطانیہ کی کمپیوٹر سوسائٹی یہ تحریر کرتی ہے کہ جب آپ سافٹ ویئر خریدتے ہیں، جیسے انٹرنیٹ سیکیورٹی، آپ بنیادی طور پر لائسنسنگ معاہدے کی شرائط کے ساتھ مشروط سافٹ ویئر استعمال کرنے کا لائسنس خرید رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جیسے آپ سافٹ ویئر خریدتے ہیں، آپ اپنے سافٹ ویئر کو لائسنس دے سکتے ہیں۔
انٹیلکچول پراپرٹی آفس آف آئرلینڈ (حکومتِ آئرلینڈ کا قومی ادارہ) یہ تحریر کرتا ہے کہ انٹلیکچوئل پراپرٹی ایک جائیداد کا حق ہے جو قانون میں قائم کیا گیا ہے تاکہ دوسروں کو اجازت کے بغیر آپ کی فکری تخلیقات کو استعمال کرنے سے روکا جا سکے۔ آئی پی کے حقوق آپ کو اپنے اختراعی اور تخلیقی خیالات کو تجارتی بنانے اور ان کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتے ہیں۔ آئی پی ان حقوق پر مشتمل ہے: پیٹنٹ، کاپی رائٹ، ٹریڈ مارکس، اور ڈیزائن۔
کاپی رائٹ میں یہ چیزیں شامل ہیں: آڈیو ویزول کام، تصاویر، گرافک، آرکیٹیکچر، ڈیٹا بیس، سافٹ وئیر، ڈیزائن، لٹریچر، ناول، نظم، ڈرامے، میوزک اور ویڈیو، اور ڈرامے کے کام شامل ہیں۔ آئرلینڈ کا انٹیلکچول پراپرٹی آفس یہ تحریر کرتا ہے کہ کاپی رائٹ ایک قانونی اصطلاح ہے، جوکہ مصنفین/ تخلیق کاروں کے کاموں کی کچھ اقسام کو دیے گئے حقوق کی وضاحت کرتی ہے۔ کاپی رائٹ کا تحفظ درج ذیل کاموں تک پھیلا ہوا ہے: ٭اصل ادبی، ڈرامائی، موسیقی یا فنکارانہ کام، ٭آواز کی ریکارڈنگ، فلمیں، ٭نشریات، کیبل پروگرام، ٭شائع شدہ ایڈیشنوں کا ٹائپوگرافیکل انتظام، ٭کمپیوٹر پروگرامز، ٭اصل ڈیٹا بیس۔ یورپی یونین کے قوانین میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک کو کاپی رائٹ کے ذریعے کمپیوٹر پروگراموں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ (جاری ہے)
دوسری قسط:
سافٹ وئیر کی تعریف، ماہیت و حقیقت
سافٹ وئیر کی ایک سادہ تعریف (آئی بی ایم کے مطابق) یہ ہے کہ
سافٹ وئیر ہدایات یا کمپیوٹر پروگرامز کا مجموعہ ہوتا ہے جو کہ کمپیوٹر کو بتاتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔ سائنسدان اور محققین کمپیوٹر پروگرامز کی تعریف اس طریقے سے کرتے ہیں کہ کمپیوٹر پروگرام، کمپیوٹر کو دی گئی ہدایات کا نام ہے۔ آپ کمپیوٹر کو پروگرام کے ذریعے بتاتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ پروگراموں کے بغیر، ایک عام مقصد کا کمپیوٹر جیسے پرسنل کمپیوٹر ایک خالی مشین ہے۔ کمپیوٹر انسانی زبانیں اچھی طرح نہیں سمجھتے۔ لہٰذا، آپ کو کمپیوٹر کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے کمپیوٹر کی پروگرامنگ لینگویج استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سائنسدان اور محققین کمپیوٹر سافٹ وئیر کی تعریف اس طریقے سے بھی کرتے ہیں۔ کمپیوٹر سافٹ ویئر، جسے کمپیوٹر پروگرام یا ایپلی کیشنز بھی کہا جاتا ہے، ہدایات کے سیٹ ہیں جو پروگرامرز کے ذریعہ لکھے جاتے ہیں۔ برٹانیکا انسائیکلوپیڈیا میں سافٹ وئیر کی تعریف اس طریقے سے کی گئی ہے کہسافٹ ویئر، ہدایات جو کمپیوٹر کو بتاتی ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ مائیکروسافٹ، سافٹ وئیر کی تعریف اس طریقے سے کرتا ہے کہ سافٹ ویئر سے مراد وہ پروگرام، ڈیٹا اور ہدایات ہیں جو کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرانک آلات کو مخصوص کام انجام دینے کے قابل بناتے ہیں۔ سافٹ ویئر (یعنی وہ ہدایات جو آپ کمپیوٹرز کو کام کرنے اور فیصلے کرنے کے لیے لکھتے ہیں) جو کمپیوٹرز (جسے اکثر ہارڈ ویئر کہا جاتا ہے) کو کنٹرول کرتا ہے۔ ہدایات کا مجموعہ جو ہارڈ ویئر کو بتاتا ہے کہ کسی خاص کام کو کیسے انجام دینا ہے اسے سافٹ ویئر کہتے ہیں۔ ہارڈ ویئر کے برعکس، ہم کسی سافٹ ویئر کو دیکھ یا چھو نہیں سکتے۔
مندرجہ بالا سائنسی معتبر و مستند حوالہ جات سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ سافٹ وئیر کی ماہیت و حقیقت کیا ہے یعنی یہ کہ سافٹ وئیر کمپیوٹر کو دی گئی ہدایات کا مجموعہ ہوتا ہے۔
کمپیوٹر پروگرامر محنت کرتا ہے، سوچتا ہے، اپنی دماغی صلاحیتیں لگاتا ہے اور پھر وہ کمپیوٹر کو ایسی ہدایات جاری کرتا ہے جس سے کمپیوٹر کوئی فائدہ مند کام انجام دیتا ہے اور اسی فائدہ مند کام کو سافٹ وئیر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
جو سافٹ وئیر تحریر کرنے والا شخص جتنا ماہر ہوگا، اتنی ہی جلدی اور اچھا سافٹ وئیر کوڈ وہ تحریر کرے گا۔ اسی وجہ سے بعض سافٹ وئیر ہاوسز میں کمپیوٹر پروگرامرز کو ان کی تنخواہ اس حساب سے دی جاتی ہے کہ وہ کتنے ہزار لائنوں کا کوڈ تحریر کرتے ہیں، کتنی جلدی تحریر کرتے ہیں، کمپیوٹر کوڈ کتنا مختصر و جامع لکھتے ہیں اور کتنا تخلیقی لکھتے ہیں۔ اسی نسبت سے اگر ایک سافٹ وئیر تحریر کرنے والا اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتا ہے تو وہ ایسا سافٹ وئیر بھی تحریر کرسکتا ہے جو کہ بہت زیادہ لوگوں میں مشہور ہوجائے۔ خلاصہ یہ کہ سافٹ وئیر بنانے والا اپنی دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر کمپیوٹر سافٹ وئیر تحریر کرتا ہے اور یہ خالصتا تخلیقی کام تصورکیا جاتا ہے۔
واٹس اپ کا سافٹ وئیر ایک رابطہ کرنے کا سافٹ وئیر ہے۔ اس کو بنانے کے لیے کمپیوٹر پروگرامز کی ایک ٹیم نے ہزاروں کی تعداد میں ہدایات و پروگرامز لکھے ہیں اور ان ہدایات و پروگرامز کے مجموعے کو جب اکھٹا چلایا جاتا ہے تو اس سے واٹس اپ کا سافٹ وئیر وجود میں آتا ہے۔ اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ پہلے کمپیوٹر پروگرامز نے یہ ہدایات لکھی ہوں گی کہ جیسے ہی کوئی واٹس اپ کے آئیکن (علامت یا صورت) کو کمپیوٹر یا موبائل میں کلک کرے تو سب سے پہلے اس کے اسکرین کے سامنے ہرے رنگ کی اسکرین آجائے اور اس میں اس کو مختلف ناموں کی فہرست نظر آئے اور مختلف بٹن نظر آئیں۔ پھر جب وہ کسی شخص کے رابطہ کے بٹن پر کلک کرے تو اس شخص سے اس کا رابطہ ہوجائے وغیرہ۔ اس طریقے سے ہزاروں لاکھوں لائنوں کا کوڈ (ہدایات یا پروگرامز) کو اکھٹا کرکے سافٹ وئیر بنایا جاتا ہے۔
