بھارتی بیانیے کی شکست و ریخت، نئے تزویراتی امکانات

اطلاعات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اوربات چیت پر یقین رکھتاہے۔ ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے طے کردہ روٹ میپ اس وقت بھی کام کررہاہے اور دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا عمل اسی مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ راستے کے مطابق جاری ہے۔ دوسری طرف دفترِ خارجہ پاکستان کے ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان آبی جارحیت سمیت کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے بالکل تیار ہے۔ کوئی بھی ملک پاکستان کاپانی بند کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا کیوں کہ پانی کا معاملہ قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ہر مثبت عالمی ثالثی کردار کو خوش آمدید کہے گا کیوں کہ پاکستان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں تاہم بھارت کے بعض معاملات بین الاقوامی اصولوں اور سفارتی آداب سے متصادم ہیں اس لیے وہ کسی عالمی ثالثی کے لیے ہچکچائے گا۔

پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان بظاہریقینی تصادم کو روکنے کے لیے جو مصالحانہ کردار ادا کیا ہے وہ عالمی سفارتی تاریخ کا ایک معرکة الآراباب بن چکا ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر بہترین ساکھ بنانے کا یہ موقع اس مضبوط کردار کی وجہ سے میسر آیا جوکہ گزشتہ برس مئی کے معرکۂ حق میں شان دار کامیابی کی بدولت دنیا کے اجاگر ہوا تھا۔ معرکہ ٔ حق میں بھارت کو چاروں شانے چِت کرنے سے قبل عالمی سطح پاکستان کو ایک کمزور ریاست تصور کیا جارہا تھا جو کہ بیک وقت دہشت گردی، دراندازی، انارکی، سیاسی انتشار اور شدید معاشی بحران سے نبرد آزما تھی۔ یہ وہ دور تھا جب آر ایس ایس کی رہنمائی اور انتہا پسند مودی حکومت کی قیادت میں بھارت نے پاکستان کے خلا ف ایک طرف تو پراکسی وار شروع کررکھی تھی اوروہ ہائبرڈ وار کے ذریعے پاکستان کو شدید انتشار و خلفشار اور تباہی کی جانب دھکیلنے میں مصروف تھاتو دوسری جانب پاکستان ہی کو دہشت گردی پھیلانے والی ریاست قرار دلوانے کے لیے عالمی سطح پر نہایت زہریلی اور منفی پروپیگنڈا جنگ شروع تھی۔ مودی جو خود کو ”وشووگرو”کی حیثیت سے پیش کررہے تھے اور ان کی دہشت گرد جماعت بھارت کو علاقائی سیکورٹی محافظ کے طورپر تسلیم کیے جانے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ ان نازک ترین حالات میں پاکستان نے نہایت صبر وتحمل کے ساتھ درست موقع پرقرارواقعی وار کرنے کا انتظار کیا۔ مودی جی کے زعمِ برتری، بالادستی کے جنون اور پاکستان کو حقیر سمجھنے کی نفسیاتی بیماری نے انھیں ایک نیا ”معمول”قائم کرنے پر ابھارا جس کے بعد ان کے خیال میں بھارت کی دہشت خطے پر ہمیشہ کے قائم ہوسکتی تھی۔ پاکستان کے خلاف” آپریشن سندور” بھارتی عسکری دماغ کی وہ پرواز تھی جو کہ اڑتے ساتھ ہی دم توڑ گئی۔ پاکستانی افواج نے بھارت کو چند ہی گھنٹوں کی فضائی اور زمینی جنگ میں ایسی عبرت ناک حالت تک پہنچا دیا کہ جس کے بعد بھارتی قیادت امریکا کے پاؤں پکڑنے پر مجبور ہوگئی۔ پاکستان نے امریکی درخواست کا احترام کرتے ہوئے جنگ روک دی۔

