منشیات فروشی کےخلاف سخت قانون سازی کی جائے

میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی میں تھانہ نصیر آباد کی پولیس نے کامیاب کارروائی کے بعد دو منشیات فروش گرفتار کر لیے۔ گرفتار شدگان سے چار کلو گرام سے زائد آئس برآمد ہو ئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزم نوید سے تین کلو 100 گرام اور ملزم اشتیاق سے ایک کلو 80 گرام آئس برآمد ہوئی۔ یہ دونوں ملزمان تعلیمی اداروں کے طلبہ کو آئس سپلائی کرتے تھے۔ ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور خصوصاً چین آف سپلائی پر کام ہو رہا ہے تاکہ انسانیت کے دشمن اس پورے نیٹ ورک کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ جناب محسن نقوی نے گزشتہ سال نیشنل ڈرگ سروے کی منظوری دی تھی۔ 11 سال بعد ہونے والے اس سروے کے تحت ملک بھر میں منشیات استعمال کرنے والوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جانا تھا۔ وزیرِ داخلہ 15 دن کے اندر سروے سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دینے اور گھروں کے علاوہ تعلیمی اداروں، کچی آبادیوں اور دیگر مقامات سے بھی ڈیٹا لینے کی ہدایت کی تھی۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس سروے کا کیا بنا۔ یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ قانون کو اپنی رکھیل بنانے والا ڈرگ مافیا اس وقت ملکِ عزیز میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ چکا ہے۔ اس نے بہت حد تک ہماری سیاست میں بھی رسوخ حاصل کر لیا ہے۔ سیاسی حکومتیں اس مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہیں کہ بالواسطہ طور پر یہ مافیا انہیں کسی نہ کسی طور فنڈنگ کر کے اپنے تحفظ کا بندوبست کر کے رکھتا ہے۔ اب اس مافیا نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو اپنی لپیٹ میں لے کر ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ شروع کر دیا ہے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے بعد اب اس مافیا نے اسکولوں کو بھی ٹارگٹ کرلیا ہے۔ اس طرف حکومت کو پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسل کو بچایا جا سکے۔
سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے دور میں پنجاب حکومت نے نوجوان نسل اور خصوصاً طلبا میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کی فروخت کو روکنے کے لیے ایک نیا محکمہ اور صوبے بھر میں خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مجوّزہ محکمے کا نام ”کنٹرول آف نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ“ تجویز کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں قانون سازی کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ مجوزہ قانون میں منشیات کی تیاری، ترسیل، فروخت اور معاونت پر سخت سزائیں اور بھاری جرمانے تجویز کیے گئے تھے۔ ایوانِ وزیرِاعلیٰ میں روزانہ کی بنیاد پر میٹنگز چل رہی تھیں اور اس قانون کو حتمی شکل دی جا رہی تھی کہ پرویز الہٰی کو اپنی حکومت عمران خان کے ایک غلط سیاسی فیصلے کی بھینٹ چڑھانا پڑ گئی۔ مجوزہ قانون میں نوجوانوں کے اعصاب اور رویّوں پر منفی اثر ڈالنے والی متعدد اشیاءکو نشہ آور لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ تعلیمی ادارے کی حدود میں منشیات کی فروخت اور استعمال ثابت ہونے پر اس ادارے کی انتظامیہ کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ منشیات کی روک تھام کے لیے سپیشل انٹیلی جنس ونگ کا قیام جبکہ منشیات کے عادی افراد کی رجسٹریشن اور ان کے علاج کے لیے اتھارٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔
دیکھا جائے تو پنجاب کی سابق حکومت کا تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے کا یہ اقدام نہایت قابلِ ستائش تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا مسئلہ گمبھیر صورت اختیار کر چکا ہے۔ دولت کے لالچ میں مفاد پرست عناصر صرف نوجوانوں ہی کے نہیں بلکہ ملک اور قوم کے بھی مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ ایک منظم سازش کے تحت قوم کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے اس کے نوجوانوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کیا جا رہا ہے۔ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ والدین بڑی امیدوں اور امنگوں کے ساتھ آنکھوں میں جانے کیا کیا سپنے سجائے اپنے بچوں کو بڑے شہروں کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے بھیجتے ہیں مگر یہ نوجوان وہاں ڈرگ مافیا کے ہتھے چڑھ کر اپنا مستقبل برباد اور والدین کے خواب چکنا چور کر دیتے ہیں۔
حکومتِ پنجاب قوم کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے والے ان درندہ صفت عناصر کی سرکوبی کے لیے پُر عزم تھی۔ نئے قانون کے تحت تجویز دی گئی تھی کہ جن جرائم کی سزا دو سال تک ہوگی اس کے لےے بنائی گئی خصوصی عدالت میں درجہ اوّل کا مجسٹریٹ ہوگا۔ مجوزہ قانون میں  57 مختلف قسم کی منشیات اور نشہ آور اشیاء کو شامل کیا گیا تھا۔ تعلیمی اداروں کے گرد 500 میٹر کی حدود میں منشیات فروشی پر کم سے کم سات سال اور زیادہ سے زیادہ چودہ سال قید کی سزا تجویز کی گئی تھی۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ منشیات کے عادی کے علاج کا پہلی دفعہ خرچہ حکومت برداشت کرے گی۔ نئے قانون کے تحت نارکوٹکس کنٹرول تھانے قائم کیے جانے تھے۔ تمام ٹیلی کام اور انٹرنیٹ کمپنیوں کو نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو اپنے سسٹم تک رسائی دینے کا پابند بنایا گیا تھا۔ ایسا نہ کرنے یا انکار کی صورت میں تین سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی تجویز تھی۔
دیکھا جائے تو پرویز الٰہی کی حکومت نے نوجوانوں اور قوم کے مستقبل کو بچانے کے لیے ایک بہترین عملی کام کا آغاز کیا تھا جو بوجوہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ موجودہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف حقیقی معنوں میں میاں شہباز شریف سے بڑھ کر نہیں تو ہم پلہ ضرور ثابت ہوئی ہیں۔ اگر وہ سابقہ حکومت کے اس منصوبے کو اڈاپٹ کر لیں تو یہ صوبے کے لیے ایسی گراں قدر خدمت ہوگی جو انہیں امر کر دے گی۔ صوبہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد سعید بھی تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے استعمال پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور ڈرگ مافیا کی بیخ کنی کے لیے پرعزم ہیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور اپنے صوبے سے منشیات فروشوں اور منشیات فروشی کے خاتمے کا ببانگِ دہل اعلان کر چکے ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سے بھی اسی قسم کی توقع رکھنی چاہیے۔ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے اور ملک و قوم کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے والے منشیات فروش کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ان کے لیے تو سرِ عام پھانسی کی سزا ہونی چاہیے۔ یہ ظالم روزانہ کی بنیاد پر کتنے والدین کی امیدوں کے مراکز چھین رہے ہیں، نوجوان سہاگنوں کو بیوہ اور ننھے معصوم بچوں کو یتیم کر رہے ہیں۔
مجوزہ قانون میں یہ شق ضرور رکھی جانی چاہیے کہ منشیات فروشی کے کیس کا فیصلہ تیس دن کے اندر کر دیا جائے گا اور یہ جرم ناقابلِ ضمانت ہوگا یا تو ملزم اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کر کے تیس دن میں جیل سے باہر آ جائے گا یا پھر جرم ثابت ہونے پر سزا بھگتے گا۔ قانونی موشگافیاں اور طوالت سے چالاک مجرم اکثر فائدہ اٹھا جاتے ہیں۔