حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی حیات ِمبارکہ کے آخری لمحات

(مضمون: حافظ محمد ادریس)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو فلسطین سے واپس مدینہ شریف بھیجا گیا تو انہوں نے خلیفہ ثالث امیرالمومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی مجلس میں شام و فلسطین کے حالات بیان کرتے ہوئے ایک طویل خطاب کیا، جس میں انہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ”معصیت کے کاموں میں کسی کی اطاعت جائز نہیں، تم لوگ ہرگز برائی سے اپنے آپ کو آلودہ نہ کرنا“۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا خطاب تو طویل تھا۔ یہ محض اس کا خلاصہ ہے۔ کچھ دنوں کے بعد حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ واپس فلسطین چلے گئے اور باقی ماندہ زندگی وہاں تعلیم و تدریس اور لوگوں کی تربیت و تذکیر میں گزار دی۔ اُس وقت حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی عمر ستر سال سے اوپر تھی مگر تمام معمولات باقاعدگی سے اسی طرح جاری رکھے جس طرح جوانی میں اُن پر عمل کرتے تھے۔ بہرحال فطری طور پر اب عمررسیدہ ہونے کی وجہ سے جسمانی لحاظ سے کمزور ہوتے چلے جارہے تھے مگر ذہنی طور پر پوری طرح چاق و چوبند تھے۔ یادداشت بہت مثالی تھی۔ حجاز بالخصوص مدینہ منورہ سے بزرگ صحابہ کرام ؓحضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے اُن کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے آخری لمحات کا تذکرہ تاریخ اور حدیث کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ ملتا ہے۔ اپنی وفات سے کچھ دیر قبل حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے تمام خادموں، غلاموں اور ہمسایوں کو بلا کے لاﺅ اور وہ لوگ بھی جو اکثر میری مجلس میں آکر بیٹھا کرتے تھے، اُن سب کو کہو کہ میرے پاس تشریف لائیں۔ بڑے لوگوں کی پوری زندگی میں عظمت وعزیمت کے دیپ روشن رہتے ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے وقت سے لے کر آخر دم تک ایک سچے محب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک مخلص بندہ خدا کے طور پر ہمیشہ اگلی صفوں میں اور اعلیٰ مقام پر فائز رہے۔ اُن کے اندر علم و عرفان کی ایسی صلاحیت تھی کہ دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہجرت کے بعد صفہ پر پہلا مرکزِ علوم قائم ہوا تو اس کے پہلے استاد کے طور پر حضرت عبادہؓ ہی کا انتخاب ہوا۔ علم کی شمعیں روشن کرنے کے ساتھ بدر سے لے کر فتحِ مصر تک زندگی کے آخری سالوں تک معرکہ ہائے کارزار میں بھی بہادری کے سنگ ہائے میل نصب فرمائے۔ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے ادوار میں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے ہر میدان میں اپنا سب کچھ قربان کردینے کا عملی نمونہ پیش کیا اور اب دنیا کو الوداع کہنے کے وقت زندگی کے لمحات میں بھی حقِ نصیحت ادا کرنے کا خوب صورت اہتمام فرمایا۔
یہ بھی پڑھیں: کاش ہم بھی اُس زمانے میں ہوتے!
