کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر حملہ کرنے والے 3 دہشت گردوں کو ہلاک اور ایک زخمی افغان دہشت گرد کو گرفتار کرلیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق کالعدم جماعت الاحرار کے خوارج نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دھماکے کے بعد اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں رینجرز کے 3 جوان شہید اور 4 زخمی ہوئے۔ دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قوم کی حفاظت کیلئے یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے جوانوں کی شہادت کا بدلہ لینے کیلئے حملے کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرے گا۔
کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے ایک انتہائی حساس کیمپ پر خارجی دہشت گردوں کا حملہ پاکستان کی قومی سلامتی کیلئے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ اگرچہ پاکستان گزشتہ چند برسوں کے دوران دہشت گردی کیخلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے، تاہم اس تازہ حملے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ملک کے بڑے شہروں اور حساس عسکری و ریاستی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ کراچی جیسے معاشی اور تجارتی مرکز میں اس نوعیت کا حملہ اس امر کا مظہر ہے کہ دشمن عناصر پاکستان کے امن، استحکام اور اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کیلئے ہر ممکن حربہ آزما رہے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس حملے میں بھارتی حمایت یافتہ جماعت الاحرار سے وابستہ خارجی دہشت گرد ملوث تھے، جنہوں نے مرکزی گیٹ پر دھماکہ کرنے کے بعد کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ ماہرین بخوبی جانتے ہیں کہ اس قسم کے حملوں کا اصل مقصد کسی حساس عمارت میں گھس کر اہلکاروں یا شہریوں کو یرغمال بنانا، طویل عرصے تک مقابلہ جاری رکھنا، میڈیا کی توجہ حاصل کرنا اور زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا ہوتا ہے، تاہم اس حملے کا سب سے مثبت پہلو رینجرز کے جوانوں کی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، مستعدی اور جرات تھی۔ جیسے ہی دہشت گردوں نے دھماکے اور فائرنگ کے ذریعے اپنی موجودگی ظاہر کی، اہلکاروں نے لمحوں میں مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان کی پیش قدمی روک دی۔
فورسز کی جوابی حکمت عملی اتنی موثر اور بھرپور تھی کہ کچھ ہی دیر میں سارے دہشت گرد ڈھیر ہوگئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ اگرچہ اس معرکے میں رینجرز کے تین بہادر جوان شہید اور متعدد زخمی ہوئے، لیکن ان کی بروقت کارروائی نے دہشت گردوں کے اصل منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ یہ قربانی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر قیمت پر ملک کے دفاع کیلئے تیار ہیں۔اس کارروائی کا ایک انتہائی اہم پہلو ایک زخمی دہشت گرد کی گرفتاری بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گرفتار حملہ آور افغانی ہے۔ پاکستان مسلسل یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور ان کی مختلف ذیلی تنظیمیں افغانستان کی سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ، تربیتی مراکز، لانچنگ پیڈز اور منصوبہ بندی کے مراکز کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان بارہا افغان حکام سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دی جائے، مگر طالبان حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔افغان حکومت مسلسل اس بات کی تردید کرتی رہی ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، تاہم جب بار بار حملوں میں افغان پس منظر رکھنے والے شدت پسندوں کی موجودگی سامنے آتی ہے تو پاکستان کے خدشات مزید تقویت حاصل کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بہ امر مجبوری حق دفاع بروئے کار لاکر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی حکمت عملی اختیار کررکھی ہے۔ بین الاقوامی قانون بھی ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔
دوسری جانب اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ صرف عسکری کارروائیوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کیلئے مؤثر انٹیلی جنس، مضبوط سرحدی نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، داخلی سیاسی استحکام، علاقائی تعاون اور مؤثر سفارت کاری بھی ناگزیر ہے۔ اگر دہشت گرد سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرکے کراچی جیسے حساس شہر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت موجود ہے۔ اسی طرح دہشت گردوں کو ہدف تک پہنچانے میں مقامی سطح پر ان کے سہولت کاروں کا کردار بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ یقینا اس حوالے سے گرفتار خارجی سے ہونے والی تفتیش تمام ذمے داروں تک پہنچنے میں زیادہ مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔بہرحال ایسے واقعات سے سبق حاصل کرنا اور حفاظتی انتظامات کو مسلسل بہتر بنانا ہی مستقبل میں اس قسم کے حملوں کی روک تھام کا بہترین ذریعہ ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف بھرپور کارروائی کے عزم کا اظہار اس بات کا غماز ہے کہ ریاست اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ دہشت گردوں کا مقصد پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانا، عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنا اور ریاستی اداروں کو کمزور ظاہر کرنا ہے، مگر ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی قوم نے ہمیشہ دہشت گردی کیخلاف اپنی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور یہی قومی اتحاد دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔یہ حملہ ایک واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اس جنگ میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ ریاست کو جہاں دشمن کے ہر منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے اپنی عسکری اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، وہیں سفارتی سطح پر بھی ان تمام عناصر پر دباؤ بڑھانا ہوگا جو کسی نہ کسی شکل میں دہشت گردی کی سرپرستی یا سہولت کاری میں ملوث ہیں۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن امن اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردوں کو ہر محاذ پر شکست دی جائے اور کسی بھی ملک کی سرزمین کو پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہی قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔

