غزہ:غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران جارحیت کے تسلسل اور کئی مقامات پر متاثرین تک پہنچنے میں مشکلات کے باوجود 16 شہداء اور 16 زخمی ہسپتالوں میں لائے گئے ہیں۔
وزارت نے اپنی روزانہ کی رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ ہسپتالوں میں لائے جانے والے شہداء میں 6 نئے شہدائ، ایک پرانے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہونے والا شخص اور 9 وہ شہداء شامل ہیں جنہیں ملبے تلے سے نکالا گیا ہے۔
وزارت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب بھی کئی متاثرین ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں جہاں تک پہنچنے سے ایمبولینس اور شہری دفاع کی ٹیمیں تاحال قاصر ہیں۔وزارت نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر 2023ء سے جاری جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد 73,090 اور زخمیوں کی تعداد 173,553 تک پہنچ گئی ہے۔
ادھرقابض اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں اور اپنی فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہفتے کو بھی پٹی کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں توپ خانے سے گولہ باری، فائرنگ اور عمارتوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے واقعات پیش آئے جبکہ جنگی طیاروں اور ڈرونز کی نچلی پروازوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
قابض فوج نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس شہر کے مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں میں متعدد عمارتوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا، اس دوران شہر کے مغربی آسمان پر اسرائیلی جنگی طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔
پٹی کے جنوب میں ہی اسرائیلی توپ خانے نے رفح شہر کے شمال مغربی علاقوں کو نشانہ بنایا جبکہ قابض افواج نے شہر کے مغربی حصوں میں فلیئر بم بھی فائر کیے۔غزہ شہر میں اسرائیلی ٹینکوں نے التفاح محلے کے مشرقی علاقوں کی جانب شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی توپ خانے سے محلے کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
دریں اثناء گذشتہ ہفتے کے دوران ایک ہزار چار سو تین یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد الاقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بولا۔ یہ کارروائی قابض اسرائیل کی پولیس اور ان کی خصوصی فورسز کی سخت سیکیورٹی میں کی گئی جس میں دھاوئوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ اور مسجد کے اندر ایک نیا حقیقت پسندانہ ماحول مسلط کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
یہ دھاوے قابض فوج کی طرف سے یہودی آباد کاروں کو فراہم کی گئی سہولیات کے ساتھ ہم آہنگ تھے جن میں صبح اور شام کے اوقات میں دھاوئوں کے دورانیے میں توسیع شامل ہے جس سے انہیں مسجد کے صحنوں کے اندر زیادہ وقت گزارنے کا موقع ملا۔
علاوہ ازیںفلسطینی علماء کونسل نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل انسانوں اور زمین کو نشانہ بنانے کے بعد اب اسلام کے شعائر اور مقدس مقامات کے خلاف جنگ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ مساجد، قرآن پاک، اذان اور مسجد اقصیٰ و مسجد ابراہیمی پر ہونے والے حملے صرف فلسطینی عوام پر نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی شناخت پر منظم حملہ ہیں۔
کونسل نے ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ قابض فوج تیزی کے ساتھ اسلام کی عبادتی علامات کو نشانہ بنا رہی ہے۔
دوسری جانب قابض اسرائیل کی افواج نے ہفتے کے روز فجر کے وقت مغربی کنارے کے متعدد گورنریوں میں وسیع پیمانے پر دھاوئوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے دوران گھروں میں تلاشی،گرفتاریاں اور یہودی آباد کاروں کی جانب سے دیہاتوں میں حملے کیے گئے جبکہ سخت فوجی اقدامات بھی نافذ رہے۔
رام اللہ اور البیرہ گورنری میں قابض فوج نے رام اللہ شہر کے وسطی علاقے اور شہر کے مشرق میں واقع قصبے المزرعہ الشرقیہ پر دھاوا بولا۔ اسی دوران یہودی آباد کاروں نے قابض فوج کی حفاظت میں رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع قصبے دیر جریر پر حملہ کیا۔
نابلس گورنری میں قابض فوج دیر شرف اور الطور چیک پوائنٹس کے راستے شہر میں داخل ہوئی۔ قابض فوج نے شہر کے مشرق میں حی المساکن الشعبیہ پر دھاوا بولا اور نابلس کے مغرب میں واقع اسکان الکہرباء میں گھر پر چھاپہ مار کر سابق اسیر عونی الشخشیر کو گرفتار کر لیا۔
اسی طرح شہر کے مشرق میں واقع عسکر القدیم کیمپ میں ایک اور دھاوے کے دوران نوجوان ابراہیم الفینو کو گرفتار کیا گیا۔چھاپوں کا سلسلہ طوباس گورنری تک پھیل گیا جہاں قابض فوج نے گورنری کے شمال میں واقع قصبے عقابا میں ایک گھر پر دھاوا بولا جس کے بعد طوباس شہر میں بھی ایک اور گھر کی تلاشی لی۔
یہ کارروائیاں گورنری کے جنوب میں واقع الفارعہ کیمپ پر دھاوے کے ساتھ کی گئیں۔جنین گورنری میں قابض فوج نے شہر کے جنوب میں واقع قصبے قباطیہ پر چڑھائی کی۔قلقیلیہ گورنری میں قابض فوج نے گورنری کے جنوب میں واقع قصبے عزبہ سلمان پر دھاوا بولا اور متعدد شہریوں کے گھروں کی تلاشی لی۔
الخلیل گورنری میں قابض فوج نے گورنری کے جنوب میں واقع قصبے دورا کے مغرب میں جبل طاروسا کے علاقے کے آسمان پر روشن کرنے والے بم (فلیئر بم) فائر کیے۔بیت لحم گورنری میں، یہودی آباد کاروں نے جنوب مشرق میں واقع گاؤں المنیہ میں فلسطینیوں کے گھروں کے درمیان گھوم پھر کر ان پر تشدد کیا اور ہنگامہ آرائی کی۔
الخان الاحمر گاؤں کے قرب و جوار میں یہودی آباد کاروں اور قابض اسرائیل کی افواج کے حملے کے نتیجے میں دو نوجوان زخمی جبکہ چار گرفتار ہو گئے ۔القدس گورنری نے اطلاع دی ہے کہ ایک یہودی آباد کار نے موٹر سائیکل کے ذریعے دو نوجوانوں کو ٹکر مار کر زخمی کر دیا۔
گورنری نے وضاحت کی کہ جب مقامی شہریوں نے یہودی آباد کاروں کی جانب سے گاؤں سے بھیڑیں چوری کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے کی کوشش کی تو قابض فوج نے گاؤں پر دھاوا بول دیا اور چار نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔
ادھرقابض اسرائیلی افواج نے الخلیل شہر میں واقع مسجد ابراہیمی میں لگاتار 14ویں روز بھی اذان دینے پر پابندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ساتھ نمازیوں کی آمد پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
دوسری جانب نیشنل بیورو فار ڈیفنس آف لینڈ اینڈ ریزسٹنس ٹو سیٹلمنٹ نے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کے لیے فوجی احکامات کے استعمال میں شدید اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک زمینوں پر قبضے کے لیے 114 فوجی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔اپنے ہفتہ وار جائزے میں بیورو نے واضح کیا کہ اس عرصے کے دوران جاری کیے گئے فوجی احکامات کی تعداد گزشتہ بیس سالوں کے دوران جاری کردہ کل احکامات کے برابر ہے۔

