گزشتہ روز بنوں کے علاقے مرکہ بیرا میں 2 دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے۔ اس حوالے سے ڈی پی او یاسر آفریدی نے بتایا کہ دھماکوں کی زد میں ایک وین اور ایک گاڑی آئی، مسافر وین گاؤں ہاتھی خیل سے بنوں آ رہی تھی۔ یاسر آفریدی نے بتایا کہ پہلے دھماکے میں مسافر وین میں سوار 5 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ کچھ دیر بعد دوسرا دھماکا ہوا، جس میں امدادی کارروائی کرنے والے 2 افراد جاں بحق ہوئے۔ ڈی پی او یاسر آفریدی نے یہ بھی بتایا کہ دھماکا خیز مواد سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا، واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
جنوبی خیبر پختونخوا کے اضلاع بالخصوص بندوبستی علاقوں میں حالیہ عرصے کے دوران دہشت گردی اور بدامنی کے واقعات ایک بار پھر شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بنوں کے علاقے مرکہ بیرا میں ان دو دھماکوں نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ پورے خطے میں خوف و ہراس کی ایک نئی لہر بھی دوڑا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پہلے دھماکے میں ایک مسافر وین کو نشانہ بنایا گیا جس میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ بعد ازاں امدادی کارروائی کے دوران ہونے والے دوسرے دھماکے میں مزید دو افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کس حد تک بے خوف ہو چکے ہیں۔ بالخصوص اطلاعات کے مطابق اس پس منظر میں کہ خارجی دہشت گردوں نے یہ کارروائی علاقے کے بہادر عوام کی جانب سے علاقہ چھوڑنے کے انتباہ کے انتقام میں کی ہے۔ بنوں ہمیشہ سے بندوبستی علاقہ رہا ہے، جہاں ریاستی ادارے، پولیس، عدالتی نظام اور انتظامی ڈھانچہ فعال رہا ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ کچھ عرصے سے یہاں دہشت گردی کے تسلسل نے نہ صرف مقامی آبادی کو متاثر کیا ہے بلکہ پورے ملک کے امن و امان کے تصور کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ وہ علاقہ جو کبھی پرامن شناخت رکھتا تھا، آج بار بار دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی جڑیں افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں پروان چڑھیں، جہاں سے یہ آگ مختلف علاقوں میں پھیلی، اس کے باوجود قبائلی علاقے ہی شدت پسندی کا گڑھ رہے، تاہم اب ایسا لگ رہا ہے کہ خارجیوں نے پیش قدمی کرکے بندوبستی علاقوں تک اپنا اثر رسوخ بڑھا دیا ہے، جو ریاست کیلئے سخت لمحہ فکریہ ہے۔
بنوں میں حالیہ مہینوں کے دوران سیکورٹی فورسز، پولیس چوکیوں، حساس تنصیبات اور عام شہریوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ کہیں فورسز کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، کہیں پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا گیا اور کہیں سرکاری افسران کو اغوا کیا گیا۔ اس مسلسل صورتحال نے علاقے میں عدم تحفظ کے احساس کو گہرا کر دیا ہے۔ مرکہ بیرا کا حالیہ واقعہ اس لحاظ سے زیادہ سنگین ہے کہ اس میں نہ صرف عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ امدادی کارروائیوں میں مصروف افراد کو بھی بے رحم خارجیوں نے دھماکے کا نشانہ بنایا۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد عناصر انسانی ہمدردی اور اخلاقی حدود سے مکمل طور پر عاری ہو چکے ہیں اور ان کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ خوف اور تباہی پھیلانا ہے۔ افغانستان کی سرحدی صورتحال بھی اس پورے تناظر میں اہم کردار کی حامل ہے۔ سرحد پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں دہشت گرد عناصر کو تقویت فراہم کر رہی ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے اس حوالے سے متعدد بار سفارتی اور سیاسی سطح پر کوششیں کی ہیں، تاہم مطلوبہ نتائج اب تک حاصل نہیں ہو سکے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس اپنی کارروائیاں جاری رکھنے میں کسی حد تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا یہ مسئلہ صرف عسکری نہیں بلکہ ایک سیاسی، سماجی اور انتظامی چیلنج بھی ہے۔ اس کے حل کے لیے محض فوجی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ ایک جامع اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، مقامی سطح پر اعتماد سازی، معاشی ترقی اور سیاسی اتفاقِ رائے شامل ہو۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے ایک مشترکہ قومی موقف اپنائیں تاکہ دہشت گردی کے اس ناسور کا مستقل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ عوامی سطح پر شعور، اعتماد اور تعاون کے بغیر یہ جنگ مکمل طور پر جیتی نہیں جا سکتی۔ اسی طرح سرحدی نگرانی، داخلی سیکیورٹی نظام اور انٹیلی جنس ڈھانچے کو مزید مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ہماری فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل قربانیوں کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال بنے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف قربانیوں سے یہ مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا جب تک اس کے بنیادی اسباب کو سیاسی، سفارتی اور داخلی سطح پر سنجیدگی سے نہ دیکھا جائے۔ بنوں کے حالات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس لیے قومی سطح پر مستقل مزاجی، اتحاد اور مربوط حکمتِ عملی ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے مقامی سطح پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت نہایت ضروری ہے ورنہ حالات میں مزید بگاڑ کا خدشہ ہے جو کسی بھی طرف ملکی مفاد میں نہیں ہے۔

