پاکستان کا اصولی موقف اور علاقائی کردار

اطلاعات کے مطابق پاکستانی نے افغانستان میں موجود دہشت گردی کے مراکز اور کیمپوں پر فضائی حملے کیے جن میں تیس کے قریب دہشت گرد مارے گئے۔ حکومت اور فوج کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے یہ کارروائی کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں کی ہے۔ دو روز قبل کراچی میں نیم فوجی دستوں کے ایک مرکز پر دہشت گردوں نے دھاوا بولا تھا۔ پہلے خودکش حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد چند دہشت گردوں نے ایمبولینس میں سوار ہوکر فوجی مرکز میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ خودکش حملے اور دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ سے موقع پر موجود چند اہل کار شہید ہوئے تاہم بروقت جوابی کارروائی میں ایک زخمی کے علاوہ تمام دہشت گرد واصلِ جہنم کر دیے گئے۔

گرفتار دہشت گرد کی بتائی ہوئی تفصیل کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی کے ایک گروہ جماعت الاحرار سے تھا اور انھوں نے افغانستان سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی۔ گفتگو کے لحاظ سے گرفتار دہشت گرد ناخواندہ، دینی و عصر ی ضروری تعلیم اور عقائد سے نابلد اور معاصر حالات و واقعات سے یکسر لاعلم معلوم ہوتا ہے۔ یہ امر واضح کرتا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردی کے کیمپوں میں کس قسم کے افراد کو بھرتی کر کے ان کی مخصوص انداز میں ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی تربیت کی جا رہی ہے۔ دہشت گرد کے انکشافات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے معاون و مددگار ملک میں موجود ہیں اور وہ سب ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ ہیں جس کا مقصد پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی آگ کو کسی بھی صورت جلاتے رہنا اور غریب، بے روزگار، ناخواندہ اور معمولی عقل و فہم رکھنے والے نوجوانوں کو اس آگ میں بطورِ ایندھن استعمال کرتے رہنا ہے۔ حملے کی ساخت بتا رہی ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے نوجوانوں کو قربانی کے بکرے کے طورپر استعمال کیا گیا۔ یہ بظاہر ایک سادہ گوریلا کارروائی تھی جس میں فلمی انداز میں ایمبولینس کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ امر یقینی ہے کہ اس حملے میں محض چند لوگ شریک نہیں تھے کیوں کہ وہ کراچی شہر سے بظاہر زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے۔ ہر چند کہ زخمی دہشت گرد کا بیان فی الوقت عدالتی ثبوت کے درجے میں نہیں تاہم متعدد شواہد کی موجودگی میں یہ بات واضح ہے کہ کراچی میں دہشت گردوں کے خفیہ سیل، معاون اور مددگار موجود ہیں۔

اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد ملک کے اندر دور تک حملوں کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دراصل ایسے حملوں مقصد پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا، اس پاکستان کی داخلی سلامتی کو مشکوک ثابت کرنا اور ملک کے خلاف پروپیگنڈے کو تقویت پہنچانا ہے۔ یہ اسی ہائبرڈ وار کا تسلسل ہے جو بھارت، اسرائیل اور افغانستان نے پاکستان کے خلاف باہمی شراکت داری کے ساتھ چھیڑ رکھی ہے تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر عالمِ اسلام کے حق میں کردار ادا کرنے سے روکا جا سکے اور اکھنڈ بھارت، گریٹر اسرائیل اور لویہ افغانستان کے ناپاک منصوبوں کو عملی طورپر آگے بڑھایا جا سکے۔ پاکستان نے جوابی کارروائی میں افغانستان کے اندر موجود دہشت گردی کے انہی مراکز کو نشانہ بنایا جہاں سے رینجرز پر حملے کی کارروائی کو منظم کیا گیا تھا تاہم وہ دماغ اور زبان جو ان کارروائیوں کے لیے احکامات جاری کر رہی ہے، پاکستان کے انتقام سے تاحال بچی ہوئی ہے۔پاکستان کی تمام تر کوششوں، سیکورٹی فورسز کی قربانیوں اور ان تھک کاوشوں کے باوجودافغان سرحد سے دہشت گردی کا سلسلہ مکمل طورپر تھم نہیں سکا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ دہشت گردوں کی نظریاتی، لسانی اور نسلی بنیادوں نیز سیاسی مفادات کے نتیجے میں کی جانے والی حمایت ہے جو اس ناسور کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر ورسوخ، مستحکم دفاعی قوت اور بھارت اور اسرائیل کے ناپاک عزائم کے سامنے ایک فولادی دیوار کے کردار نے اس کے دشمنوں کو اس کے خلاف متحد کر دیا ہے۔ لہٰذا پاکستان بھی فوجی اور سفارتی دونوں محاذوں پر اپنا کھیل کھیل رہا ہے۔ ایک طرف وہ اسرائیل کی شر انگیزی اور فتنے کے تدارک کے لیے ایران اور امریکا کے مابین مذاکراتی عمل اور مصالحت کو ہر قیمت پر ممکن بنانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے تو دوسری جانب وہ اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے جواب میں افغانستان میں گھس کر خوارج اور فتنۂ ہندوستان کے ایجنٹوں کو ٹھکانے بھی لگا رہا ہے۔ ملک کے اندر بھی قومی سلامتی کے تحفظ کی خاطر وسیع پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والے نظریاتی ہمدردوں کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا۔ پاکستان کو فوجی کاررائیوں اور سفارتی تعامل میں توازن بھی رکھنا ہوگا تاکہ افغانستان میں دہشت گردوںکے خلاف جنگ کو افغان عوام کے خلاف نہ سمجھ لیا جائے۔ علاوہ ازیں پاکستان کو اس بات کا بھی بہت خیال رکھنا ہوگا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریوں کا نقصان نہ ہو کیونکہ پاکستان کی افغان عوام سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق پاکستا ن کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی فوجی کارروائی محض جواب نہیں بلکہ یہ آپریشن غضب للحق کے اگلے مرحلے کا آغاز ہے۔ یعنی اگر کابل انتظامیہ دہشت گردوں کی سرپرستی سے باز نہیں آتی تو پاکستان مجبورااپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے افغانستان میں موجود تمام دہشت گردوں اور اس کے سرپرستوں کا قلع قمع کرے گا۔ اس اقدام کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس وقت بدقسمتی سے افغانستان گویا ایک ایسی ریاست بن چکی ہے جوکہ مکمل طورپر بھارتی پراکسی اور اسرائیل کی بی ٹیم کی شکل میں کام کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت افغانستان پر ایسے گروہوں کا تسلط ہے جوکہ علاقائی امن، پڑوسی ممالک کے ساتھ خیر سگالی پر مشتمل تعلقات اور بقائے باہمی جیسے کسی اصول یا انسانی اقدار کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ یہ دہشت گرد گروہ بھارتی اور اسرائیلی فنڈنگ کے ساتھ اپنی جڑیں پھیلا رہے ہیں اور آڑوس پڑوس کے ممالک کسی بھی وقت دہشت گردی کے کسی سنگین واقعے کا شکا ر ہو سکتے ہیں۔ ان حالات میں جبکہ خطہ پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان کسی جنگ کے خدشات کا سامنا کر رہا ہے، افغانستا ن میں موجود دہشت گرد گروہ دنیا کے لیے نئے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں لہٰذا پاکستان کو اپنے علاقائی کردار کو مزید اجاگر کرتے ہوئے سفارتی اور فوجی دونوں پہلوؤں کو استعمال کر رہا ہے۔ خطے کے امن کے لیے پاکستان کو اپنا ناگزیر کردار ادا کرنا بھی چاہیے۔