سانحۂ کربلا اور امتِ مسلمہ کے لیے پیغام

دس محرم الحرام سن اکسٹھ ہجری کو عراق میں دریائے فرات کے کنارے کربلا کے مقام پر نواسہ ٔ رسول، جگر گوشۂ بتول،خانوادہ ٔ نبوت کے عالی مرتبت چشم و چراغ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت اور خاندانِ نبوت کے قتلِ عام کا وہ جگر سوز سانحہ پیش آیا جس پر آج تک مسلمانوں کے قلوب زخمی ہیں اور تاقیامت یہ سانحہ اہلِ اسلام کو تڑپاتا ہی رہے گا۔ مستند تاریخی روایات کے مطابق سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت اطہار کی مظلومانہ شہادت اس وقت کے حکمرانوں کے ظلم و جبر کا نتیجہ تھی۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ایک علمی موقف تھا جس کے نتیجے میں وہ یہ سمجھتے تھے کہ حکمران کے انتخاب کا وہی طریقہ درست ہے جو کہ خلفائے راشدین کا منہج تھا۔ اس موقف سے انحراف ان کے نزدیک درست نہیں تھا لہذا وہ اپنے اصول سے روگردانی کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ انھوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے تھے او رنہ ہی کسی علاقے پر مسلح جتھوں کے ذریعے تسلط حاصل کیا تھا۔ اس صورت ِحال میں جبکہ وہ خود تصادم نہیں چاہتے تھے،انھیں شہید کرنے اور ان کے ساتھ اہلِ بیت کے بے گناہ افرادبشمول ِ معصوم بچوں کو قتل کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں تھا لیکن اقتدار پر مسلط کچھ عناصر نے اقتدار و اختیار کی طاقت کو مصلحت کے ساتھ استعمال کرنے کی بجائے جبر وتشدد اور اپنی دہشت بٹھانے کے لیے آزمایا جس کے نتائج مسلم امہ کے قلب میں خنجر پیوست کرنے کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ تاریخِ اسلام کے اس اندوہناک سانحے کے اثرات آج بھی باقی ہیں۔

سانحہ کربلا سے مسلم مفکرین نے بہت کچھ نتائج اخذ کیے ہیں۔ ظلم،جبر اور دہشت کے استعمال کے باوجود یزید کی حکومت کامیاب نہ ہوسکی۔ سانحہ کربلا کے چند ہی سالوں میں مسلمانوں کو اپنی تاریخ کے عظیم ترین حوادث دیکھنا پڑے جن میں یزید کی فوج کے ہاتھوں اہلِ مدینہ کا قتلِ عام اور مکہ مکرمہ پر چڑھائی اور حرمین شریفین کی بے حرمتی جیسے الم ناک واقعات شامل ہیں۔ ان سانحات کا تسلسل حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت تک جاری رہا جو حجاج بن یوسف کے ظلم کا نشانہ بنے۔ وہ ظالم حکمران جن کے ہاتھ اہلِ بیت کے قتلِ عام سے بھی محفوظ نہ رہ سکے تھے، اپنے خاندان کے اقتدار کو ایک صدی بھی قائم نہ رکھ سکے۔ خود بنو امیہ کے عادل، نیک او ر صالح افراد ان جرائم سے بری الذمہ رہے اور انھوں نے اس ظلم کا ساتھ نہ دیا۔