مختلف اقسام کے سافٹ وئیر ہوتے ہیں مثلاً سسٹم سافٹ وئیر، پروگرامنگ سافٹ وئیر، ایپلی کیشن سافٹ وئیر اور ایمبیڈڈ سافٹ وئیر۔ سافٹ وئیر بنانے میں کئی مراحل شامل ہوتے ہیں جس میں سافٹ وئیر کی پلاننگ، ڈیزائن، نفاذ یا تکمیل، اور اس کی نگہداشت وغیرہ شامل ہیں۔
سافٹ وئیر بنانے میں جس چیز کا دخل ہوسکتا ہے، یہ اس سافٹ وئیر کی ساخت اور قسم پر انحصار کرتا ہے۔ جب ہم ایک عام سافٹ وئیر کی بات کرتے ہیں تو اس کے بنانے میں جو چیزیں شامل ہوتی ہیں وہ صرف کمپیوٹر ہدایات یا کمپیوٹر پروگرامز ہوتے ہیں۔ لازمی بات ہے کہ یہ کمپیوٹر ہدایات یا کمپیوٹر پروگرامز کس طریقے سے تحریر کیے جائیں گے اس کو سیکھنا پڑتا ہے۔ سافٹ وئیر کو چلانے کا انحصار مختلف سافٹ وئیر مثلاً لائبریریز، آپریٹنگ سسٹم، اے پی آئی، پروگرامنگ لینگویجز، فریم ورک، ڈیٹا وغیرہ پر ہوتا ہے۔ نیز سافٹ وئیر کو چلانے کا انحصار ہارڈ وئیر اور کس ماحول (آپریٹنگ سسٹم وغیرہ) میں وہ چلے گا، اس پر بھی ہوتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایک عام سادہ سے سافٹ وئیر بنانے میں صرف کمپیوٹر ہدایات یا کمپیوٹر پروگرامز کا دخل ہوتا ہے۔
عمومی طور پر کسی ڈیجیٹل چیز کے ڈیجیٹل وجود کا تعین اس کے قابلِ انتفاع ہونے سے ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً ہم ایک لفظ ج کمپیوٹر پر تحریر کریں، یقینا یہ لفظ کمپیوٹر میں ڈیجیٹل طور پر لکھا گیا ہے مگر اس لفظ کا ڈیجیٹل وجود تسلیم نہیں کیا جائے گا اس معنی میں کہ یہ محض ایک لفظ ہے اور اس لفظ ج سے کوئی انتفاع حاصل نہیں کیا جاسکتا لہٰذا یہ لفظ قیمتی یعنی مال نہیں کہلایا جائے گا اور کوئی اس ڈیجیٹل لفظ ج کی خریدوفروخت بھی نہیں کرے گا اور یہ لفظ ج اپنی موجودہ صورت میں سافٹ وئیر نہیں کہلایا جائے گا۔ اب مختلف الفاظ کو اس طریقے سے یکجا کیا جائے کہ اس سے ایسا سافٹ وئیر وجود میں آئے جس سے کوئی فائدہ اٹھایا جاسکے تو پھر ہمیں یہ کہیں گے کہ یہ سافٹ وئیر ہے اور اس سافٹ وئیر کا ڈیجیٹل وجود ہے۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ سافٹ وئیر کے ڈیجیٹل وجود کو حقیقی وجود اور حسی وجود پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی سافٹ وئیر کمپیوٹر پروگرامر کی ذہن سے تخلیق کردہ ہدایات ہیں اور ان کو بطور حق کاپی رائٹ کے تحت خریدوفروخت کیا جاتا ہے۔ سافٹ وئیر بجلی کی طرح نہیں ہے کہ اس کو ہاتھ لگا کر محسوس کیا جاسکے۔ سافٹ وئیر کو کمپیوٹر پروگرام کی صلاحیت کی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ کمپیوٹر پروگرام کی دماغی صلاحیتوں پر منحصر کرتا ہے اور سافٹ وئیر کوئی مال نہیں ہے۔ کمپیوٹر پروگرامر کی تخلیقی صلاحیتوں کو سافٹ وئیر کہا جاسکتا ہے۔ (جاری ہے)