ہونا یہ چاہیے تھا کہ مودی حکومت اپنی غلطی کو تسلیم کرتی اور امریکا اور پاکستان دونوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے متنازع امور پر بات چیت کے راستے کو ترجیح دی جاتی لیکن جنگ میں شکست کا اعتراف کرنے کی بجائے مودی حکومت نے جھوٹ، دھوکے، منافقت، عیاری، فتنہ انگیزی اور شرو فساد کا راستہ اختیار کیا جس میں افغانستان اس کا اتحادی ثابت ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت سے ناراضی کی بنیادی وجہ یہی منافقانہ رویہ ہے جو کہ امریکا کی ساکھ کے لیے بھی مفید ثابت نہیں ہوسکتا۔ میدانِ جنگ میں شکست کھانے کے بعد بھی مودی سرکار نے عقل کے ناخن لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس نے پاکستان کے خلاف ہائبر ڈ جنگ کو مزید تیز کردیاہے جس میں اسرائیل کی مدد سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی جارہی ہے۔ فتنہ ٔ ہندوستان، فتنہ ٔ خوارج، آزاد کشمیر میں حقوق کے نام پر پاکستان مخالف مہم، قبائلی علاقوں میں مذہب کے نام پرنوجوانوں کو پاکستان کے خلاف ورغلانے کی کوششیں جس میں بعض مذہبی کردار بھی افسوس ناک طورپر شریک ہیں جبکہ منشیات اور دیگر انواع کی اسمگلنگ، زہریلے پروپیگنڈے اور فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلا کر پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔

ان تمام ناپاک سازشوں کے باوجود پاکستان نے اپنے مضبوط و مستحکم عسکری کرداراور سفارتی مہارتوں کی مدد سے ایک صلح جُو، امن پسند اور عالمی سلامتی پر یقینی رکھنے والی ریاست کا تاثر حاصل کرلیا ہے جوکہ درحقیقت بھارتی بیانیے کی شکست ہے۔ پاکستان کو توڑنے اور نیچا دکھانے کی دن رات کوششوں میں مصروف مودی حکومت جو کہ دنیا کی آنکھوں میں ”شائننگ انڈیا ”کی دھول جھونکنے میں مصروف تھی، اب اپنے کرتوت ظاہر ہونے کی وجہ سے گویا ننگی ہوچکی ہے۔ مکر و فریب کا لبادہ اترنے کے بعد رونما ہونے والے فطری ردعمل کے نتائج بہت جلد سامنے آسکتے ہیں۔ خود مودی جی کے متعلق ”رام مندر فنڈ”سے اربوں روپے فراڈ کی خبریں گردش میں ہیں۔ مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف انسانی ردعمل مختلف ریاستوں میں بغاوت کی صورت ظاہر ہورہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف روا رکھی جانے والی ریاستی پالیسیوں پر انسانیت پسند حلقوں میں آواز بلند ہورہی ہے۔ کرپشن، بدعنوانی، دھرم سیوا کی آڑ میں کمزوروں کے شدید استحصال اور جبر نے بھارتی معیشت اور سماج دونوں کو تباہی کے دھانے پر پہنچادیاہے۔ ان حالات میں بھارت ایک ناکام ریاست بن چکی ہے جو کہ اپنا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔ اس کے باوجود اگر بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کسی جارحیت کا ارتکاب ہوا تو اس کے نتائج یقینا بھارتی ریاست کے لیے ناقابلِ برداشت ہوں گے۔ پاکستان عالمی امن اور انسانیت کی سلامتی کا داعی ہے لیکن وہ نہ تو اپنے وجود کے لیے کسی خطرے کو برداشت کر ے گا اور نہ ہی اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا کرے گا۔ اگر بھارت اپنی خیر چاہتاہے اور علاقائی امن کی خواہش رکھتاہے تو اسے پاکستان کے خلاف پراکسی وار بند کرنا ہوگی۔ جہاں تک افغانستان سے ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کا تعلق ہے تووہ بھی بھارتی اور اسرائیلی تعاون کے سرپر چل رہی ہے۔ بھارت کے پیچھے ہٹتے ہی افغان قیادت کو اچانک امن کی اہمیت سمجھ آجائے گی۔ عالمی سطح پر نمودار ہونے والے نئے تزویراتی امکانات مستقبل کے خدو خال کی نشان دہی کررہے ہیں۔