نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سرحد پار بہنے والے دریائوں سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور کرنے یا سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے کیونکہ بین الاقوامی قانون اور پابند معاہدوں کی خلاف ورزی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی نظام،ریاستوں کی ساکھ، باہمی اعتماد اور علاقائی امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب میں اسحاق ڈار نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے اور تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات،سفارت کاری اور معاہدہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے حل کرے جبکہ خبردار کیا کہ اگر پاکستان کے حصے کے پانی کا رخ موڑنے، فراہمی روکنے یا آبی حقوق میں کمی کی کوشش کی گئی تو اس کے جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
جنوبی ایشیا گزشتہ سات دہائیوں سے جس بنیادی مسئلے سے دوچار ہے، وہ صرف سرحدی تنازعات یا سیاسی اختلافات نہیں بلکہ بھارت کا وہ مستقل رویہ ہے جس کی بنیاد پاکستان دشمنی، بالادستی کے تصور اور علاقائی اجارہ داری کے خواب پر مبنی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ حقیقت مزید واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بھارت کی پاکستان سے مخاصمت صرف سفارتی بیانات یا وقتی کشیدگی تک محدود نہیں بلکہ کھیل کے میدان سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک، ثقافتی روابط سے لے کر تجارتی تعلقات تک اور علاقائی فورمز سے لے کر بین الاقوامی اداروں تک، ہر جگہ اس کی سوچ کا محور پاکستان کو نیچا دکھانا، اسے تنہا کرنا، کمزور کرنا اور ہر ممکن حد تک نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کی کوئی امید پیدا ہوتی ہے تو بھارت کی جانب سے کوئی نہ کوئی ایسا اقدام سامنے آجاتا ہے جو ساری امیدوں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ بھارت کے رویوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت دو اور دو چار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نئی دہلی کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد پاکستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا نہیں بلکہ اسے مسلسل دباؤ میں رکھنا ہے۔ اس مقصد کیلئے کبھی وہ دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات کا سہارا لیتا ہے، کبھی کھیلوں کو سیاست کی نذر کرتا ہے، کبھی عالمی فورمز پر پاکستان کیخلاف ماحول بناتا ہے اور اب پانی جیسے بنیادی انسانی حق کو بھی سیاسی ہتھیار میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق سندھ طاس معاہدہ دنیا کے چند کامیاب بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ 1960ء میں عالمی بینک کی ضمانت کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کی تقسیم کا ضامن ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا بھی مظہر ہے کہ پانی کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بن سکتا۔ افسوس بھارت کچھ عرصے سے اس معاہدے کو بڑے جارحانہ طریقے سے مسلسل مجروح کر رہا ہے۔ یکطرفہ اقدامات، معاہدے کی معطلی کی کوششیں، پاکستان کے حصے کے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے اعلانات اور ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہیں جانے دیں گے جیسے اشتعال انگیز بیانات اس امر کا ثبوت ہیں کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کو بھی اپنی سیاسی خواہشات کے تابع دیکھنا چاہتا ہے۔یہ صورتحال بین الاقوامی اداروں کیلئے بھی امتحان ہے۔ اگر کوئی ریاست بین الاقوامی معاہدوں کو اپنی سہولت کے مطابق معطل یا نظر انداز کرنے لگے تو پھر دنیا میں کسی بھی معاہدے کی حیثیت باقی نہیں رہتی اور دنیا ایک جنگل بن کر رہ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس مسئلے کو صرف قومی مفاد نہیں بلکہ عالمی نظام سے بھی جوڑتا آیا ہے۔پانی پاکستان کیلئے زندگی، معیشت، زراعت، توانائی اور غذائی تحفظ کی بنیاد ہے۔ دریائے سندھ کا نظام دنیا کے بڑے آبپاشی نیٹ ورک کو پانی فراہم کرتا ہے۔ کروڑوں ایکڑ زرعی اراضی، لاکھوں کسانوں کا روزگار، بجلی کی پیداوار اور کروڑوں شہریوں کی بنیادی ضروریات انہی دریاؤں سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ملک جان بوجھ کر پانی کے بہاؤ کو روکنے، اس کا رخ موڑنے یا اسے بطور دباؤ استعمال کرنے کی کوشش کرے تو اسے صرف سیاسی تنازع قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ قومی سلامتی پر براہِ راست حملہ تصور ہوگا، جس کا حوالہ وزیرخارجہ نے بھی دیا ہے۔
تشویش ناک امر یہ بھی ہے کہ بھارت کی یہ پالیسی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ کھیلوں میں پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک، علاقائی تنظیموں میں رکاوٹیں، سفارتی محاذ پر مسلسل مخالفت، تجارتی روابط کی معطلی اور اب آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش، سب ایک ہی ہندوتوائی سوچ کی مختلف شکلیں ہیں۔ یہ رویہ اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بجائے اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔اس کے برعکس پاکستان ہمیشہ مفاہمانہ روش کا مظاہرہ کرتا آیا ہے۔ پاکستان نے ہر دور میں بات چیت، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کے احترام پر زور دیا ہے۔ چاہے مسئلہ کشمیر ہو، تجارت ہو یا آبی تنازعات، پاکستان نے بارہا مذاکرات کی پیشکش کی، جبکہ بھارت نے یا تو انکار کیا یا ہر بار نئی شرائط عائد کر دیں۔ پاکستان دفاعی اور قانونی بنیادوں پر بات کرتا ہے، جبکہ بھارت کا طرزِ عمل ہمیشہ جارحانہ اور دباؤ پر مبنی رہاہے۔
جہاں تک پانی کے مسئلے کی بات ہے، بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کو محض پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ تنازع کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگر بھارت کو پانی کو بطور سیاسی یا جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی تو دنیا کے دیگر آبی تنازعات کیلئے بھی خطرناک مثال قائم ہوگی۔ آج سندھ طاس معاہدہ کمزور ہوگا تو کل دریائے نیل سمیت دیگر بین الاقوامی آبی معاہدے بھی خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کی حرمت کو یقینی بنائیں۔ اگر بھارت واقعی ایک ذمہ دار ملک بننا چاہتا ہے تو اسے طاقت کے اظہار کی بجائے قانون کی پاسداری، مذاکرات اور ہمسایہ ممالک کے حقوق کے احترام کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ پاکستان نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے، لیکن امن یکطرفہ خواہش سے قائم نہیں ہوتا۔ امن کیلئے دونوں طرفہ طور پر بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔ بصورت دیگر پانی کو ہتھیار بنانے کی سوچ نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن، ترقی اور مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

