اس وقت عالمی منظر نامے پر امریکا اور ایران کی کشمکش چھائی ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کبھی دھمکیوں اور کبھی مصالحانہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے تاہم اس اس سارے ھنگامے کے شور میں ایسا لگتا ہے کہ فلسطین کا بنیادی مسئلہ دب کر رہ گیا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صہیونی بھیڑیے نیتن یاہو نے بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام خاموشی سے جاری رکھا ہوا ہے،سخت گرمی کے موسم میں خیمہ بستیوں کے اندر زندگی کی جنگ لڑنے والے فلسطینیوں کو اب ان کے خیموں میں بھی امان نصیب نہیں ہے اور اسرائیلی طیارے روزانہ کی بنیاد پر خیمہ بستیوں پر وحشیانہ بمباری کرکے تباہی پھیلارہے ہیں اور ایک ایک حملے میں درجنوں بے گناہ اور نہتے فلسطینیوں کو شہید کیا جارہا ہے۔
چنانچہ تازہ اطلاعات کے مطابق پیر کے روز غزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلاح میں اسرائیلی فضائی حملے میں 4 شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے، شہداء میں تین بچے شامل تھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق قابض افواج نے خان یونس کے شمال مشرق میں کم از کم چار عمارتوں کو دھماکوں سے اڑایا ،اس کے ساتھ ساتھ شہر کے مشرقی حصوں میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ قابض فورسز نے نصیرات اور بریج کیمپوں کے شمال میں اور وادیِ غزہ کے پل کے قریب بھی شدید فائرنگ کی۔ علاوہ ازیںقابض اسرائیلی افواج نے پیر کی صبح مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد فلسطینی شہریوں جن میں محنت کش بھی شامل ہیں کو گرفتار کر لیا۔دریں اثناء درجنوں انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے قابض اسرائیل کے زیر کنٹرول باب المغاربہ کے راستے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوا بول دیا۔ صبح کے اوقات میں 99 یہودی آباد کاروں نے قابض فوج اور ان کی خصوصی مسلح فورسز کی سیکورٹی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دراندازی کی اور گروہوں کی شکل میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں گھوم پھر کر اشتعال انگیز کارروائیاں کیں اور تلمودی رسومات ادا کیں۔
یہ صرف ایک دن کے واقعات ہیں۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق 10 اکتوبر 2025ء کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 1041 جبکہ زخمیوں کی تعداد 3372 تک پہنچ چکی ہے، اس کے علاوہ 786 لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
ایک طرف ڈھٹائی سے پوری دنیا، انسانی حقوق کی بڑی بڑی تنظیموں اور اداروں کے دیکھتے بھالتے غزہ کی پٹی پر جیتے جاگتے نہتے انسانوں کا بتدریج یک طرفہ قتل عام جاری ہے تاکہ فلسطینیوں کا وجود مٹاکر سارا جھگڑا ہی نمٹا دیا جائے اور ان کی زمین ہتھیا کر ضم کرلی جائے، دوسری طرف فلسطین کے غرب اردن والے حصے میں بھی اسرائیل کے قبضے، تجاوزات اور در اندازیوں کا سلسلہ تسلسل اور پوری سفاکیت، بے رحمی اور دیدہ دلیری کے ساتھ جاری ہے۔ اسرائیل تین سال سے جاری یک طرفہ قتل عام میں اپنی ہی بدترین کارروائیوں کا ریکارڈ توڑتا جا رہا ہے، اس کی ہر کارروائی اس کی اپنی ہی پچھلی کارروائی کے مقابلے میں زیادہ بے رحم، سفاک اور خونریز ہوتی ہے۔ اسرائیل یہ سب امریکا کی ہی کامل سرپرستی اور اس کے ہر طرح کے تعاون سے ہی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت بظاہر امریکا اور اسرائیل کے دوران اختلافات کا تاثر دیا جارہا ہے اوریہ امر تو واضح ہے کہ اسرائیل کے وحشیانہ مظالم اور نسل کشی کے اقدامات نے امریکا میں رائے عامہ کو بہت حد تک اسرائیل کے خلاف کردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں شکست کے خوف سے صدر ٹرمپ اسرائیل سے کچھ فاصلہ رکھنے پر مجبور ہوئی ہے مگر اس وقت بھی امریکی اسٹیبلشمنٹ میں صہیونی لابی کا اثرو رسوخ نظر آرہا ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق امریکا کے نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ میں سیکشن 224 کی شمولیت کا بِل منظور ہونے کے بعد امریکا نے اسرائیل کے ساتھ عسکری تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عزم کیا ہے۔ اسرائیلی نواز امریکی حکام کا خیال ہے کہ یہ اقدام فوجی ٹیکنالوجی کی ترقی کو تیز کرے گا اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔امریکانے اپنی مکمل حمایت اسرائیل کے پلڑے میں ڈال رکھی ہے، وہ نہ صرف اسرائیل کے سیاسی اور سفارتی دفاع کا محاذ سنبھالے ہوئے ہے بلکہ اسرائیل کو دنیا بھر میں ہونے والی مخالفتوں کے اثرات سے بچانے کی ذمے داری بھی اس نے اپنے سر لے رکھی ہے۔ اسرائیل کی پشت پر امریکا کے ہاتھ کی وجہ سے ہی پوری دنیا چاہنے کے باوجود اسرائیل کا ہاتھ روکنے اور فلسطینیوں کا قتل عام روکنے سے قاصر ہے اور امریکا پوری ڈھٹائی کے ساتھ امن عالم کے تمام تقاضوں، اصولوں، جمہوریت، انسانیت اور حقوق کے اپنے ہی نظریات اور قوانین کو روندتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ درحقیقت یہ امریکا اور فلسطین جنگ بن چکی ہے، ایسا لگ رہا ہے اسرائیل امریکا کی اکیاون ویں ریاست ہے، جس کا تحفظ، دفاع، توسیع، تجاوزات، قبضے اور سارے جھگڑے امریکا کی وفاقی ذمے داری ہوں۔ اسی غیر مبہم پشت پناہی کا ہی نتیجہ ہے کہ اسرائیل اس صورتحال میں بھی بظاہر جنگ بندی کے باوجود غزہ میں قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے اور مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری میں توسیع کرتا جارہا ہے۔ دوسری طرف غرب اردن میں بھی وہ کسی ڈریگن کی طرح فلسطین کا رہا سہا وجود ہڑپ کرتا جا رہا ہے۔ ادھر یہ بھی اطلاعات مل رہی ہیں فلسطینیوں کو غزہ سے جبری طور پر نکالنے کی مہم میں ناکامی کے بعد”فری موومنٹ پلان” کے نام سے دھوکا دے کر غزہ سے فلسطینیوں کی آبادی کو مرحلہ وار نکالنے کی مہم شروع کردی ہے ۔ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود بمباری جاری رکھنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ غزہ کے باسیوں پر زندگی تنگ کرکے انہیں وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا جائے۔
بظاہر یہ ساری منصوبہ بندی امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کرکے وہاں عیاشی و فحاشی کے اڈے قائم کرنے کے دیرینہ عزائم کی تکمیل کے لیے کی جارہی ہے۔حالیہ رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ پیس بورڈ کے نام پر کئی ممالک سے حاصل ہونے والے اربوں ڈالرز اسی مقصد کے لیے اسرائیل کو دے دیے ہیں۔یہ صورت حال پورے عالم انسانیت کے لیے بالعموم اور عالم اسلام کے لیے بالخصوص ایک لمحہ فکریہ ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا کو اس وقت غزہ اور مغربی کنارے میں جاری نسل کشی پر خاموش نہیں رہنا چاہیے اور دنیا کے تمام باضمیر انسانوں کو فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے صہیونی منصوبے کے مقابلے میں اٹھ کھڑا ہوجانا چاہیے۔