سانحہ کربلا حق و باطل اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا استعارہ ہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے باطل اقتدار کو قبول نہ کیا۔انھوں نے امت کی اصلاح کی فکر کی اور اسلامی اقدار کی خاطر ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کا عملی درس دیا۔ مفکرین کے نزدیک یہ محض دوگروہوں کی جنگ نہ تھی بلکہ دراصل یہ نظریات کا ٹکراؤ تھا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا موقف شریعت اور عدل کے مطابق اور جبر کے خلاف تھا جبکہ ان کے مقابلے میں اختیار و اقتدار پر تسلط رکھنے والے انا، عناد اور مفاد کی وجہ سے ظلم پر اتر آئے تھے۔ ہر چندکہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بظاہر اس کوشش میں کامیاب نہ ہوئے اور انھوں نے اپنے موقف،نظریے اور اصول پر اپنی جان نچھاور کردی تاہم مسلم مفکرین کے مطابق ان کی قربانی سے اخلاقی فتح کا تصور اجاگر ہوتاہے۔ علماء کرام کے نزدیک اصولی موقف پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے اگر کسی عالم یا دینی رہ نما کی جان چلی جائے تو یہ اعلیٰ درجے کی شہادت شمار ہوگی کیوں کہ یہاں دین اور حق کی وجہ سے جان کی قربانی پیش کی جائے گی نہ کہ ضدو عناد اور کسی ذاتی مفاد کی وجہ سے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے قربانی دے کر ایک ایسی مثال قائم کی جو کہ رہتی دنیا تک اخلاقی فتح کا نمونہ بن گئی۔ انھیں بظاہر شکست دینے والے درحقیقت خود ہا ر گئے۔ اپنے عہد میں بھی انھیں عزت نہ ملی اوروہ تاریخ میںبھی رسوا ہوئے یعنی دنیا میں ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا جبکہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آج بھی اپنی قربانی،ایثار، جذبہ ٔ حریت اور نظریے پر ڈٹ جانے اور اصول سے انحراف نہ کرنے کی سبب تاریخ، ادب اور دینی تعلیمات کا نہایت اہم اور روشن باب ہیں۔

اگر عہدِ حاضر کو اسوۂ حسینی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہا ں بھی کربلا کی کچھ روایات اور مناظر کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی مثال اہلِ غزہ ہیں جو کہ عصر ِحاضر کے دجال یعنی اسرائیل کے ظلم و جبر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں لیکن بدترین مظالم، نسل کشی، اہانت اور تشدد کا نشانہ بننے کے باوجود یہ مظلوم لوگ اپنے عقیدے،نظریے اور اصولی موقف پر پامردی اور استقامت کے ساتھ قائم ہیں۔ فلسطینی مسلمان بالعموم اسوہ ٔ حسینی پر عمل کرتے ہوئے اس نظریے پر مکمل پختگی کے ساتھ قائم ہیں کہ فلسطین کی سرزمین انہی کی ہے۔وہ کبھی بھی مسجد ِ اقصیٰ،قبلہ ٔ اول، یادگارِ سفرِ معراج اور مسلمانوں کے اس عظیم روحانی مرکز سے دست بردار نہ ہوں گے۔ فلسطینی مسلمانوں کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھی آزادی، پاکستان ا ور اسلام کے ساتھ تعلق اور وابستگی کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ دونوں خطوں میں قابضین کے مظالم ستر سے زائد برس سے جاری ہیں لیکن یزیدی مزاج کبھی بھی حسین کے چاہنے والوں کا سر نہیں جھکا سکا۔بھارت جس طرح مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے دلوں سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ وابستگی کا جذبہ نہیں چین پایا اسی طرح وہ آزاد کشمیر میں فساد پھیلانے والے عناصر کی مدد سے اہلِ کشمیر کو بھی پاکستان سے منحر ف کرنے میںکامیاب نہیں ہوسکے گا۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اہلِ بیت کے ہمرا ہ میدانِ کربلا میں اس لیے شہید کردیے گئے تھے کہ انھوں نے ظالم کی انا،اس کے مفاد اور مسلمانوں کے امور نفسانی اغراض کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا تھا۔ آج دہشت گردی کے عالمی مرکز اسرائیل اور اس کے انسان دشمن لیڈر نیتن یا ہو کے شر وفساد بھڑکانے کی منصوبہ بندی اور مسلم امہ کو باہم لڑا کر شیطان صفت صہیونی درندوں کے عزائم کو ناکام بنا کر پاکستان اور اس کے دوست مسلم ممالک نے ثابت کردیا ہے کہ کرب و بلا کے میدانوں میں اہل ِحق کے پر چم ہمیشہ سربلند ہی رہیں گے اور ظلم و ستم کے ذریعے فتنہ و فساد بھڑکانے والوں کے سامنے حسینی لشکر سدِ سکندری کا کام دیتے ہی رہیںگے۔ اسلامی تاریخ میں سانحہ کربلا کے بعد رونما ہونے والے واقعات سے بھی اس امر کا اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ امت کے مخلص طبقات نے اسوۂ شبیری پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ امت کا عظیم مفاد مقدم رکھا۔اصلاحِ امت کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور شریعت کی بالادستی کو عقلی،منطقی،عدالتی، سماجی اور قانونی غرض ہر طرح ممکن بنانے کی کوشش کی۔ سانحہ کربلا کے شہیدوں کا اصل پیغام بھی یہی تھا۔