ترنڈہ محمد پناہ: بیٹ پرارہ اور بیٹ دیوان کے علاقوں میں دریائے سندھ اور دریائے چناب کا کٹاؤ شدت اختیار کر گیا، جس کے باعث وسیع پیمانے پر تباہی پھیل رہی ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق دریا تیزی سے زرعی زمینوں، فصلوں اور رہائشی گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اب تک سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی دریا برد ہو چکی ہے جبکہ متعدد گھر بھی صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں تل، کماد، مونگ اور چارہ جات کی فصلیں دریائی کٹاؤ کی زد میں آ کر تباہ ہو رہی ہیں، لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی درخت بھی دریا میں بہہ گئے ہیں۔
دریائی کٹاؤ کی ویڈیو میڈیا کو موصول ہوئی ہے، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ دریا انتہائی تیزی سے کناروں کو کاٹ رہا ہے، ویڈیو میں زمین پر چارہ کھاتی ایک بھینس کو بھی اچانک دریا میں بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس نے دل دہلا دینے والا منظر پیش کیا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسلسل کٹاؤ کے باعث وہ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں، تاہم ان کی داد رسی کے لیے تاحال کوئی مؤثر حکومتی اقدام سامنے نہیں آیا۔
متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دریائی کٹاؤ کو روکنے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں اور علاقے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے سپر بند تعمیر کیا جائے۔