جب سب لوگ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوگئے تو انہوں نے بڑی رقت آمیز گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا: اے اہلِ ایمان! غالباً یہ میری زندگی کا آخری دن ہے اور آنے والی رات میری آخرت کی پہلی رات ہوسکتی ہے۔ تم لوگوں کا میرے ساتھ طویل عرصے سے تعلق رہا ہے۔ تم میں سے کسی کو بھی میرے ہاتھ یا میری زبان سے کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہو تو ہر شخص آئے اور مجھ سے بدلہ لے لے۔ یہ بات سن کر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کئی نوجوان فرطِ جذبات سے رونے لگے۔ پھر سب نے یک زبان کہا: آپ تو ہمارے لیے والد کی طرح تھے اور آپ نے تو ہم کو وہ کچھ سکھایا جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم سب لوگوں نے مجھے معاف کردیا؟ سب نے کہا: جی ہاں! اس موقع پر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے اللہ! میں تجھ کو گواہ بناتا ہوں۔ پھر فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھے معاف کردیا‘ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو معاف فرمائے۔
سب لوگ گوش بر آواز تھے۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ محسوس کررہے تھے کہ اب کوچ کا وقت آ گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: میری ایک بات سن لو شاید یہ آخری بات ہو۔ میں چلا جاﺅں تو مجھ پر نہ تو رونا ہے اور نہ کوئی غیراسلامی بات زبان سے نکالنی ہے۔ میری وفات کے بعد ہر شخص اچھی طرح وضو کرے اور مسجد میں نماز پڑھ کر میرے لیے مغفرت کی دعا کرے۔ میرے جنازے میں شرکت کے دوران اور اس کے بعد بھی میرے گناہوں کی معافی کے لیے اللہ سے عاجزی سے دعا کرنا۔ جاہلیت کی جتنی بھی رسمیں تھیں اُن سب کو اسلام نے ختم کردیا۔ میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ان کو مکمل طور پر ترک کر دینا اور اسلامی طریقے کے مطابق میرے جنازے اور تدفین کا عمل مکمل کرنا۔ اس موقع پر سب لوگوں پر ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹوں نے عرض کی: اباجان! ہمیں کوئی خصوصی وصیت کیجیے۔ آپ نے اس کمزوری کی حالت میں فرمایا کہ مجھے اٹھا کر بٹھاﺅ۔ بیٹھنے کے بعد فرمایا: اللہ کے بندو! تقدیر پر محکم ایمان رکھنا ورنہ ایمان خطرے میں پڑجائے گا۔ آپ کے ایک شاگرد مشہور تابعی حضرت ابوعبداللہ عبدالرحمن بن عسیلہ پر غم کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ رونے لگے۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں راضی برضا ہوں، تم رونا بند کرو اِن شا اللہ شفاعت کی ضرورت ہوگی تو اللہ کے دربار میں تمہاری شفاعت کروں گا۔ گواہی مانگی گئی تو تمہارے حق میں خیر کی گواہی دوں گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ کوئی حدیث ایسی نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور اس میں تم لوگوں کے لیے خیر ہو اور وہ تم سے بیان نہ کی ہو۔ ہاں! ایک حدیث ہے جو میں نے بیان نہیں کی وہ آج بیان کیے دیتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ’لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ‘کی گواہی دے گا اللہ تعالیٰ اُس پر دوزخ کو حرام کردے گا۔ ‘
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کی صفائی میں کم از کم 6 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا، پینٹاگون
جب حدیث بیان کرچکے تو اس عظیم صحابی رسول نے آخری سانس لیا اور سارا ماحول غم میں ڈوب گیا۔ قضائے الٰہی سے اللہ کا محبوب بندہ، رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا صحابی اس دنیا سے کوچ کرگیا۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کو بیت المقدس کے قریب ایک آبادی ’رملہ‘ میں دفن کیا گیا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر 73 سال سے اوپر تھی۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ بعض روایات کے مطابق آپ کے بیٹے ولید نے پڑھائی۔ آپ نے ا پنے پیچھے تین بیٹے چھوڑے جو سب کے سب صاحبِ علم تھے۔ بڑے بیٹے کا نام ولید دوسرے کا عبداللہ اور تیسرے کا داﺅد تھا۔ آپ کی بیٹیوں کے نام تاریخ میں مذکور نہیں۔ البتہ بیٹوں سے آپ کی آل اولاد شام کے علاقے میں کئی شہروں میں آباد ہوئی۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی آل اولاد میں بھی لوگ آپ کی جملہ خوبیوں کی جھلک محسوس کرتے تھے۔ ان میں سے اکثر دینی علم ہی سے وابستہ رہے۔ آپ سے مرویات کی تعداد 181 کے قریب ہے جبکہ آپ کے بیٹے بھی احادیت کے اہم راویوں میں شمار ہوتے ہیں۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ذکر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ آپ کے بڑے بھائی حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے ’ظہار‘ کیا تھا اور اسی کے جواب میں سورة المجادلہ نازل ہوئی تھی۔ ان کی اہلیہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا بہت مشہور صحابیہ تھیں۔ انہوں نے ہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تھی کہ جو مرد ظہار کرتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ کسی شخص کی بیوی اُس کی ماں کیسے ہوسکتی ہے۔ ان کی اس شکایت کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت خولہ رضی اللہ عنہا کی بات کو درست قرار دیا اور ظہار کرنے والے مردوں کو کفارہ ادا کرنے کا حکم اِرشاد ہوا۔ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا کے سوال کا جواب خود اللہ تعالیٰ نے دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا کا بہت احترام فرمایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ خولہ ؓجو بات بھی مجھ سے فرمائیں گی میں پوری توجہ اور مکمل ادب و احترام کے ساتھ سنوں گا، یہ تو وہ خاتون ہیں جن کی بات خدا نے آسمانوں میں سنی۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین!